ہالینڈ فائرنگ: پولیس نے مشتبہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا

،تصویر کا ذریعہ@POLITIEUTRECHT / TWITTER
ہالینڈ کی پولیس نے یوٹریکٹ میں ٹرام میں فائرنگ کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کر لیا ہے۔ ٹرام میں فائرنگ کے واقعے میں کم از کم تین افراد ہلاک اور پانچ زخمی ہو گئے تھے۔
یوٹریکٹ کے پولیس سربراہ راب وان بری نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو بتایا کہ مشتبہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ گرفتارکیے جانے والے شخص کو کہاں رکھا گیا ہے۔
ڈچ پولیس ایک 37 سالہ ترک شہری غوگمن طانش کو تلاش کر رہی تھی۔
ہالینڈ کی انسداد دہشتگردی پولیس نے کہا ہے کہ بظاہر یہ دہشگردی کا واقع ہے۔
اس سے پہلے پولیس نے کہا تھا کہ حملہ آور ایک سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں جنھیں پولیس ڈھونڈنے کی کوشش کررہی ہے۔
ٹرام میں فائرنگ کرنے والا شخص واردات کے بعد کار میں بیٹھ کر جائے وقوعہ سے سےفرار ہو کیا تھا۔
اس واقعے کے بعد یو ٹریکٹ میں تمام ٹرامزسروسز کو معطل کر دیا گیا اور سکولوں سے کہا گیا کہ وہ اپنے دروازے بند رکھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹرام میں فائرنگ کا یہ واقع مقامی وقت کے مطابق پونے گیارہ بجے (جی ایم ٹی 10:40) رونما ہوا۔
یہ بھی پڑھیئے
ڈچ انسداد دہشتگردی پولیس کے رابطہ کارپیٹر یاپ البرسبرگ نے کہا تھا کہ یہ ممکن ہے کہ حملہ آور ایک سے زیادہ ہوں۔
ہالینڈ میں خطرے کا درجہ سب سے انتہائی بلند سطح تک بڑھا دیا گیا ہے اور ایئرپورٹ اور مساجد کے حفاظت کےلیے پیرا ملٹری پولیس تعینات کر دی گئی ۔
اطلاعات کے مطابق مسلح پولیس جائے وقوع کے قریبی علاقے اوکتوبرپلین چوک کے قریب کے ایک گھر میں گھسنے کی تیاری کر رہی تھی ۔

،تصویر کا ذریعہEPA
پولیس نے ٹرام سٹیشن کے نزدیکی علاقے کو گھیرے میں لے کر لوگوں سے اپیل کی ہے وہ اس علاقے کی طرف نہ جائیں تاکہ ایمرجسنی سروسز اپنا کام کر سکیں۔
نیوزی لینڈ میں حملے کے بارے میں پڑھیے
مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق ڈچ انسداد دہشگردی کے رابطہ کار نے ایمرجنسی اجلاس طلب کر لیا ہے۔
وزیر اعظم مارخ رتے نے کہا ہے کہ اس حملے سے ہمارا ملک لرزگیا ہے، پولیس اور استغاثہ اصل حقائق جاننےکی کوشش کر رہے ہیں۔
نیدرلینڈ کی وزیر اعظم نے کہا کہ ابھی تک جو کچھ معلوم ہوا ہے وہ یہ ایک شخص نے ٹرام میں بیٹھے ہوئے لوگوں پر فائرنگ کی ہے۔
سکیورٹی سروسز نے یوٹریکٹ یونیورسٹی میڈیکل سینٹر سے کہا ہے کہ وہ زخمیوں کے علاج کے لیے ایک ایمرجنسی وارڈ مختص کریں۔
ایک عینی شاہد نے کہا ہے کہ حملہ آور اندھا دھند فائرنگ کر رہا تھا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ایک اور عینی شاہد نے ڈچ سرکاری نشریاتی ادارے این او ایس کو بتایا ہے کہ اس نے ایک زخمی عورت کو دیکھا ہے جس کے ہاتھ اور کپڑے خون آلود تھے اور اس نے عورت کو اپنی کار لا کر مدد کی۔ عینی شاہد نے بتایا کہ جب پولیس موقع پر پہنچی تو زخمی عورت بے ہوش تھی۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اس واقعے میں کتنے لوگ زخمی ہوئے ہیں اور ان میں سے کتنے شدید زخمی ہیں۔
اوٹریجٹ میں تمام ٹریمزسروسز کو بند معطل کر دیا گیا ہے اور سکولوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے دروازے بند رکھیں۔





















