کیا سول نافرمانی کی تحریک دنیا کو بچا سکتی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سوامی ناتھن نٹاراجن
- عہدہ, بی بی سی ورلڈ سروس
- وقت اشاعت
الانا بائرن کہتی ہیں کہ ’مارچ کرنا، درخواستوں پر دستخط کرنا اور ممبر پارلیمان کو خط لکھنا انقلابی تبدیلی لانے کے لیے کافی نہیں۔‘
وہ ماحولیات کے لیے مہم چلانے والے گروہ ایکسٹنکشن ریبیلیئن کی ترجمان ہیں۔ یہ گروہ گذشتہ سال لندن میں تشکیل دیا گیا تھا۔
یہ گروہ چاہتا ہے کہ 2025 تک کاربن کا اخراج صفر ہو جائے اور اس کو یقین ہے کہ ان کی عدم تشدد کی سول نافرمانی کے طریقے حکومتوں کو مجبور کر دیں گے کہ وہ یہ تبدیلی لائیں۔
لیکن ان کے یہ طریقے اب تک کتنے کارآمد رہے ہیں؟
یہ بھی پڑھیئے
عالمی احتجاج
اپنے اس مطالبے کے اظہار کے لیے اس گروہ نے دنیا بھر کے مختلف شہروں میں 7 اکتوبر سے دو ہفتے کے لیے مظاہرے شروع کیے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یہ گروہ پرتشدد نہیں لیکن جس طرح بائرن نے تسلیم کیا یہ ایسی تدبیریں ضرور استعمال کرتا ہے جس سے جھٹکا لگے۔ وہ عام طور پر یا تو شہر کے سب سے زیادہ مصروف ترین چوراہے بلاک کر دیتے ہیں یا اہم حکومتی دفاتر کا محاصرہ کر لیتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’ہم اقتصادی خلل کے بھی قائل ہیں تاکہ حکومتوں پر دبایا ڈالا جائے کہ وہ اس بات پر مائل ہوں جو ہم چاہ رہے ہیں۔‘
وہ چاہتی ہیں کہ معاشرے کے سبھی طبقوں سے لوگ ان کی سول نافرمانی کی مہم میں شامل ہوں۔
لیکن ایک جائزے کے مطابق برطانیہ میں اس گروپ کے طریقوں کی وجہ سے اس کے حماتیوں میں صرف 18 اور 24 سال کے نوجوانوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔
کامیابی کی شرح
لیکن پھر بھی ایکسٹنکشن ریبیلیئن کو اپنی کامیابی پر کوئی شک نہیں ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ برطانوی پارلیمان کے موسمیاتی تبدیلی کو ماحولیاتی ایمرجنسی کہنے کے اعلان کے پیچھے گروپ کے احتجاجوں کا ایک بڑا ہاتھ ہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
عالمی ماحولیاتی گروہ ایریکا چینویتھ اور ماریا سٹیفن کی تحقیق سے متاثر ہے جنھوں نے عدم تشدد کے احتجاجوں کی کامیابی کی شرح پر کام کیا ہے۔
تحقیق کاروں نے 323 پر تشدد اور تشدد کے بغیر تحریکوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا ہے۔
تحقیق کاروں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ 1900 سے لے کر 2006 تک کے ایک صدی سے زیادہ عرصے تک اپنے مقاصد حاصل کرنے کی حد تک عدم تشدد کی مزاحمت کا تشدد کے راستے سے دو گنا سے زیادہ اثر تھا۔
انھوں نے عدم تشدد کے احتجاج کی تعریف بھی بیان کی ہے۔
سکالرز نے سینکڑوں طرح کے بغیر تشدد کے طریقوں کی شناخت کی ہے جن میں علامتی احتجاج، اقتصادی بائیکاٹ، مزدوروں کی ہڑتالیں، سیاسی اور معاشرتی عدم تعاون، اور عدم تشدد کی مداخلت شامل ہے۔ جو اکثر گروہ مختلف پالسیوں کی حمایت یا مخالفت، مخالفین کے قانونی جواز کو کم کرنے اور مخالفین کے طاقت کے ذرائع کم کرنے کے لیے لوگوں کو حرکت میں لاتے ہیں۔
ڈائریکٹ ایکشن
ایکسٹنکشن ریبیلیئن کا کہنا ہے کہ ان طریقوں سے مقاصد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایکسٹنکشن ریبیلیئن کے شریک بانیوں میں سے ایک راجر ہالام نے اخبار دی گارڈیئن میں لکھے گئے ایک مضمون میں کہا کہ ’ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ’مورچہ بند سیاسی طاقت پر قابو پانے کے لیے صرف ایک طریقہ بڑے پیمانے عدم تشدد براہ راست وسیع کیمپین ہیں۔‘
نیو یارک میں ایکسٹنکشن ریبیلیئن کے سرگرم کارکنوں نے وال سٹریٹ میں ایک ’جنازہ‘ نکالا، جس میں کچھ نے اقتصادی ڈسٹرکٹ کے مشہور کانسی کے بیل پر نقلی خون پھینکا۔ اس طرح کے عوامل نے کئی ڈرائیور اور اہلکاروں کو غصہ دلایا۔
کئی لوگ جو اس طرح کے مظاہروں کی وجہ ہونے والے خلل سے تنگ آ جاتے ہیں اکثر کہتے ہیں کہ جمہوریتوں میں لوگوں کو اندر سے ہی تبدیلی لانی چاہیئے۔
لیکن امریکی سکالرز اس سے متفق نہیں۔
عدم تشدد کی تحریک رواتی سیاسی چینلز سے باہر ہوتی ہے، جو کہ اسے دوسرے عدم تشدد کے سیاسی عوامل سے مختلف بناتی ہے جیسا کہ لابیئنگ، انتخابی سرگرمیاں اور قانون سازی وغیرہ۔
الانا بائرن مانتی ہیں کہ یہ طریقے ہر جگہ پسند نہیں کیے جاتے۔ ’ہمیشہ لوگوں کے ناراض ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ جب تک ہم پر امن رہیں اور سیاسی لینڈ سکیپ میں ہر ایک سے فعال طور پر مشغول رہیں ہم کامیاب ہو جائیں گے۔‘
لیکن وہ کہتی ہیں کہ ان کے گروپ کا مقصد ہے کہ حکومتوں تک اپنا پیغام پہنچانے میں لوگوں کی مدد کریں۔
’ہم جمہوریت کے خلاف نہیں ہیں۔ سیاستدان لوگوں کی باتیں نہیں سن رہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ لوگوں کو بحران کا حل نکالنے کا موقع ملے۔‘
معاشرتی تبدیلی
پوری دنیا میں وسیع پیمانے پر معاشرتی تبدیلیوں کے لیے پر امن احتجاج ہوتے رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پروفیسر آئزک سوینسن کہتے ہیں کہ ’گذشتہ برسوں میں ہم نے جو سب سے اہم تبدیلیاں دیکھی ہیں وہ مقبول عدم تشدد کی سوک نافرمانی کی تحریکوں سے آئی ہیں۔‘
وہ سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی کے ڈیپارٹمنٹ آف پیس اینڈ کانفلکٹ ریسرچ میں پڑھاتے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’گذشتہ سال تیونس، الجیریا اور سوڈان میں عدم تشدد کی تحریکیں کامیاب رہیں جبکہ شام، بحرین اور لیبیا میں ناکامیاب رہیں۔‘
عدم تشدد کی تحریکیں عام طور پر حکومتوں کو تبدیل کرنے، حقِ خود ارادیت حاصل کرنے، غیر ملکی قبضے کے خلاف، اور جنس اور نسل کی برابری کے متعلق مختلف ایشوز، انسانی حقوق اور ماحول جیسے مسائل کے متعلق استعمال کی جاتی ہیں۔
عدم تشدد کے پیامبر
مہاتما گاندھی، مارٹن لوتھر کنگ اور نیلسن منڈیلا کو سول نافرمانی کو نئے طریقے سے سب سے پہلے استمعال کرنے والوں کے طور پر بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
گاندھی عدم تشدد کی تحریک کو ستیاہ گرا کہتے تھے جس کا مطلب ہے ’سچ کی فوج‘۔ ان کے فلسفے میں ہر عدم تشدد کی لڑائی مخالف کو بدلنے کے لیے کی جاتی ہے، اس کا دماغ اور دل جیتنے کے لیے۔
گاندھی سمجھتے تھے کہ سیاہ گرا کمزور کا ہتھیار نہیں ہے۔ ’ستیاگرا طاقتور کا ہتھیار ہے، اس میں کسی بھی حالت میں تشدد نہ کرنا شامل ہے، اور یہ ہمیشہ سچ کا اصرار کرتی ہے۔‘
بہت سے پہلے ان کے اس طریقے پر شک کرتے تھے لیکن ایک لمبی جدوجہد کے بعد جس میں متعدد بھوک ہڑتالیں، ریلیاں اور انتظامیہ کے ساتھ عدم تعاون شامل تھا، ان کے طریقے کارگر ثابت ہوئے اور انڈیا پر آبادیاتی قبضہ ختم ہوا۔
سب سے زیادہ پر اثر
پروفیسر آئزک سوینسن کہتے ہیں کہ کئی حالات میں عدم تشدد کے مظاہروں کے کامیاب ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عدم تشدد کی تحریکیں زیادہ تر اس وقت پر اثر ہوتی ہیں اگر وہ وسیع معاشرتی بنیادوں پر آبادی کے زیادہ حصے کو پسند آئیں، یا ان تحریکوں کے سامنے مقاصد ہوں، تکنیکی طور پر ان میں جدت ہو، اور عدم تشدد پر کاربند رہیں۔
سوینسن کہتے ہیں کہ لوگوں نے انتہائی خطرناک حالات میں بھی عدم تشدد کے احتجاج کا طریقہ اپنایا ہے۔
شام میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف شہری مزاحمت نے کئی شکلیں اختیار کیں، جن میں عوامی احتجاج (اگرچہ کم تھا)، عدم تعاون اور روز مرہ کی مزاحمت جیسے محتلف عوامل شامل ہیں۔
عوامی مقصد
دوسرے تحقیق کار کہتے ہیں کہ کچھ حالات میں سول نافرمانی جب سنگین نا انصافیوں کی تلافی کرتی ہے تو نہ صرف یہ جائز تصور کی جاتی ہے بلکہ قابلِ تعریف بھی سمجھی جاتی ہے۔
وارک یونیورسٹی کے کمبرلے براؤن لی کے مطابق ’سول نافرمانی نجی، انفرادی، کسی ویڈیو کو غیر قانونی طور پر ڈاؤن لوڈ کرنے جیسا غیر قانونی رویہ نہیں ہے۔‘
’یہاں ایک واضح عوامی مقصد ہونا چاہیئے۔ آپ کو حکام کو پہلے ہی بتانے کی ضرورت ہے کہ آپ قانون توڑنے جا رہے ہیں اور آپ اپنے اعمال کی ملکیت تسلیم کرنے کے بھی قابل ہوں۔‘
وہ کہتی ہیں کہ سول نافرمانی کامیابی کا آخری حربہ ہونا چاہیئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن مہم شروع کرنے کے لیے ہمیشہ لوگوں کو بڑے پیمانے پر حرکت میں لانا ضروری نہیں ہے۔
براؤن لی کہتی ہیں کہ ’ایک سفید فام مسافر کے لیے سیٹ خالی کرنے سے روزہ پارکس کے انکار کے ایک مزاحمتی عمل نے ایک بڑی تحریک کو جنم دیا۔‘
پیغام پر توجہ رکھیں
اکثر قابلِ ذکر احتجاج ناکام ہوئے ہیں۔ 60 سال سے زیادہ عرصے سے جاری تبتی بدھ مت کے پیرو کاروں کے عدم تشدد کے احتجاج کے بعد بھی ان کے ثقافتی، مذہبی اور سیاسی آزادی کے مطالبات پورے نہیں ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اگر ویسے دیکھا جائے تو اکثر ممالک نے جن میں امریکہ بھی شامل ہے آزادی مسلح بغاوت کے بعد حاصل کی۔
ایسی بھی کئی مثالیں ہیں کہ عوام نے اسلحے کے زور پر اقتدار چھین کر انقلاب کا راستہ ہموار کیا۔
لیکن اس سے بھی زیادہ مثالیں مسلح مزاحمت کے ناکام ہونے کی ہیں اور براؤن لی کہتی ہیں کہ عدم تشدد کا ایک بڑا فائدہ ہے۔
’تشدد کی ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ یہ پیغام کو مسخ کر دیتی ہے۔‘
’اگر آپ عدم تشدد کا راستہ اختیار کریں تو آپ پیغام پر توجہ رکھ سکتے ہیں اور اس سے کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔‘
























