روہنگیا پناہ گزین: بنگلہ دیش سے انڈونیشیا مہینوں کا سمندری سفر

کاکس بازار

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وقت اشاعت

چھ ماہ سمندری سفر کرنےکے بعد روہنگیا سے تین سو کے قریب پناہ گزین انڈونیشیا پہنچ گئے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ مچھیروں نے سماٹرا کے شمالی ساحل سے کئی میل کی مسافت سے ایک لکڑی کی کشتی کو دیکھا جو ان پناہ گزینوں کو روہنگیا سے لے کر آ رہی تھی۔

پولیس کے مطابق اس کشتی میں 297 افراد سوار تھے جن میں 14 بچے بھی شامل ہیں۔

جنوب مشرقی ایشیائی ملک میانمار میں روہنگیا کمیونٹی گذشتہ کئی برس سے ظلم اور استبداد سے تنگ آ کر ملک چھوڑ کر دیگر ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

روہنگیا بحران پر کام کرنے والے غیر منفعتی گروپ اور اس کے ارکان منصوبے کی ڈائریکٹر کرس لیوا کا کہنا ہے کہ سنہ 2015 سے انڈونیشیا میں روہنگیا پناہ گزینوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

کرس لیوا کا کہنا ہے کہ ان مہاجرین نے ملائیشیا کے لیے اپنے سمندری سفر کا آغاز مارچ کے آخر اور اپریل کے آغاز سے جنوبی بنگلہ دیش سے کیا تھا۔ مگر انھیں ملائیشیا اور تھائی لینڈ کے حکام نے کورونا وائرس کی پابندیوں کی وجہ سے واپس بھیج دیا تھا۔

انھوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ان پناہ گزینوں کو ساحل پر چھوڑنے سے قبل سمگلروں نے سمندر میں مزید پیسے دینے کا مطالبہ کر کے کچھ عرصے سے روک رکھا ہو گا۔

روہنگیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ان پناہ گزینوں میں سے ایک شخص پیر کو علاج کی غرض سے ہسپتال بھی گیا۔ پناہ گزینوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کی افسر اوکتینا کا کہنا ہے کہ اس وقت بہت سے پناہ گزینوں کی صحت خراب دکھائی دے رہی ہے۔

اطلاعات کے مطابق مقامی افراد نے ان پناہ گزینوں میں خوراک اور پہننے کے کپڑے تقسیم کیے۔ ایک مقامی فرد آئیشیا نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ یہ ہماری طرح کے انسان ہیں، اس وقت انھیں انسانی بنیادوں پر مدد کی اشد ضرورت ہے۔

رواں برس جون میں سو کے قریب روہنگیا جن میں سے اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی اس علاقے میں دو گروپوں میں آئے تھ

ان کے مطابق وہ چار ماہ کا سمندری سفر طے کرنے کے بعد یہاں تک پہنچے ہیں۔ اس دوران رستے میں انھیں سمگلروں نے نہ صرف مارا پیٹا بلکہ پانی بھی نہیں دیا اور زندہ رہنے کے لیے انھیں اپنا پیشاب پینے پر مجبور کیا گیا۔

کرس لیوا کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ ان تمام روہنگیا مہاجرین نے، جن کی مجموعی تعداد آٹھ سو تک بنتی ہے، رواں برس کے آغاز سے جنوبی بنگلہ دیش سے اپنے سفر کا آغاز کیا ہو۔

ان کا کہنا ہے کہ ان میں سے 30 پناہ گزینوں کی سمندر میں ہی موت واقع ہوئی ہے۔ برما سے آئے ان مسلم روہنگیا پناہ گزین کا پہلا پڑاؤ پڑوسی ملک بنگلہ دیش ہوتا ہے جہاں اب بھی پناہ گزینوں کے کیمپوں میں دس لاکھ تک روہنگیا رہ رہے ہیں۔ ان کیمپوں میں ہی انھیں سمگلر دو بڑے مسلم ممالک ملائیشیا اور انڈونیشیا لے جانے کا لالچ دیتے ہیں۔