شام کے صدر بشارالاسد نے کامیابی سے بغاوت کا مقابلہ کیسے کیا؟

بشارالاسد

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبشارالاسد کہتے ہیں کہ انھیں بیرونی قوتوں کے حمایت یافتہ باغیوں کا سامنا ہے
وقت اشاعت

شام کے صدر بشارالاسد نے آبادی کے ایک بڑے حصے کی بغاوت کے باوجود نو برس سے زیادہ عرصے تک اقتدار پر فائز رہ کر بہت سے عالمی مبصرین کو حیران کر رکھا ہے۔

تیونس اور مصر میں اپنے ہم عصر سربراہانِ مملکت کے برعکس، جب اُن کے اور ان کی حکومت کے خلاف سنہ 2011 میں مظاہروں کے سلسلے کا آغاز ہوا تو انھوں نے حزبِ مخالف کی آواز کو کچل ڈالنے کے احکامات جاری کیے، بجائے اس کے کہ وہ اسے برداشت کرتے۔

سکیورٹی فورسز کی سخت کارروائیوں سے مظاہروں کا سلسلہ رکنے کے بجائے ایک مسلح تصادم کی صورت اختیار کر گیا، جس میں بقول مخالفین کے پونے چار لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے، ایک کروڑ دس لاکھ افراد بے گھر ہوئے، متعدد شہر تباہ اور کئی ممالک شام کی خانہ جنگی میں مداخلت کرنے کے لیے شامل ہو گئے۔

یہ بھی پڑھیے

سنہ 2015 کے بعد روس اور ایران نے بشارالاسد کے حق میں حالات کو بدلنے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ ان دونوں ممالک نے باغیوں اور جہادیوں کو کئی علاقوں میں شکست دینے یا انھیں شمال مغربی صوبے ادلب تک محدود کرنے میں، شام کی حکومتی افواج کی مدد کی۔

ایک حادثاتی صدر

11 ستمبر سنہ 1965 میں پیدا ہونے والے بشارالاسد کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھا وہ شام کی مسندِ اقتدار پر بیٹھیں گے۔

صدر حافظ الاسد کے دوسرے بیٹے کے طور پر انھیں اپنی من پسند زندگی گزارنے کی کھلی چھٹی تھی۔ انھوں نے سنہ 1988 میں دمشق یونیورسٹی کے کالج آف میڈیسن سے میڈیکل کی ڈگری حاصل کی۔ اُس کے بعد امراضِ چشم (آفتھلمولوجی) میں سپیشلائزیشن کی، اور پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے لندن چلے گئے۔

اسد

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشناسد خاندان شام پر چار دہائیوں سے حکومت کر رہا ہے

اپنے بڑے بھائی باصل اسد کی سنہ 1994 میں ایک کار حادثے میں ہلاکت کے بعد بشارالاسد کو فوری طور پر برطانیہ سے طلب کر کے انھیں سیاسی سٹیج پر دھکیل دیا گیا۔

انھوں نے حمص میں شامی فوجی اکیڈمی میں داخلہ لیا اور تیزی سے ترقی کی منازل کرتے ہوئے سنہ 1999 میں کرنل کے عہدے تک پہنچ گئے۔

اپنے والد کے آخری دنوں میں بشارالاسد شام کو جدید بنانے کے نعرے اور انٹرنیٹ پھیلانے کے سب سے بڑے علمبردار بن کر ابھرے۔ انھیں اس وقت ملک کے اندر انسدادِ بدعنوانی کارروائیوں کا سربراہ بنا دیا گیا۔

اصلاحات کے ساتھ عِشوہ گری

جب ان کے والد کا ایک ربع صدی تک اقتدار میں رہنے کے بعد سنہ 2000 میں انتقال ہوا تو بشارالاسد کو صدر بنانے کے لیے سکیورٹی اداروں، افواج اور حکمران جماعت بعث پارٹی میں ان کے وفاداروں نے تمام حالات سازگار کر لیے ہوئے تھے۔

اس کے علاوہ اقلیتی فرقے ’علوی‘ جس سے ان کا تعلق تھا، وہاں بھی ان کی حمایت بڑھ چکی تھی۔

انھیں شام کی افواج کا کمانڈر ان چیف بنایا گیا اور ساتھ ہی وہ حکمران جماعت بعث پارٹی کے سیکریٹری جنرل منتخب ہو گئے۔ اس کے بعد ملک میں صدارتی ریفرنڈم ہوا جس سے ان کی صدارت کی توثیق ہو گئی۔

اسد

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنبشارالاسد اور ان کی برطانیہ میں پیدا ہونے بیوی عاصمہ نے ملکہ برطانیہ سے سنہ 2002 میں ملاقات کی تھی

حکومت کے سربراہ بننے کے کچھ ہی عرصے کے بعد انھوں نے سینکڑوں سیاسی قیدیوں کو رہا کیا اور تین دہائیوں کے بعد ایک آزاد اخبار شروع کرنے کی اجازت بھی دی۔ اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے دانشوروں کو سیاسی جلسے جلوس منعقد کرنے کی بھی اجازت دے دی۔

لیکن 'الربیع الدمشق' کے نام سے پہچانی جانے والی سیاسی بیداری کی تحریک کچھ عرصہ ہی چل سکی۔

سنہ 2001 سے دانشوروں کے جلسوں کو بند کرنا شروع کر دیا گیا، حزب اختلاف کے کئی چیدہ رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا اور صحافت کی آزادی پر پھر سے قدغنیں لگنے لگیں۔ پھر اُس پوری دہائی کے دوران ہنگامی حالات کا نفاذ رہا اور ان اقتصادی آزادیوں کو برقرار رکھا گیا جن سے طبقہِ امرا اور حکومت کے اتحادیوں کو فائدہ پہنچتا تھا۔

سنہ 2007 کے مئی کے مہینے میں ایک اور ریفرنڈم کے ذریعے 97 فیصد ووٹوں کی حمایت کے ساتھ جسے حزب اختلاف نے ایک ڈھونگ کہا، بشارالاسد مزید سات برسوں کے لیے صدر بن گئے۔

سخت گیر سفارت کاری

اپنی خارجہ پالیسی میں بشارالاسد نے شام کے تاریخی دشمن ملک، اسرائیل کے خلاف سخت گیر سفارت کاری کی پالیسی کو برقرار رکھا۔ اسرائیل نے شام کے علاقے گولان کی پہاڑیوں پر سنہ 1967 کی عرب-اسرائیل جنگ کے دوران قبضہ کر لیا تھا۔

صدر اسد نے زور دیا کہ اسرائیل کے ساتھ اُس وقت تک امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک اسرائیل یہ مقبوضہ علاقے 'مکمل طور پر' واپس نہیں کر دیتا ہے۔ شام ان تمام عسکری تنظیموں کی حمایت کرتا ہے جو اسرائیل کے خلاف برسرِ پیکار ہیں۔

سنہ 2003 میں صدر اسد نے امریکہ کی عراق میں فوجی کارروائی کی کھل کر مخالفت کی۔ شام کی عراق میں عسکریت پسند تنظیموں کی خفیہ امداد کی وجہ سے امریکہ ان سے کافی ناراض ہوا، لیکن ان کی یہ پالیسی شام اور اس خطے میں بہت مقبول تھی۔

شام

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنرفیق حراری کے ایک دھماکے میں ہلاکت کے بعد جب شام پر الزامات لگنا شروع ہوئے تو شام نے لبنان سے اپنی فوجوں کا انخلا کر لیا

شام جس کے پہلے ہی سے امریکہ کے ساتھ تعلقات کشیدہ تھے، سنہ 2005 کے بیروت کے دھماکے کے بعد اور بھی زیادہ خراب ہو گئے۔ اس بم دھماکے میں لبنان کے سابق وزیرِ اعظم رفیق حریری ہلاک ہوئے تھے۔

اس دھماکے کے لیے صدر اسد، شام کی سکیورٹی فورسز جنھیں لبنان میں ایک غالب طاقت حاصل تھی اور شام کی اتحادی شیعہ تنظیم حزب اللہ کو موردِ الزام ٹھرایا جانے لگا۔

بشارالاسد کے اس واقعہ میں ملوث ہونے کے الزامات کو مسترد کیے جانے کے باوجود، عالمی برادری کے غم و غصے نے شامی افواج کو لبنان سے نکل جانے پر مجبور کیا، جہاں وہ گذشتہ 29 برس سے موجود تھیں۔

’بیرونی سازش‘

جب سنہ 2011 میں شام کے جنوبی شہر درعا میں ہنگامے پھوٹ پڑے، اس وقت صدر اسد کو بالکل اندازہ نہیں تھا کہ وہ ان سے کیسے نمٹیں۔

پہلے پہل تو انھوں نے اصرار کیا کہ ان پُرتشدد ہنگاموں کی وجہ سے ان کی سیاسی اصلاحات کی کوششیں دب گئی ہیں، انھوں نے کہا کہ یہ ہنگامے شام کو غیر مستحکم کرنے کی بیرونی سازشوں کا حصہ ہیں۔

شام

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنابتدا میں صدر اسد نے چند شرپسند عناصر کو اپنے خلاف مظاہروں کا ذمہ دار ٹھہرایا

اس کے اگلے مہینے صدر اسد نے قابل نفرت ہنگامی حالت کے قانون کو ہٹا دیا جو کہ سنہ 1963 سے نافذ العمل تھا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی مظاہرین کے خلاف کارروائیاں بھی تیز کر دی گئیں، فوجیوں اور ٹینکوں کو شورش زدہ علاقوں میں 'بدمعاشوں کے مسلح گروہوں' سے لڑنے کے لیے تعینات کر دیا گیا۔

سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں اور صدر اسد کے اصلاحات کے اعلانات کے باوجود ملک کے ہر کونے میں مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔ حزب اختلاف کے مظاہرین نے پہلے پہل تو اپنے دفاع کے لیے لیکن بعد میں حکومت کی وفادار فوجوں کو اپنے علاقوں سے نکالنے کے لیے اسلحہ اٹھا لیا۔

سنہ 2012 کے جنوری کے مہینے میں صدر بشارالاسد نے بقول ان کے 'دہشت گردی' کو 'آہنی ہاتھوں' کے ذریعے کچلنے کے عزم کا اظہار کیا۔

صدر بشارالاسد نے ایک ایسے نئے آئین پر ریفرنڈم کرانے پر اصرار کیا جس نے آئین کی اس شق کو جس میں بعث پارٹی کو 'معاشرے اور ریاست کے رہبر' کا مقام دیا ہوا تھا، اُسے ختم کر دیا گیا اور اس طرح ایک سے زیادہ سیاسی جماعتیں بنانے کی اجازت دے دی۔

لیکن حزب اختلاف نے یہ اعلان بھی مسترد کر دیا۔

شام

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنشام کے کئی شہروں اور قصبوں کی طرح حُمص بھی اس خانہ جنگی سے تباہ و برباد ہو گیا ہے

اگلے چند مہینوں میں اس وقت صدر اسد پر دباؤ بڑھنے لگا جب باغیوں نے شمال اور مشرقی علاقوں پر قبضہ کرنا شروع کر دیا اور حزب اختلاف کے قومی اتحاد کو سو کے قریب ممالک کی جانب سے شامی عوام کی ایک قانونی طور پر نمائندہ تنظیم سمجھا جانے لگا۔

اُس برس کے اختتام تک جب ہلاکتوں کی تعداد 60 ہزار سے زیادہ ہو گئی، صدر بشارالاسد نے باغیوں کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا تھا جنھیں وہ 'اللہ کے دشمن اور مغرب کے ایجنٹ' کہتے تھے۔

کیمیائی ہتھیار

سنہ 2013 کے آغاز میں حکومت کی وفادار فوج نے ملک کے جنوبی اور مغربی حصوں میں باغیوں کے قبضے کو ختم کرنے کے لیے کارروائی شروع کی۔

شام کی ان فوجوں کو اس وقت بہت زیادہ تقویت حاصل ہوئی جب لبنان کی شیعہ ملیشیا حزب اللہ نے اپنے عسکری ونگ کے ارکان کو باغیوں کے خلاف جنگ کے لیے بھیجنا شروع کیا۔

شام

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشناقوام متحدہ کے ماہرین نے سنہ 2013 میں غوطہ میں ہوئے سارین گیس کے حملے کی ذمہ داری کسی پر بھی عائد نہیں کی تھی

اُسی برس اگست میں صدر اسد کو اس وقت اپنا دفاع کرنا پڑا جب ان کے حامیوں پر الزام عائد کیا گیا کہ دمشق کے مضافات میں ہوئے ایک حملے میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے گئے تھے۔

باغیوں کے زیرِ قبضہ غوطہ پر اعصاب شکن سارین گیس کے راکٹ حملے میں سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے تھے۔

امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے ان حملوں کے بارے میں طے کیا تھا کہ یہ حملہ حکومت کے حامیوں ہی نے کیا ہو گا، تاہم صدر بشارالاسد نے اس حملے کا ذمہ دار باغیوں کو قرار دیا تھا۔

اگرچہ مغربی طاقتوں نے اس حملے کے بعد تادیبی کارروائی کے طور پر شام پر فضائی حملے نہیں کیے، تاہم انھوں نے صدر اسد کو مجبور کیا کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں کے انسداد کے اقوام متحدہ کے ادارے او پی سی ڈبلیو کو شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تفصیل پیش کریں۔

اسد

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنحزب اختلاف نے سنہ 2014 میں صدر اسد کے دوبارہ انتخابات کو مسترد کردیا تھا

اس کے نتیجے میں شام کا کیمیائی ہتھیاروں سے دستبرداری کا عمل اس برس جون میں مکمل ہوا، وہی مہینہ جب صدر اسد نے تیسرے صدارتی انتخابات میں حصہ لیا جس میں انھیں اپنے زیرِ انتظام خطے میں 88 فیصد ووٹ ملے۔

کئی دہائیوں کے بعد دوسرے امیدواروں کے نام بھی پہلی مرتبہ بیلٹ پیپر پر شامل کیے گئے تھے، لیکن حزبِ اختلاف نے ان انتخابات کو بھی ڈھونگ قرار دیا تھا۔

اِسی برس موسمِ گرما میں صدر بشارالاسد کے حامیوں اور حزب اختلاف کے درمیان جنگ پر سے عالمی توجہ اُس وقت ہٹ گئی جب خطے میں نام نہاد دولتِ اسلامیہ نامی شدت پسند تنظیم، جس کے کنٹرول میں عراق اور شام کا ایک بڑا خطہ آچکا تھا اور اس نے اپنی 'خلافت' قائم کرنے کا اعلان کر دیا تھا، ایک نئی طاقت بن کر ابھری۔

اب دنیا کی ساری توجہ اس گروہ کی جانب مبذول ہو گئی تھی۔

روسی مداخلت

سنہ 2015 کے پہلے نصف میں شامی حکومت کو مسلسل کئی شکستوں کا سامنے کرنا پڑا جس کے دوران ملک کے شمالی علاقے ادلب سمیت کئی شہروں پر باغیوں کا قبضہ ہو گیا اور مشرقی خطے پر دولتِ اسلامیہ قابض ہو گئی۔

اپنے اتحادی کی اس تشویشناک حالت پر روسی صدر ولادیمیر پیوتن نے ستمبر میں صدر اسد کو بچانے کے لیے ایک بڑی فضائی کارروائی کا حکم دیا۔

حلب

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسنہ 2016 میں مشرقی حلب میں جنگ کے دوران روسی ائیر فورس کی کارروائی نے فیصلہ کن کردار ادا کیا

روسی فوج نے اعلان کیا تھا کہ اس کی فضائی کارروائی میں صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنایا جائے گا، لیکن حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ روسی طیاروں نے بار بار شامی مسلح گروہوں اور شہری علاقوں کو بمباری کا نشانہ بنایا۔

روسی مداخلت کے بعد شام میں صدر بشارالاسد کی پوزیشن پھر سے مستحکم ہو گئی۔

روسی فضائیہ کی شدید بمباری نے حلب کے مشرق میں سنہ 2016 میں اور مشرقی غوطہ میں سنہ 2018 میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے تحقیق کاروں نے شامی حکومت اور روسی فوج پر فوجی کارروائیوں کے دوران وسیع سطح پر جنگی جرائم کے الزامات عائد کیے ہیں جس کے نتیجے میں خبروں کے مطابق، سینکڑوں افراد ہلاک ہوئے اور دسیوں ہزاروں افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے۔

شام

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنروس کا کہنا ہے سنہ 2015 سے لے کر اب تک اس کے 63000 فوجیوں نے مختلف اوقات میں شام میں کارروائیوں میں حصہ لیا ہے

اقوام متحدہ اور او پی سی ڈبلیو کے مشترکہ تحقیقی مشن نے شامی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ سنہ 2017 میں خان شیخون نامی قصبے پر سارین گیس کے حملوں کی ذمہ دار تھی۔

حزبِ اختلاف کے صحت کے کارکنان کے مطابق اس حملے میں 80 شامی باغی ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ شامی حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ مشرقی غوطہ کے ایک قصبے دومہ پر کلورین گیس کے حملے میں بھی شامی حکومت ملوث تھی، جس میں بقول حزبِ اختلاف، 40 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اس مرتبہ کے الزامات کے بعد امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے شام کے خلاف فوجی کارروائی کی جس کے دوران 'شامی حکومت کی کیمیائی ہتھیاروں سے وابستہ تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔'

صدر اسد اور روسی حکومت نے جنگی جرائم کے الزامات کی تردید کی اور کہا کہ خان شیخون اور دومہ کے واقعات کی کہانی حزب اختلاف اور ان کی پشت پناہی کرنے والی مغربی قوتوں نے گھڑی تھی۔

ادلِب کی لڑائی

مشرقی غوطہ پر دوبارہ سے قبضہ کرنے کے بعد شامی حکومت کی حامی فوج نے مخالفین کے آخری تین مضبوط ٹھکانوں پر حملوں کی منصوبہ بندی شروع کی۔

انھوں نے مئی سنہ 2018 میں حمص کے شمالی علاقے پر قبضہ کیا پھر دو ماہ بعد درعا صوبے پر دوبارہ سے مکمل قبضہ کر لیا۔ پھر انھوں نے صوبہ ادلب 'آزاد' کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

اقوام متحدہ نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے 30 لاکھ نفوس والے اس شہر پر ایک بھرپور فوجی کارروائی کی تو بہت زیادہ خونریزی ہو گی۔ ان میں سے نصف آبادی نے شام کے دوسرے حصوں سے بے گھر ہو نے کے بعد ادلب میں پناہ لی تھی۔

ادلب

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنتقریباً دس لاکھ افراد جو ادلب میں پناہ لیے ہوئے تھے، ادلب کی سنہ 2018 اور سنہ 2019 کی لڑائیوں کے دوران پھر سے بے گھر ہوئے

صدر اسد اگرچہ رُکنا نہیں چاہتے تھے لیکن یہ حملہ اس ستمبر میں روس اور ترکی کے درمیان ایک معاہدے کی وجہ سے روک دیا گیا۔

اس معاہدے میں جنگی محاذوں سمیت اس خطے کو دو دشمنوں کے درمیان ایک غیر فوجی علاقہ قرار دے دیا گیا اور ادلب میں جنگ لڑنے والے جہادی جنگجؤوں کو وہاں سے پسپا ہونے کا موقع دیا گیا تھا۔

تاہم اس معاہدے پر مکمل طور عمل درآمد نہیں ہو سکا، اور ہوائی اور زمینی لڑائیوں کا سلسلہ جاری رہا۔

سنہ 2019 کے اواخر میں صدر اسد کی حامی فوجوں نے دوبارہ سے کارروائی شروع کی۔ سینکڑوں افراد مارے گئے اور ترکی اور روس کے درمیان مارچ سنہ 2020 میں ایک اور معاہدے کے طے پانے سے پہلے تک پانچ لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔

اس کے بعد حکومتی فوجوں کے زیرِ قبضہ آنے والے علاقوں میں اقتصادی بحران کے باعث مظاہرے شروع ہو گئے اور پہلی بار صدر اس مسئلے کی جانب توجہ دینے پر مجبور ہوئے۔

صدر بشارالاسد اس خانہ جنگی سے بچ نکلے ہیں لیکن شام کو اس جنگ کی ایک بہت بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے جس کا بوجھ اس ملک کو اگر کئی دہائیوں تک نہیں تو کم از کم کئی برسوں تک ضرور اٹھانا پڑے گا۔