نیشنل جیوگرافک کا تصویری مقابلہ: 2018 کی بہترین تصاویر

نیشنل جیوگرافک
وقت اشاعت

پائلٹ اور فوٹوگرافر جیسن ٹوڈوروف نیشنل جیوگرافک میگزین کی طرف سے سالانہ منعقد کیے جانے والے معتبر نیشنل جیوگرافک فوٹوگرافی مقابلےکے فاتح قرار پائے۔

ان کی کھینچی گئی تصویر کو ’غیر حقیقی‘ کا نام دیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کی جانب سے لازمی قرار دیے گئے اخراج ٹیسٹ کو پاس کرنے کے لیے 2009 سے لے کر 2015 کے درمیان آوڈی اور ولکس ویگن نے ڈیزائن تبدیل کر کے ہزاروں گاڑیاں بنائیں جو اب کیلیفورنیا کے موحیوو صحرا کے بیچ کھڑی ہیں۔

’سکینڈل کے بعد ولکس ویگن نے لاکھوں گاڑیاں واپس منگوا لیں اور اس قسم کے مناظر دیکھنے میں آئے۔ میں امید کرتا ہوں ہم اپنے خوبصورت سیارے کو لے کر ذیادہ آگاہ اور پریشان ہوں۔‘

مقابلہ تین کیٹیگریز پر مشتمل تھا: جگہیں، قدرت اور لوگ

línea

جگہیں

ٹوڈوروف کی تصویر دس ہزار تصاویر میں سے جگہوں کی کیٹیگری اور مقابلے کی حتمی فاتح کے طور پر چنی گئی۔

نیشنل جیوگرافک

اس کیٹیگری میں دوسرے نمبر پر آنے والی تصویر نکولس موئر نے ٹیکساس میں کھینچی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’ریاست ٹیکسس کے قصبے رالز میں طوفان کے بعد ایک زنگ آلودہ فورڈ تھنڈربرڈ سرخ دھول میں اٹی ہوئی ہے۔‘

ٹوڈوروف کہتے ہیں کہ ’میرے پاس فوٹوگرافروں اور ویڈیوگرافروں کی ایک ٹیم تھی۔ یہ ہم پر ایک کامیاب عذاب کا آخری دن تھا کیونکہ ان 10 دنوں میں ہم نے 16 طوفان دیکھے۔‘

نیشنل جیوگرافک

کرسچن ورنر کی اس تصویر نے تیسرا انعام حاصل کیا جس میں شام کے شہر حمص کی عمارات ہیں جو اب کھنڈرات کا منظر پیش کر رہی ہیں۔

línea

قدرت

نیشنل جیوگرافک

قدرت کی کیٹیگری میں تنزانیہ میں اتاری گئی اس تصویر کے فوٹوگرافر پِم پولکر فاتح قرار پائے۔ ’تنزانیہ میں صبح سویرے میں نے پاڑہ ہرنوں کو دریائے مارا پار کرتے دیکھا۔ پاڑ ہرنوں پر پڑتی سورج کی کرنیں، دھول کے تہیں اور چھاؤں اس تصویر کو پُراسرار اور دلچسپ بناتی ہیں۔

وولکرز کا کہنا ہے کہ ’یہ تصویر ایک پرانی پینٹنگ کی طرح دکھتی ہے۔ مجھے اس غیرحقیقی منظر کو سمجھنے کے لیے تصویر کی باریکیوں کو غور سے دیکھنا پڑتا ہے۔‘

نیشنل جیوگرافک

اسی کیٹیگری میں دوسرا انعام جوناس بیئر کی گرین لینڈ میں کھینچی گئی بیل کی تصویر کو ملا۔

نیشنل جیوگرافک

اس کیٹیگری میں تیسرا انعام جنوبی افریقہ میں اتاری گئی الیسن لانگ ایوود کی دو سفید گینڈوں کی تصویر کو دیا گیا۔ ’زیمانگا گیم ریزرو کے ایک نالے پر رات کو دو سفید گینڈے اندھیرے سے نکل کر پانی پینے آئے۔ انھوں نے پانی پینے سے پہلے دونوں اطراف دیکھا اور پھر نالے میں سر جھکا لیا۔‘

línea

لوگ

نیشنل جیوگرافک

اس کیٹیگری میں پہلا انعام میا کولِس کو دیا گیا جن کی اس تصویر کے بارے میں دلچسپ کہانی ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ’میں نے نیروبی میں جھونپڑیوں کے ایک بڑی بستی کیبیرا میں ویکینڈ سٹوڈیو کے ڈیوڈ مویو چوکیرا کی بطور فوٹوگرافر آخری دن پر یہ تصویر لی۔ انھون نے وہاں پر 37 سال کام کیا اور اس دن ویکینڈ سٹوڈیو ہمیشہ کے لیے بند ہو رہا تھا۔ کیمروں کی جگہ اب موبائل فونز نے لے لی ہے اور ان کے کام کی مانگ اب بہت کم ہو گئی ہے۔‘

نیشنل جیوگرافک

ٹاڈ کینیڈی کی تصویر کو دوسرا انعام دیا گیا۔ انھوں نے تصویر کے پیچھے کی کہانی کی وضاحت کی کہ ’گھر والوں کے ساتھ تعطیلات پر سِڈنی سے الورو جاتے ہوئے ہم اندرون آسٹریلیا کے نِنگن نامی چھوٹے سے گائوں میں سڑک کے کنارے واقع ہوٹل میں ٹھرے۔ اس علاقے میں گندم کے کھیت ہیں اور سال کے اُس وقت کے لیے وہاں کافی زیادہ گرمی تھی۔ وہاں کا درجہ حرارت 37 سینٹی گریڈ سے زیادہ تھا، فضا گردآلود تھی اور ہماری بیٹی جینی سِنک میں پڑی ربر کی بطخ میں نہا رہی تھی۔‘

نیشنل جیوگرافک

اس کیٹیگری میں اویشیک داس کی تصویر تیسرے انعام کی حقدار ٹھہری۔ تصویر میں مغربی بنگال میں چھرک پوجا کے دوران ایک ہندو بھکت اپنے نومولود بچے کو چوم رہا ہے۔

۔