برج خلیفہ پر لائٹ شو کے ذریعے بچے کی جنس ظاہر کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث

انس مروہ اور اصالہ المالح اپنی بیٹی میلا مروہ کے ساتھ

،تصویر کا ذریعہYotube/Anasala Family

،تصویر کا کیپشنانس مروہ اور اصالہ المالح اپنی بیٹی میلا مروہ کے ہمراہ اپنے ہونے والے بچے کی جنس ظاہر کرنے کی پارٹی کے موقع پر برج خلیفہ کے سامنے۔
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 4 منٹ

دبئی میں دنیا کی سب سے اونچی عمارت برج خلیفہ پر اہم مواقعوں پر موقع کی مناسبت سے لائٹ پروجیکشن یا روشنی کی عکاسی کی جاتی ہے۔ ماضی میں پاکستان اور انڈیا کے یوم آزادی کے موقع پر برج خلیفہ کو دونوں ملکوں کے قومی پرچم کے رنگوں سے بھی رنگا چا چکا ہے۔

مگر چند روز قبل جب ایک خاندان نے اپنے ہاں بچے کی پیدائش سے پہلے اُس کی جنس کے بارے میں اعلان کے لیے برج خلیفہ پر لائٹ پروجیکشن کروائی تو یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔

اب یہ سوچیں کہ اس طرح کی پارٹی پر کتنا خرچ آیا ہوگا؟ لیکن یہ جاننے سے پہلے کہ اس پر آنے والے خرچ کے اس پارٹی کے بارے میں کیا کہا جا رہا ہے پہلے آپ سے اس جوڑے کا تھوڑا سا تعارف کرواتے ہیں۔

یہ ویڈیو انس مروہ اور اصالہ المالح نامی سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے بچے کی پیدائش سے قبل اُس کی جنس کے اعلان کے موقع پر پارٹی کی تھی۔ ان دونوں سوشل میڈیا سٹارز کے انسٹاگرام پر کُل پانچ لاکھ فالوورز ہیں جبکہ یوٹیوب پر انس صالہ فیملی نامی چینل پر ان کے ساڑھے سات لاکھ سے زیادہ سبسکرائبرز ہیں اور ان کی ویڈیوز لاکھوں بار دیکھی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں

تو ہوا کچھ یوں کے ویڈیو کچھ روز قبل انفلوئنسرز کے یوٹیوب اکاؤنٹ اور برج خلیفہ کے ٹوئٹر اکاؤنٹس سے شیئر کی گئی۔ اس کے بعد روان نامی ٹوئٹر صارف نے اس ویڈیو کا کچھ حصہ شیئر کیا اور پھر کراؤن گوروّ نامی اکاؤنٹ سے شیئر کیے جانے کے بعد اس ویڈیو کو ٹوئٹر پر کافی توجہ حاصل ہوئی۔ اس ویڈیو کو اب تک تقریباً چھ لاکھ بار دیکھا جا چکا ہے اور اسے دیکھنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

کراؤن گوروّ نامی صارف نے لکھا کہ 'دبئی میں برج خلیفہ پر اپنے بچے کی جنس ظاہر کرنے کے لیے جوڑے نے پچانوے ہزار امریکی ڈالر ادا کیے۔'

اس بات کی تصدیق تو نہیں ہو سکی ہے کہ اس پر کتنی رقم خرچ ہوئی تاہم اطلاعات کے مطابق اس جوڑے نے اس پر کوئی پیسہ خرچ نہیں کیا ہے بلکہ یہ پرج خلیفہ تعمیر کرنے والی کمپنی ایمار پراپرٹیز کے ساتھ ان کے اشتراک کے ذریعے کیا گیا ہے۔

ثوبیہ

،تصویر کا ذریعہTwitter@Sobiaah23475954

اس پر ثوبیہ نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ 'اس کے لیے اتنی زیادہ رقم خرچ کرنے کا جواز نہیں دیا جا سکتا، اُنہیں یہ رقم بچے کے نام پر خیرات میں دے دینی چاہیے تھی۔'

ابیودن

،تصویر کا ذریعہTwitter@bidexdemi

ابیودن اوپیاومی نے ٹویٹ کی کہ 'میں پہلے پیسوں کے بارے میں کچھ کہنے لگا تھا لیکن پھر میں نے اُن کے جذبات دیکھے اور میرا پاس الفاظ نہیں۔ میرے جذبات بھی یہ دیکھ کر ابھرے۔ اگر آپ کے پاس استطاعت ہے تو آپ کو خوش ہونے کا حق ہے۔'

ٹوئٹر صارفین

،تصویر کا ذریعہTwitter@ChildOfAlba & @AppleMak19

ایک ٹوئٹر صارف نے بس اتنا لکھا کہ 'یہ وہ سب کچھ ہے جو ہماری دنیا میں غلط ہے'

ایپل میک نامی صارف نے لکھا کہ ’کیا میں ہی صرف اُن چند لوگوں میں سے ہوں جسے یہ ڈپریسنگ لگا۔ پچانوے ہزار کس چیز کے لیے؟

ٹوئٹر صارف

،تصویر کا ذریعہTwitter@faydss_

ایک ٹوئٹر صارف نے لکھا کہ 'معاف کریں یہ وڈیو بہت ہی خوبصورت ہے۔ اس میں سب کچھ اچھا ہے، آپ کو اُن کے خاندان کے بارے میں خاک نہیں پتہ۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اچھے لوگ ہوں جو ہر وقت خیرات کرتے ہوں۔ لوگوں کے بارے میں رائے قائم کرنا بند کریں اور انہیں خوش ہونے دیں۔ آپ امیر نہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ باتیں بنائیں۔'

بہت سے لوگوں نے کیلیفورنیا میں لگنے والی حالیہ آگ کی طرف بھی اشارہ کیا جس کے بارے میں حکام کا کہنا تھا کہ وہ بھی ایک بچے کی جنس ظاہر کرنے کی پارٹی کے دوران کی جانے والی آتش بازی سے لگی ہے۔ مشہور کامیڈین ٹریور نوا نے بھی بچے کی پیدائش سے پہلے اُس کی جنس ظاہر کرنے پر بڑی پارٹیاں کرنے کے خلاف ویڈیوز بنائی جو کافی مقبول ہوئی ہیں۔

ٹوئٹر صارف

،تصویر کا ذریعہTwitter@andisiwe__boya

ایک اور صارف نے لکھا کہ 'اُن کی دولت ہے جیسے چاہے استعمال کریں۔ میں تو بس اتنا جاننا چاہوں گا کہ اُن کے ملازمین کو کتنی تنخواہ ملتی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام ہونا ہی نہیں چاہیے۔'

رشی کماتھ

،تصویر کا ذریعہTwitter@rishikamath

رشی کماتھ نے لکھا کہ'دس ہزار لائیکس اور جوڑے کو برا بھلا کہنے والے کمنٹ اُس سے بھی زیادہ۔ کسی ایک نے بھی انہیں اپنے خاندان میں اضافے پر مبارکباد نہیں دی۔ جو ہوا سو ہوا۔ انہوں نے اتنے بڑے سٹنٹ کے لیے پچانوے ہزار دیے۔ جانے دیں۔ اُن کے لیے خوش ہوں! اگلی بار آپ نے اس طرح بڑی رقم خرچ کرنی ہو تو اس کے بجائے خیرات کر دیں۔'

ٹوئٹر صارف

،تصویر کا ذریعہTwitter@TeflonGeneral

ٹیفلون جنرل نامی صارف نے بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح یہ سوال پوچھا کہ 'میرے پاس بچے کی جنس ظاہر کرنے کی رواج کے بارے میں بہت سے سوالات ہیں۔ کیا اگر وہ لڑکی ہوتی تو وہ اتنے ہی خوش ہوتے؟'