مانچسٹر حملہ: حملہ آور سلمان عبیدی کے بھائی ہاشم عبیدی کو 55 سال قید کی سزا

ہاشم عبیدی

،تصویر کا ذریعہGMP

،تصویر کا کیپشنبم دھماکے کے اگلے روز ہی ہاشم عبیدی کو لیبیا میں گرفتار کیا گیا تھا
وقت اشاعت

مانچسٹر ایرینا میں حملہ کرنے والے سلمان عبیدی کے بھائی ہاشم عبیدی کو 22 افراد کے قتل میں ملوث ہونے کے جرم میں 55 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

ہاشم عبیدی نے اس بم حملے کے لیے اپنے بھائی کی مدد کی تھی جس میں 22 مئی 2017 کو 22 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے تھے۔

مانچسٹر ایرینا میں بم حملہ کرنے والے سلمان عبیدی کے بھائی نے اپنے خلاف سزا کے فیصلے کی سماعت کے لیے جیل کی کوٹھڑی سے نکلنے اور عدالت جانے سے انکار کر دیا تھا۔

ہاشم عبیدی کو اس سال مارچ میں سنہ 2017 میں مانچسٹر میں ہونے والے شدت پسند حملے میں 22 افراد کے قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔

یہ حملہ 22 مئی 2017 کو گلوکارہ آریانا گرانڈے کا کنسرٹ ختم ہونے کے بعد کیا گیا تھا۔

برطانوی عدالت اولڈ بیلی میں بتایا گیا کہ 23 ​​سالہ ہاشم عبیدی نے اپنے بھائی کی اس حملے کے لیے مواد اکٹھا کرنے میں مدد کی جس سے ’اچانک اور مہلک‘ دھماکہ کیا گیا۔

دو دن طویل سماعت میں اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کے رشتہ داروں نے اپنے بیانات پڑھ کر سنائے اور اسی سماعت کے اختتام پر عبیدی کو سزا سنائی گئی لیکن عبیدی نے عدالتی سماعت میں حاضری سے انکار کر دیا۔

مسٹر جسٹس جیریمی بیکر نے کہا کہ ’میرے پاس اختیار نہیں ہے کہ میں اسے طاقت کے استعمال کے ذریعے عدالت میں آنے پر مجبور کروں۔’

مانچسٹر میں پیدا ہونے والے عبیدی اُس وقت لیبیا میں تھے جب اُن کے بھائی نے دھماکہ خیز مواد کا استعمال کیا تھا۔ انھوں نے 22 مئی 2017 کو گلوکارہ آریانا گرانڈے کے کنسرٹ پر حملے کی منصوبہ بندی میں مدد فراہم کرنے کے الزام سے انکار کیا تھا۔

مقدمے کی سماعت میں ججوں کو بتایا گیا کہ کیسے دونوں بھائیوں نے حملے میں استعمال ہونے والا دھماکہ خیز مواد مل کر اکٹھا کیا۔

رواں برس مارچ میں ہاشم عبیدی کو قتل کے 22 مقدمات، حملے میں زخمی ہونے والوں کے اقدام قتل کا ایک الزام اور دھماکہ کرنے کی سازش کرنے کے جرم کا مرتکب پایا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

مانچسٹر حملے میں ہلاک ہونے والے افراد

،تصویر کا ذریعہFamily handouts

،تصویر کا کیپشناوپر (بائیں سے دائیں): لیزا لیس، ایلیسن ہوو، جورجینا کالنڈر، کیلی بریوسٹر، جان اٹکنسن، جین ٹوڈڈل، مارکن کلیس، ایلید میک لیڈ - درمیان میں (بائیں سے دائیں): انجلیکا کلیس، کورٹنی بوئل، سیفی راسوس، اولیویا کیمبل۔ ہارڈی، مارٹن ہیٹ، مشیل کس، فلپ ٹرون، ایلین میکیور۔ نیچے (بائیں سے دائیں): وینڈی فاؤل، کلوئی ردرفورڈ، لیئم ایلن کری، سوریل لیکزکوسکی، میگن ہرلی، نیل جونز

عدالت میں بتایا گیا کہ اگر عبیدی حملے کے وقت 21 سال سے زیادہ عمر کے ہوتے تو وہ عمر قید کی پوری سزا کے اہل ہوتے۔

مسٹر جسٹس جیریمی بیکر نے کہا کہ ’یہ معاملہ پارلیمان کے لیے ہے جو قانون سازی کرتی ہے جو عدالت کو اس کیس کے حالات میں عمر قید کی سزا کا حکم دینے سے روکتی ہے۔’

’ہم سب کے دل ٹوٹ چکے ہیں‘

اولڈ بیلی میں بتایا گیا کہ بعض متاثرہ افراد پر اثرات اور گواہان کے بیانات کو کھلی عدالت میں نہیں پیش کیا جانا چاہیے اس لیے جج ان بیانات پر علیحدگی میں غور کریں۔

زندہ بچ جانے والی کلیئر بوتھ جو خود بھی اس حملے میں زخمی ہوئی تھیں اُس وقت زار و قطار رونے لگیں جب انھوں نے 32 برس کی اپنی بہن کیلی بریوسٹر کی یاد میں اپنا بیان پڑھا۔

انھوں نے کہا کہ ’22 مئی 2017 سے ہمارا خاندان پہلے جیسا نہیں رہا۔ ہم سب کے دل ٹوٹ چکے ہیں۔

’یہ انتہائی ظالمانہ لگتا ہے کہ اس کی زندگی اتنی کم عمر میں ختم ہوگئی۔ میرے والد اپنی بیٹی کی شادی نہیں دیکھ سکے، میری ماں اُس کے ساتھ اُس کی شادی کے لباس کی خریداری کے لیے نہیں جاسکیں۔’

'بزدلی کی بھیانک حرکت'

کیرولن کرّی نے اپنے 19 برس کے بیٹے لیئم کری کی ایک تصویر اٹھائی ہوئی تھی جو اپنی گرل فرینڈ کلوئی رتھرفورڈ کے ہمراہ ہلاک ہوئے۔

انھوں نے کہا ’تم نے مجھ سے سونے سے زیادہ قیمتی چیز چھین لی ہے، ظاہری اور باطنی طور پر ایک خوبصورت لڑکا۔’

کلوئی رتھرفورڈ لیزا رتھرفورڈ نے کہا کہ ’بزدلی کے اس ہولناک فعل نے ہماری زندگی ہمیشہ کے لیے بدل دی’۔

انھوں نے مزید یہ بھی کہا کہ ’بیٹی کو کھونا ایک ایسا درد ہے جو کبھی ہمیں نہیں چھوڑتا۔’

فیگن مرّے جو ہلاک ہونے والے 29 برس کے مارٹن ہیٹ کی والدہ ہیں، انھوں نے کہا کہ وہ برطانوی وقت کے مطابق 22:31 جب بم پھٹا اُس سے پہلے سو نہیں سکتیں۔

انھوں نے کہا ’میرے دل کو اب بھی اس بات سے تسلی نہیں ملتی کہ میں گہری نیند سو رہی تھی جب میرا بیٹا زمین پر مردہ حالت میں پڑا تھا، مجھے اس پر شرم آتی ہے۔’