ہالینڈ: آخرت کے انتظار میں اپنے بچوں کو ’قید‘ رکھنے والا شخص گرفتار

ہالینڈ

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنچھ رکنی خاندان اس وقت منظرِ عام پر آیا جب ان کے ایک بچے نے مقامی شراب خانے آ کر ایک مشروب آرڈر کیا اور پھر وہاں موجود لوگوں سے مدد مانگی
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 3 منٹ

پولیس نے ہالینڈ سے تعلق رکھنے والے اس خاندان کے 67 برس کے سربراہ کو گرفتار کر لیا ہے جس نے پولیس کے مطابق گذشتہ نو برس اپنے بچوں سمیت فارم ہاؤس کے تہہ خانے میں چھپ کر ’آخرت کا انتظار‘ کرتے گزارے۔

یہ بات چند دن قبل منظرِ عام پر آئی جس کے بعد پولیس نے کارروائی کر کے اس خاندان کو تہہ خانے سے بازیاب کیا تھا۔

خاندان کے سربراہ کی گرفتاری آسٹریا سے تعلق رکھنے والے اُس شخص کی گرفتاری کے کئی گھنٹوں بعد عمل میں آئی ہے جس نے یہ زمین اس خاندان کو کرائے پر دے رکھی تھی۔

پولیس رپورٹ کے مطابق گرفتار کیے جانے والے دونوں افراد نے اپنا فرقہ بنا رکھا تھا اور نوجوانوں کو ان کی مرضی کے بغیر تہہ خانے میں قید رکھا گیا تھا۔

یہ کہانی منظر عام پر کیسے آئی؟

چند دن قبل ہالینڈ میں اس خاندان کے بارے میں یہ معلوم ہوا تھا کہ اس کے افراد نے گذشتہ نو برس اپنے فارم ہاؤس کے تہہ خانے میں چھپ کر ’آخرت کا انتظار‘ کرتے گزارے۔

اس خاندان کے بارے میں اس وقت معلوم ہوا جب ایک 25 سالہ نوجوان نے مقامی شراب خانے جا کر ایک مشروب آرڈر کیا اور پھر وہاں موجود لوگوں سے مدد مانگی۔

جان نامی نوجوان نے شراب خانے کے مالک کو بتایا کہ وہ کبھی سکول نہیں گیا اور وہ مدد مانگنے کے لیے بھاگ کر آیا ہے۔

اس کے بعد پولیس نے جب فارم ہاؤس پر چھاپہ مارا تو وہاں سے ان کو جان کے پانچ بھائی بہن، ان کے والد اور ایک 58 سالہ آسٹرین شخص ملا تھا جسے گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اس آسٹرین شخص پر بچوں کو ان کی مرضی کے خلاف قید رکھنے اور منی لانڈرنگ کے الزامات ہیں۔

پولیس نے تصدیق کی تھی کہ چھ نوجوان جن کی عمر 18 سے 25 کے درمیان تھی، ان میں چار خواتین اور دو مرد شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

پولیس افسر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپولیس نے خاندان کے سربراہ کو گرفتار کر لیا ہے

پولیس کے مطابق ان نوجوانوں نے اب حراست میں لیے گئے 67 سالہ شخص کی شناخت اپنے والد کے طور پر کی ہے لیکن مقامی انتظامیہ نے اب تک اس کی تصدیق نہیں کی ہے۔ والد کا نام گیرٹ جان وین ڈی بتایا گیا ہے۔

یہ بھی اطلاعات ہیں کہ فارم سے بڑی رقم بھی ملی ہے۔

ہالینڈ کے پبلک براڈ کاسٹر کا کہنا تھا کہ یہ فیملی دنیا سے الگ ہو کر تنہائی میں آخرت کا انتظار کر رہی تھی۔

مقامی شراب خانے کے مالک کرس ویسٹربیک نے اپنے بیان میں بتایا کہ کیسے ایک شخص ان کے شراب خانے میں آیا اور اس نے پانچ بیئر آرڈر کیں۔

’پھر میں اس سے باتیں کرنے لگا اور اس نے بتایا کہ کیسے وہ فرار ہو کر آیا ہے اور اسے مدد کی ضرورت ہے۔۔۔ پھر ہم نے پولیس سے رابطہ کیا۔‘

’اس کے لمبے بال تھے، گندی سی داڑھی تھی، پرانے کپڑے پہنے ہوئے تھے اور وہ پریشان معلوم ہو رہا تھا۔ اس نے بتایا کہ وہ کبھی سکول نہیں گیا اور وہ نو سال سے کسی حجام کے پاس بھی نہیں گیا تھا۔‘

اس نے بتایا کہ اس کے بہن بھائی ایک فارم پر رہتے ہیں اور وہ عمر میں اپنے بہن بھائیوں میں سب سے بڑا ہے اور جس طرح وہ رہتے تھے اسے وہ روکنا چاہتا تھا۔

فارم ہاؤس

،تصویر کا ذریعہEPA

،تصویر کا کیپشنپولیس کو اس دور دراز فارم ہاؤس سے ایک خفیہ کیمرہ بھی ملا ہے

پولیس کو اس دور دراز فارم ہاؤس سے ایک خفیہ کیمرہ بھی ملاہے۔

اس فارم ہاؤس کے قریبی گاؤں کا نام روئنرولڈ ہے جس کی اپنی آبادی صرف تین ہزار ہے۔ فارم ہاؤس گاؤں سے باہر ہے اور اس تک رسائی قریبی نہر پر ایک پل کے ذریعے ہے۔

یہ فارم بہت سے درختوں کے پیچھے چھپا ہوا ہے اور اس پر ایک بہت بڑا سبزیوں کا پلاٹ ہے اور ایک بکری ہے۔

ایک پڑوسی نے کہا کہ اس نے آج تک فارم پر صرف ایک شخص کو دیکھا تھا اور یہاں دیگر جانور جیسے کہ بطخیں اور ایک کتا موجود تھا۔

مقامی ڈاکیے کا کہنا ہے کہ اس نے آج تک اس گھر میں کوئی ڈاک نہیں پہنچائی۔ اس کا کہنا تھا کہ ’اگر آپ اس بارے میں سوچیں تو یہ بہت حیران کن بات ہے۔‘

کم از کم ایک رپورٹر کا کہنا ہے کہ اسے حکام کی جانب سے فارم ہاؤس کے قریب جانے سے منع کیا گیا تھا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

Presentational white space

پولیس نے بتایا کہ 58 سالہ آسٹرین شخص نے گرفتاری کے بعد حکام کے ساتھ تعاون سے انکار کیا اور اب وہ زیرِ تفتیش ہے۔

اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ یہ فیملی کتنا عرصہ تہہ خانے میں رہی ہے کیونکہ نو سال کا دورانیہ سب سے بڑے بیٹے کا دعویٰ ہے۔

اطلاعات کے مطابق ان بچوں کی والدہ 2004 میں انتقال کر گئی تھیں۔