جب امریکی مسلم صحافی نور التاجوری کو پاکستانی اداکارہ نور بخاری بنا دیا گیا

نور

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننور التاجوری کا کہنا ہے کہ غلط نمائندگی اور غلط شناخت امریکہ میں مسلمانوں کا مسئلہ رہا ہے
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 3 منٹ

معروف فیشن میگزین 'ووگ' نے مسلم امریکی صحافی نور التاجوری کو اپنے فروری کے شمارے میں پاکستانی اداکارہ کے طور پر بیان کرنے کے لیے معافی مانگی ہے۔

24 سالہ صحافی نور التاجوری نے کہا کہ انھوں جب اپنی تصویر کے سامنے نور بخاری کا نام چھپا دیکھا تو ان کا 'دل چور چور ہو گیا۔'

التاجوری نے کہا کہ امریکہ میں مسلمانوں کی 'غلط نمائندگی اور غلط شناخت' مسلسل مسئلہ ہے۔

انھیں سماجی رابطے کی سائٹوں پر اس معاملے پر اظہار خیال کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر حمایت مل رہی ہے۔

انسٹا گرام پر صحافی اور سرگرم رضاکار نور التاجوری نے رسالے کی ورق گردانی کرنے ک ویڈیو شیئر کی ہے جسے ان کے شوہر نے شوٹ کیا ہے۔

ابتدا میں ان کا جوش قابل دید ہے۔ انھوں نے کہا: 'یہ بہت ہی زبردست۔ میں بے خود ہوئی جا رہی ہوں۔'

لیکن جب انھیں غلطی نظر آئی تو انھوں نے کہا: رکو، رکو۔' بے یقینی کے عالم میں وہ میگزین بند کرتی ہیں اور کہتی ہیں: 'یہ کیا مذاق ہے؟'

اس پوسٹ کی زبان بعض قارئين کے لیے جارحانہ ہو سکتی ہے

Instagram پوسٹ نظرانداز کریں
Instagram کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Instagram کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Instagram ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

Instagram پوسٹ کا اختتام

اپنی پوسٹ میں نور التاجوری نے کہا کہ اس میگزن میں شائع ہونا ان کا خواب تھا لیکن انھوں نے اس پبلیکیشن کے بارے میں ایسا کبھی نہیں سوچا تھا جسے وہ 'اتنی عزت کرتی تھیں۔'

انھوں نے مزید کہا: 'میڈیا میں کئی بار میری غلط نمائندگی اور غلط شناخت کی گئی ہے یہاں تک کہ میری زندگی کو اس سے خطرہ بھی لاحق ہو گیا تھا، اور میں جہاں تک اس سے لڑنے کی کوشش کرتی ہوں ایسے مواقع سامنے آ جاتے ہیں جن سے میں خود کو شکست خوردہ تسلیم کرتی ہوں۔'

امریکی ٹی وی سی این این کا کہنا ہے کہ گذشتہ سال ان کی تصویر کو فلوریڈا میں اورلینڈو کے پلس نائٹ کلب میں فائرنگ کرنے والے بندوق بردار کی اہلیہ نور سلمان کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔

نور التاجوری ٹیڈ ٹاک میں شامل ہو چکی ہیں اور وہ ایک رضاکار کے طو پر مختلف مہم میں حصہ لیتی ہیں۔ سنہ 2016 میں وہ بالغوں کے ميگزین پلے بوا میں پہلی مسلم خاتون کے طور پر حجاب میں شائع ہوئی تھیں۔

ووگ نے کہا کہ 'انھیں اس غلطی پر واقعی بہت افسوس ہے۔'

نور التاجوری

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ميگزین نے کہا: 'تاجوری کی تصویر لینے اور ان کے کام پر روشنی ڈالنے کا موقع ملنے پر ہم بہت خوش تھے لیکن ان کی شناخت میں غلطی ایک تکلیف دہ غلطی ہے۔'

ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ میڈیا میں غلط شناخت کا وسیع معاملہ ہے اور بطور خاص غیر سفید فاموں میں۔ ہم مستقبل میں اپنے کام کے بارے میں مزید سنجیدہ اور ہوشیار رہیں گے اور ہم تاجوری اور بخاری کو اس سے جو شرمندگی پہنچی ہے اس کے لیے معافی مانگتے ہیں۔'

لیکن سوشل میڈیا پر بعض لوگوں نے ووگ کی معافی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور کہا کہ انھوں نے جو 'غیر سفید فام لوگوں' کا ذکر کیا ہے اس سے مراد کالے لوگ ہیں۔

سی این این سے بات کرتے ہوئے نور التاجوری نے کہا: 'ہم اس حمایت کے بہت ممنون ہیں جس کے سبب یہ بات چل نکلی ہے۔ یہ بات صرف میری غلط شناخت یا غلط نمائندگی کی نہیں ہے یہ ان تمام لوگوں کی بات ہے جو حاشیے پر ہیں جن کا ہمیشہ بعد میں خیال آتا ہے اور جو واقعی نظر نہیں آتے۔'