لائیو, تحریکِ انصاف کا لانگ مارچ اب 4 اکتوبر کو پشاور سے روانہ ہو گا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا اعلان
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کا لانگ مارچ 4 اکتوبر کو اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گا۔ پشاور میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پولیٹیکل کمیٹی نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہمارا لانگ مارچ اتوار کے چار اکتوبر کو پشاور سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہو گا۔
خلاصہ
اٹک پُل پر رکاوٹیں مزید سخت: لانگ مارچ ضرور ہو گا، حتمی فیصلہ پولیٹیکل کمیٹی کرے گی، سہیل آفریدی
اڈیالہ جیل کے قریب مارچ یا احتجاج نہ کیا جائے، میرے والد کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے: قاسم خان
چینی صدر کا ایران اور امریکہ پر ’اسلام آباد معاہدے‘ کی طرف واپسی کے لیے زور
اگر امریکہ بعض شرائط پوری کر دے تو آبنائے ہرمز سات روز میں کھول دی جائے گی: ایرانی وزیرِ خارجہ
لائیو کوریج
تحریکِ انصاف کا لانگ مارچ 4 اکتوبر کو اسلام آباد کے لیے روانہ ہوگا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا اعلان, بلال احمد، بی بی سی اردو، پشاور
،تصویر کا ذریعہPTI
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے
لانگ مارچ کی نئی تاریخ چار اکتوبر مقرر کر دی ہے۔
وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں پریس
کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ سیاسی کمیٹی کے
اجلاس میں متفقہ طور پر لانگ مارچ کی تاریخ چار اکتوبر مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا
ہے۔
انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی
جماعت ہے اور پُر امن سیاسی جدوجہد پر یقین رکھتی ہے۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا: ’یہ لوگ
چاہتے ہیں کہ ہمیں اشتعال دلایا جائے، لیکن ہم ان کے اشتعال میں نہیں آئیں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ اگر عدالتیں انصاف
کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کریں تو عمران خان ’آدھے گھنٹے میں رہا ہو سکتے ہیں۔‘
وزیر
اعلیٰ نے الزام عائد کیا کہ پارٹی کارکنوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے اور سیاسی
سرگرمیوں میں رکاوٹیں ڈالی جا رہی ہیں۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ کارکنان لانگ
مارچ کی نئی تاریخ پر مطمئن ہیں اور پارٹی قیادت کے فیصلے کی حمایت کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے ٹاس جیتا
ہے۔ لانگ مارچ اپنے مطالبات منوانے کے لیے کر رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ مذاکرات
ہوں، لیکن اس وقت جو لوگ نکلیں گے وہ ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دیں گے۔‘
پریس کانفرنس میں وزیر اعلیٰ
خیبر پختونخوا نے کہا کہ تحریک
انصاف اپنے مطالبات کی منظوری تک واپس نہیں جائے گی۔
’ہم
اپنے مطالبات منوائے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔ لانگ مارچ کی تاریخ آگے بڑھانا ہمارا
سیاسی حربہ ہے۔‘
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی آج رات 9:30 بجے پریس کانفرنس کریں گے: شفیع جان
،تصویر کا ذریعہScreengrab
خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع جان نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور آج رات ساڑھے نو بجے وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں اہم پریس کانفرنس کریں گے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے پیغام میں شفیع جان نے لکھا کہ وزیر اعلیٰ ’سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ ہاؤس خیبر پختونخوا میں ساڑھے نو بجے اہم پریس کریں گے۔‘
بلوچستان میں سکیورٹی فورسز کے مختلف آپریشنز، 33 مبینہ شدت پسند ہلاک: آئی ایس پی آر
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو
فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان میں جاری انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران 21 ستمبر سے اب تک مجموعی طور پر 33 مشتبہ شدت پسند ہلاک کیے جا چکے ہیں۔
آئی ایس پی آر سے جاری بیان کے مطابق ’24 ستمبر کو آپریشن شابان کے تسلسل میں سکیورٹی فورسز نے شدت پسندوں کے مزید ٹھکانے تباہ کیے۔ بیان کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں پانچ مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوئے، جس کے بعد سکیورٹی اداروں کے آپریشن میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 22 ہو گئی۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں سے اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکہ خیز مواد بھی برآمد کیا گیا اور علاقے میں تاحال کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
فوج کے مطابق ایک اور کارروائی 25 ستمبر کو ضلع نوشکی میں انٹیلیجنس اطلاعات کی بنیاد پر کی گئی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے عسکریت پسندوں کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا اور فائرنگ کے تبادلے کے بعد 11 مشتبہ شدت پسند ہلاک ہو گئے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں نیشنل ایکشن پلان کے تحت جاری رہیں گی۔
’ہم اپنی مرضی سے آئیں گے‘: وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شفیع جان کا عطا تارڑ کی پریس کانفرنس پر ردعمل
خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات شفیع
جان نے وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ
’ہم اپنی مرضی سے آئیں گے، جبکہ ان کی چیخیں بتا رہی ہیں کہ عمران خان اور سہیل
آفریدی جیت چکے ہیں۔‘
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری
اپنے بیان میں شفیع جان نے کہا کہ حکومتی حلقوں کے بیانات ان کی پریشانی کو ظاہر
کر رہے ہیں۔ شفیع جان کا یہ بیان وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کی حالیہ پریس
کانفرنس کے بعد سامنے آیا، جس میں انھوں نے خیبرپختونخوا کے وزیر اعلی سہیل آفریدی
پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پی ٹی آئی بزدل ہے اس لیے لانگ مارچ سے بھاگ گئی
ہے۔
سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ کم اور ٹی ٹی
پی کے کمانڈر زیادہ لگتے ہیں۔‘ انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’پی ٹی آئی کی لانگ مارچ کی
بھی کوئی تیاری نہیں اور اس لیے یہ اس احتجاج سے بھاگ گئے ہیں۔ ہمت ہے تو آئیں اور
کریں مارچ۔‘
حوثیوں کے سعودی عرب پر مسلسل حملے قابلِ مذمت ہیں، سلامتی کونسل
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے یمن کے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر بڑھتے ہوئے حملوں کی مذمت کی ہے۔
اقوام متحدہ میں فرانس کے نمائندے اور سلامتی کونسل کے موجودہ صدر جیروم بونفون نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا کہ ’سلامتی کونسل کے اراکین نے سعودی عرب پر حوثیوں کے مسلسل حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔‘
بیان میں کہا گیا کہ ان حملوں میں شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والے حملے بھی شامل ہیں جن کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہری زخمی ہوئے ہیں۔
پاکستان میں ہفتہ وار مہنگائی میں تقریباً 12 فیصد کا بڑا اضافہ, تنویر ملک، صحافی
،تصویر کا ذریعہGetty Images
،تصویر کا کیپشنفائل فوٹو: معاشی ماہرین کے مطابق ہفتہ وار مہنگائی میں بڑے اضافے کی وجہ سے خطے کی جیو پولیٹیکل حالات ہیں جس کی وجہ سے فیول کی قیمت بڑھی
پاکستان میں موجودہ ہفتے کے اختتام تک ہفتہ وار مہنگائی میں سالانہ بنیاد پر 11.92 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی وجہ بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمتوں کے بعد پاکستان میں ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ رہا۔
پاکستان کے شماریات بیورو کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق موجودہ ہفتے کے اختتام پر گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں بھی اشیا کی قیمتوں میں ایک فیصد کا اضافہ ہوا۔
اعداد و شمار کے مطابق موجودہ ہفتے میں گزشتہ سال کے موجودہ ہفتے کے مقابلے میں ڈیزل کی قیمت میں 51 فیصد، پیٹرول کی قیمت میں 47.50 فیصد، ایل پی جی کی قیمت میں 64 فیصد، بجلی کی قیمت میں 59 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اسی طرح پیاز کی قیمت میں 116 فیصد، گندم آٹے کی قیمت میں 32.41 فیصد، مٹن 15.75 فیصد، بیف 13.22 فیصد تک اضافہ ہوا۔
دوسری جانب زیر جائزہ ہفتے کے دوران آلو کی قیمت میں 39 فیصد، چینی کی قیمت میں 21 فیصد، ٹماٹر کی قیمت میں 19 فیصد، انڈوں کی قیمت میں 18 فیصد تک کی کمی ریکارڈ کی گئی۔
پاکستان میں معاشی ماہرین کے مطابق ہفتہ وار بنیاد پر مہنگائی میں بڑے اضافے کی وجہ مشرق وسطیٰ میں جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوا اور اس کا اثر دوسرے اشیا کی قیمتوں پر بھی پڑا۔
معاشی ماہر سمیع اللہ طارق نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ہفتہ وار مہنگائی میں بڑے اضافے کی وجہ سے خطے کی جیو پولیٹیکل حالات ہیں جس کی وجہ سے فیول کی قیمت بڑھی۔
انھوں نے کہا تاہم اگلے ہفتے چیزوں کی قیمتوں میں تھوڑی سی کمی ہو سکتی ہے کیونکہ ملک میں ڈیزل اور پیٹرول کی قیمت میں تھوڑی بہت کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
پی ٹی آئی دھرنے سے بھاگ گئی ہے، ہمت ہے تو لانگ مارچ کریں: عطا تارڑ
،تصویر کا ذریعہPTV
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے خیبرپختونخوا کے وزیر اعلی سہیل آفریدی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پی ٹی آئی بزدل ہے اس لیے لانگ مارچ سے بھاگ گئی ہے۔ سہیل آفریدی وزیر اعلیٰ کم اور ٹی ٹی پی کے کمانڈر زیادہ لگتے ہیں۔‘
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے پاکستان تحریک انصاف پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ’دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنا اور ان کی مکمل سہولت کاری پی ٹی آئی کا وطیرہ ہے اس کے بعد یہ خود کو کس منہ سے سیاسی لوگ کہتے ہیں۔ پی ٹی آئی دہشت گردوں کی منظور نظر ہے۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’پی ٹی آئی کی لانگ مارچ کی بھی کوئی تیاری نہیں اور اس لیے یہ اس احتجاج سے بھاگ گئے ہیں۔ ہمت ہے تو آئیں اور کریں مارچ۔‘
عطا تارڑ نے کہا کہ ’خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی جماعتوں پر دہشت گردوں نے حملے کیے لیکن وہ دہشت گردوں کے خلاف کسی قسم کی کارروائی سے بھی مکمل گریزاں رہتے ہیں۔ امن و امان قائم کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ‘
مکہ باہمی دفاعی معاہدہ: پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس
،تصویر کا ذریعہReuters
نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے وزرائے خارجہ نے مکہ باہمی دفاعی معاہدے کے فریم ورک کے تحت ایک اجلاس میں شرکت کی۔
اجلاس میں نائب وزیرِ اعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار، سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے معاہدے کے تحت جنرل سیکرٹریٹ، کمیٹیوں اور ورکنگ گروپس کے قیام میں ہونے والی پیش رفت اور ان کے کام کے آغاز کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔
تینوں وزرائے خارجہ نے مکہ مکرمہ، سعودی عرب کی شہری اور معاشی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی۔ انھوں نے سعودی مسلح افواج کی مستعدی اور مملکت کے دفاعی اقدامات کو سراہتے ہوئے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت سعودی عرب کے اپنے دفاع کے حق کی توثیق کی۔
اجلاس میں اس بات پر بھی غور کیا گیا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک کے سربراہانِ افواج کا ایک ہنگامی اجلاس بلایا جائے تاکہ سعودی عرب کی معاونت کے طریقہ کار کا جائزہ لیا جا سکے۔ معاہدے کے مطابق کسی ایک رکن ملک پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
وزرائے خارجہ نے خطے کی مجموعی صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال کیا اور بین الاقوامی قانون، ہمسائیگی کے اصولوں، ریاستوں کی خودمختاری کے احترام، اندرونی معاملات میں عدم مداخلت اور بحری آمدورفت کی آزادی و سلامتی کی اہمیت پر زور دیا۔
اجلاس کے اختتام پر تینوں ممالک نے خطے میں پائیدار امن و استحکام، کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
مکہ دفاعی معاہدے میں ایران بھی شامل ہو سکتا ہے: ترک پارلیمان کے سپیکر
ترکی کی پارلیمان کے سپیکر نعمان کورتولمش کا کہنا ہے کہ ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ہونے والا دفاعی معاہدہ مستقبل میں ایک وسیع تر معاہدے کی شکل اختیار کر سکتا ہے جس میں ایران سمیت دیگر مسلمان ممالک بھی شامل ہو سکتے ہیں۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ترکی کی پارلیمان کے سپیکر نعمان کورتولمش نے جمعے کو صحافیوں سے گفتگو میں توقع کا اظہار کیا کہ یہ معاہدہ اکتوبر سے پارلیمان میں توثیق کے لیے پیش کیا جائے گا۔
ترکی، سعودی عرب اور پاکستان نے اگست میں ’مکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے تھے۔ اس کے چند ہفتے بعد یمن میں ایران نواز حوثیوں نے سعودی عرب پر حملے کیے تھے، جنھیں ایران سے متعلق وسیع تر تنازع کا حصہ قرار دیا گیا۔
نیٹو کے آرٹیکل 5 کی طرز پر اس معاہدے کے تحت ایک رکن ملک پر حملہ تمام رکن ممالک پر حملہ تصور ہو گا۔ تینوں ممالک اس وقت معاہدے کی تفصیلات اور ریاض کی ضروریات پر غور کر رہے ہیں۔
نعمان کورتولمش نے کہا کہ بین الاقوامی معاہدوں کے نفاذ کے لیے پارلیمانی منظوری ضروری ہوتی ہے اور موجودہ ملاقاتیں تیاری کے مرحلے کا حصہ ہیں۔ ان کے مطابق یہ معاملہ پارلیمان کے آئندہ اجلاسوں میں زیرِ غور آ سکتا ہے۔
ایران کے حوالے سے سوال پر انھوں نے کہا کہ یہ معاہدہ کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں بلکہ خطے میں جاری تنازعات اور اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کے تناظر میں علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ترکی مکہ معاہدے کو ایران مخالف اتحاد نہیں سمجھتا۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں ایران بھی اس معاہدے میں شامل ہو سکتا ہے اور دیگر علاقائی ممالک کی شمولیت سے یہ مزید مضبوط ہو جائے گا۔
اسلام آباد اور پشاور کو ملانے والی موٹر وے اور جی ٹی روڈ مختلف مقامات سے تاحال بند
،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان تحریک انصاف کے ممکنہ احتجاج کے پیش نظر اسلام آباد اور پشاور کو ملانے والی موٹر وے مختلف مقامات سے بدھ کے روز سے بدستور بند ہے جبکہ اٹک خورد کے مقام سے این 5 جی ٹی روڈ بھی کنٹینرز لگا کر بند ہے۔
بی بی سی کے رابطہ کرنے موٹر وے اور جی ٹی روڈ کے ٹریفک کے لیے کھولے جانے کے سوال کے جواب میں ترجمان موٹر وے پولیس نے کہا کہ ’ابھی اس حوالے سے کچھ نہیں کہا جا سکتا یہ حالات پر منحصر ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد سے لاہور جانے والی موٹر وے ایم ٹو دونوں اطراف سے معمول کے ٹریفک (ایل ٹی وی) کے لیے کھلی ہے تاہم یہاں آنے والے ہیوی ٹریفک کو جی ٹی روڈ پر موڑا جا رہا ہے۔
ترجمان موٹر وے پولیس نے مزید بتایا ہے 23 ستمبر 2026 سے اسلام آباد سے پشاور جانے والی موٹروے M-1 تاحال اسلام آباد ٹول پلازہ سے چھچھ انٹرچینج تک دونوں اطراف سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے۔
ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق اسلام آباد ٹول پلازہ، فتح جنگ/ ترنول انٹرچینج ، سنگجانی انٹرچینج، براہمہ باہتر انٹرچینج ، برہان انٹرچینج ، ہزارہ موٹروے انٹرچینج، غازی انٹرچینج، چھچھ انٹرچینج بند ہیں جبکہ موٹروے M-14 ہکلہ تا کنڈل دونوں اطراف سے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند ہے۔
ترجمان موٹروے پولیس نے کہا کہ جی ٹی روڈ N-5, اٹک خورد کے مقام پر دونوں اطراف سے ہر قسم کی ٹریفک کےلیے بند ہے ۔
’لانگ مارچ ہر صورت ہو گا، ہمارا مارچ پرامن ہے، چاہے یہ کیلیں ٹھوکیں، کنٹینر رکھیں یا گولی چلائیں‘: سہیل آفریدی
،تصویر کا ذریعہScreenGrab
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ’ہمارا لانگ مارچ ہر صورت ہو گا، چاہے یہ سڑکوں پر کیلیں ٹھوکیں، کنٹینرز رکھیں یا گولی چلائیں۔‘
پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اعلی سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ان کا لانگ مارچ ضرورہو گا تاہم انھوں نے لائحہ عمل اور وقت کا اعلان نہیں کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی کی میٹنگ ابھی بھی جاری ہے جس کے بعد آپ سے دوبارہ ملاقات ہو گی۔ ہم اس بار نکلیں گے تو اس ’کرپٹ نظام ‘کا ہر صورت بندوبست کریں گے۔‘
انھوں نے کہا کہ ’ایک مہینے سے بیانیہ بنایا جا رہا تھا کہ ہمیں انڈیا سے نہیں تین صوبوں سے خطرہ ہے۔ کیا ہم یہ سمجھیں کہ پاکستان کو توڑنے کی سازش پر باقاعدہ کام شروع ہو گیا ہے؟ جہاں خیبرپختونخوا کی سرحد ختم ہوتی ہے وہاں کیلیں ٹھونکی جا رہی ہیں، دوسرے صوبوں کے سرکاری لوگ ہمارے صوبے میں گھس کر گتھم گتھا ہو رہے ہیں۔ اس کو کیا سمجھا جائے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں یہ پیغام ملا ہے کہ ٹی وی پر ہماری پریس کانفرنس نہیں چلائی جائے گی اور صوبے کے وزیر اعلیٰ کو کوریج دینے سے روک دیا گیا ہے۔ جو یہ سازش چل رہی ہے وہ بہت خطرناک ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارے وزرا کو سادہ کپڑوں میں ملبوس افراد کی مدد سے اغوا کیا جا رہا ہے۔ یہ افرا تفری پھلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ سیکریٹریٹ جس سے پورے صوبے کا نظام چل رہا ہے انھوں نے تھریٹس دے کر کام بند کروا دیے۔ وہاں کوئی تھریٹ نھیں تھا، کینٹ سارا افواج کے قبضے میں ہے۔‘
سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وہ اس وقت چارسدہ جا رہے ہیں جہاں وہ لاپتہ صوبائی وزیر فضل شکور کے حجرے میں جائیں گے اور وہاں وہ کارکنوں سے خطاب کریں گے۔
پی ٹی آئی کا 27 ستمبر کو ممکنہ احتجاجی مارچ: اٹک کے پل کے اطراف رکاوٹیں مزید سخت، ٹی چوک پر موجود کنٹینرز ہٹا دیے گئے
،تصویر کا ذریعہNadeem Raza
،تصویر کا کیپشناٹک کے پل اور اس کےاطراف مزید رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں
پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے احتجاجی مارچ کے پیش نظر جہاں پنجاب اور خیبرپختونخوا کو ملانے والے اٹک کے پل اور اس کےاطراف مزید رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں وہیں پشاور روڈ راولپنڈی سے اسلام آباد انٹری پوائنٹ روات ٹی چوک پر لگائے گئے کنٹیرز کو ہٹائے جانے کی اطلاعات ہیں۔
بی بی سی کے عثمان زاہد کے مطابق جمعے کے روز ٹی چوک کے راستے اسلام آباد کے اندر آنے والے داخلی راستے کو ایل ٹی وی ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا اور وہاں لگے تمام کنٹینرز اس راستے سے ہٹا دیے گئے۔
،تصویر کا ذریعہNadeem Raza/Screen Grab
دوسری جانب اٹک کے پل کے اطراف سے ایسی ویڈیوز موصول ہو رہی ہیں جہاں مزید سخت رکاوٹیں کھڑی کر کے اسلام آباد آنے والے راستے بند کر دیے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے لانگ مارچ سے قبل اسلام آباد کی مقامی انتظامیہ نے شہر کے داخلی، خارجی اور اہم راستوں پر سڑکوں کے کنارے سینکڑوں کنٹینرز لا کر رکھ دیے ہیں جنھیں بوقت ضرورت کھسکا کر سڑکوں کو بند کر دیا جائے گا جبکہ ڈی چوک کو کنٹینرز لگا کر پہلے ہی سیک کیا جا چکا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے احتجاج کے پیش نظر وسطی پنجاب کے اضلاع سے گزرنے والے دو دریاؤں کے پُلوں کے اِردگرد سڑک کے کناروں پر کنٹینرز لا کر کھڑے کر دیے گئے ہیں جبکہ ان مقامات پر ریت اور مٹی سے بھری بوریاں بھی لائی جا رہی ہیں۔
دوسری جانب گزشتہ روز پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد اور صوبہ پنجاب کے چار اضلاع میں رینجرز کی تعیناتی کی منظوری کا نوٹیفیکیشن وزارت داخلہ نے جاری کر دیا تھا۔
وزارت داخلہ نے چیف کمشنر اسلام آباد اور حکومت پنجاب کی درخواست پر رینجرز کی تعیناتی اور رینجرز کو قانونی اختیارات کے تحت مکمل معاونت کی اجازت دی ہے۔
اس حوالے سے جاری ہونے والے نوٹیفکشن میں کہا گیا ہے کہ انتشاری اور مسلح جتھوں کے حملوں پر رینجرز اورپولیس مناسب اور ضروری جوابی ایکشن لے اور رینجرز اور پولیس کسی بھی پرتشدد سرگرمی یا خطرے سے نمٹنےکے لیے مکمل اقدامات کرے۔
’حادثاتی ڈرون دھماکے‘ میں دو اسرائیلی فوجی ہلاک
اسرائیلی فوج کے مطابق شمالی غزہ میں ایک ڈرون کے حادثاتی دھماکے میں اس کے دو فوجی ہلاک ہو گئے۔
فوج کا کہنا ہے کہ ڈرون گذشتہ روز نامعلوم وجوہات کی بنا پر ایک فوجی اڈے کے اندر گر کر تباہ ہو گیا تھا۔
اہلکاروں نے ڈرون کو اپنی تحویل میں لے لیا، تاہم کچھ ہی دیر بعد اس میں زور دار دھماکہ ہو گیا۔ واقعے کے بعد اسرائیلی فوج نے دھماکہ خیز مواد لے جانے والے تمام چھوٹے ڈرونز کی پروازیں عارضی طور پر معطل کر دی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
اڈیالہ جیل کے قریب مارچ یا احتجاج نہ کریں، میرے والد کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے: قاسم خان
عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے پاکستان تحریکِ انصاف کے کارکنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 27 سمتبر کے اعلان کردہ احتجاج کے دوران اڈیالہ جیل کے باہر کوئی مظاہرہ نہ کریں۔ سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں انھوں نے لکھا کہ ’مجھے عوام سے اپیل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ 27 مارچ کو اڈیالہ جیل کے قریب مارچ یا احتجاج کرنے کی کوشش نہ کریں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’مجھے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ اس احتجاج کو جواز بنا کر اسٹیبلشمنٹ جیل پر ’جوابی‘ حملہ کر سکتی ہے، جہاں میرے والد قید ہیں، اور اس سے ان کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔‘
انھوں نے اپیل کی کہ ’براہِ کرم انھیں کوئی ایسا موقع یا بہانہ نہ دیں جس کی آڑ میں احتجاج کے دوران میرے والد کے ساتھ کوئی ’حادثہ‘ پیش آ جائے۔‘
یاد رہے کہ تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے لانگ مارچ کی کال دی رکھی ہے۔ مارچ سے قبل ہی مقامی انتظامیہ نے شہر کے داخلی، خارجی اور اہم راستوں پر سڑکوں کے کنارے سینکڑوں کنٹینرز لا کر رکھ دیے ہیں جنھیں بوقت ضرورت کھسکا کر سڑکوں کو بند کر دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے گذشتہ جمعہ کو پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے حالیہ فیصلے کے تناظر میں کسی کو بھی اسلام آباد میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اسلام آباد پولیس کے اہلکار کے مطابق ریڈ زون جس میں ڈپلومیٹک انکلیو کے علاوہ وزیر اعظم ہاؤس، ایوان صدر، پارلیمنٹ ہاؤس، اسلام آباد ہائی کورٹ، سپریم کورٹ سمیت دیگر اہم عمارتیں واقع ہیں، کو 27 ستمبر سے پہلے مکمل سیل کر دیا جائے گا۔
سری لنکا بھیجی گئی منشیات کا افغانستان سے کوئی تعلق نہیں، اصل ماخذ پاکستان میں تلاش کریں: افغانستان
،تصویر کا ذریعہ@usembislamabad
افغانستان کے وزراتِ خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے سری لنکا بھیجی جانے والے منشیات کو افغانستان سے منسلک کیے جانے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسے ممکنہ طور پر پاکستان میں بنایا گیا تھا۔
انھوں نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ’اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے پاکستان میں امریکہ اور پاکستان کی مشترکہ کارروائی کے دوران سری لنکا بھیجے جانے والے مصنوعی منشیات کے ایک کارگو کو ’افغان نژاد‘ قرار دینا بے بنیاد اور سیاسی محرکات پر مبنی الزام ہے۔
ان کا مزید کہنا تھاگ کہ ’اسلامی امارت افغانستان نے ملک میں ہر قسم کی منشیات کی پیداوار، سمگلنگ اور استعمال پر مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اس کے برعکس، افغانستان میں پابندی نافذ ہونے کے بعد ڈیورنڈ لائن کے دوسری جانب منشیات کی کاشت، پیداوار اور سمگلنگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔‘
انھوں نے لکھا ’افغانستان نہ صرف منشیات پر پابندی عائد کر چکا ہے بلکہ اس کے پاس مصنوعی منشیات تیار کرنے کی صلاحیت بھی موجود نہیں۔ مزید برآں، ڈیورنڈ لائن پر موجود سرحدی گزرگاہیں تقریباً ایک سال سے ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے بند ہیں۔‘
انھوں نے زور دیا کہ ’لہٰذا ہم امریکی سفارتخانے سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ضبط کی گئی منشیات کی اصل ماخذ پاکستان میں تلاش کرے اور دوسروں کے پروپیگنڈے کا ذریعہ بننے سے گریز کرے۔‘
پوسٹ کے مطابق ’اس مشترکہ کارروائی نے یہ ظاہر کیا کہ پاکستانی اداروں کے لیے جاری امریکی تربیتی پروگرام بین الاقوامی منشیات سمگلنگ کے نیٹ ورکس کو توڑنے اور مقامی آبادیوں کے ساتھ ساتھ امریکہ کو بھی زیادہ محفوظ بنانے میں مدد دے رہے ہیں۔‘
اینٹی نارکوٹکس فورس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اے این ایف پاکستان کے تعاون سے سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں افغان منشیات سمگلنگ نیٹ ورک کے خلاف مشترکہ کارروائی کے دوران کراچی اور کولمبو بندرگاہوں پر مجموعی طور پر 671 کلوگرام میتھ ایمفیٹامائن (آئس) قبضے میں لے لی گئی، جبکہ نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔
چین کے صدر کا امریکہ پر زور دیا کہ وہ تائیوان کے معاملے پر ’درست مؤقف‘ اپنائے
،تصویر کا ذریعہGetty Images
چینی صدر شی جن پنگ نے کہا کہ چین کو امید ہے کہ امریکہ ’تائیوان کی آزادی کی مخالفت‘ کے حوالے سے اپنا ’درست مؤقف‘ برقرار رکھے گا۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کی رپورٹ کے مطابق، چینی رہنما نے واشنگٹن پر زور دیا کہ وہ ’تائیوان کے مسئلے کو دانشمندی اور احتیاط کے ساتھ نمٹائے تاکہ دوطرفہ سٹرٹیجک تعاون اور چین امریکہ تعلقات کی ترقی کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کی جا سکے۔‘
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ’قومی اتحاد اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے حوالے سے چین کا مؤقف بالکل واضح ہے۔‘
بیجنگ خودمختار تائیوان کو اپنے علاقے کا حصہ قرار دیتا ہے، اگرچہ یہ جزیرہ خود کو ایک الگ سیاسی اکائی سمجھتا ہے۔
خصوصاً شی جن پنگ کے دورِ حکومت میں چین نے تائیوان سے متعلق اپنے مؤقف کو مزید سخت کیا ہے، علیحدگی پسند سرگرمیوں کے خلاف اقدامات میں اضافہ کیا ہے اور تائیوان کی آزادی کی کسی بھی کوشش کو روکنے پر زور دیا ہے۔
امریکہ کے تائیوان کے ساتھ باقاعدہ سفارتی تعلقات نہیں ہیں، لیکن امریکی قانون کے تحت واشنگٹن تائیوان کو اپنے دفاع کے لیے ضروری وسائل فراہم کرنے کا پابند ہے۔
تاہم امریکا کو طویل عرصے سے تائیوان کے ساتھ اپنے تعلقات اور چین کے ساتھ سفارتی روابط برقرار رکھنے کے درمیان توازن قائم رکھنے کا چیلنج درپیش رہا ہے۔
تین امریکی نیوز اداروں کو سرکاری عشائیے کی کوریج سے روک دیا گیا
،تصویر کا ذریعہGetty Images
امریکی نشریاتی اداروں سی این این (CNN)، ایم ایس ناؤ (MS NOW) اور پولیٹیکو (Politico) کے صحافیوں نے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے احاطے تک دوبارہ رسائی بحال کرنے کے عدالتی حکم کے باوجود انھیں ریاستی عشائیے کی کوریج سے روک دیا گیا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز ان تینوں امریکی میڈیا اداروں پر ’فیک نیوز‘ پھیلانے کا الزام عائد کرتے ہوئے ان کی وائٹ ہاؤس تک رسائی معطل کر دی تھی۔
جمعرات کی صبح ایک وفاقی جج کے رات گئے جاری کردہ فیصلے کے بعد ان اداروں کے صحافیوں کو دوبارہ وائٹ ہاؤس کے احاطے میں داخلے کی اجازت مل گئی۔ جج نے قرار دیا تھا کہ پابندی بظاہر امریکی آئین سے متصادم ہے اور انتظامیہ کو انہیں رسائی دینی چاہیے۔
تاہم تینوں اداروں نے شام کو بتایا کہ انھیں ریاستی عشائیے کی کوریج کی اجازت نہیں دی گئی۔
سی این این کے مطابق، ایک پریس کوآرڈینیٹر نے ان کے رپورٹر اور پروڈیوسر کو عشائیے میں داخل ہونے سے روک دیا اور کہا کہ وہ اس معاملے پر وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشنز ڈائریکٹر اسٹیون چیونگ سے رابطہ کریں۔
اس پیش رفت کے بارے میں ایم ایس ناؤ کے پروڈیوسر کائل گرفن کی ایکس پوسٹ کے جواب میں وائٹ ہاؤس کے ریپڈ ریسپانس اکاؤنٹ نے کہا کہ یہ عشائیہ "پیشگی منظوری یافتہ تقریب" تھا۔
وائٹ ہاؤس کے بیان میں کہا گیا ’فیک نیوز جو کچھ آپ کو باور کرانا چاہتی ہے، حقیقت اس کے برعکس ہے۔ ان اداروں کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ وائٹ ہاؤس کے ہر حصے، ہر تقریب اور ہر پریس ایونٹ تک آزادانہ رسائی حاصل کریں۔‘
’ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے‘ :اسرائیلی وزیرِ اعظم کا مشرقِ وسطیٰ کے دیگر علاقوں میں فوجی کارروائیوں کا بھرپور دفاع
،تصویر کا ذریعہGetty Images
اسرائیلی
وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران
ایران، غزہ اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر علاقوں میں اپنے ملک کی فوجی کارروائیوں کا
بھرپور دفاع کیا۔
اپنی
تقریر کے آغاز پر درجنوں مندوبین احتجاجاً اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے، جس کے بعد
نیتن یاہو نے عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا ’ہم جیتیں گے۔ ہمارے پاس کوئی اور راستہ نہیں
ہے۔‘
واک
آؤٹ کرنے والے مندوبین کے ردِعمل میں انہوں نے کہا: ’اگر یہاں کوئی اور اخلاقی بزدل موجود ہے جو ابھی تک ہال سے نہیں
گیا، تو براہِ کرم اب چلا جائے۔‘
اسرائیلی
وزیرِ اعظم نے ان الزامات کو بھی مسترد کر دیا کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کا
مرتکب ہو رہا ہے۔
اس سے
چند گھنٹے قبل فلسطینی صدر محمود عباس نے ایک ریکارڈ شدہ ویڈیو پیغام کے
ذریعے اقوامِ متحدہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیلی پالیسیاں، خصوصاً
مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کی غیر قانونی توسیع، ’فلسطینی عوام کی اپنی
سرزمین پر بقا اور وجود ہی کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔‘
انھوں
نے کہا کہ یہ اقدامات دو ریاستی حل کو بھی خطرے میں ڈال رہے ہیں، جسے اسرائیل اور
فلسطینیوں کے درمیان امن کے لیے بین الاقوامی سطح پر حمایت حاصل ہے۔
محمود
عباس کا کہنا تھا کہ غزہ میں فلسطینی عوام کو اسرائیلی فوج کی جانب سے ’قتل،
تباہی، بھوک، جبری بے دخلی کی کوششوں اور نسل کشی پر مبنی جنگ‘ کا سامنا ہے۔
فلسطینی
صدر نے سالانہ اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا، کیونکہ انہیں امریکا کا ویزا
جاری نہیں کیا گیا تھا۔
بین
الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کی جانب سے مبینہ جنگی جرائم کے الزام میں
گرفتاری کے وارنٹ کا سامنا کرنے والے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ان
ممالک اور رہنماؤں پر سخت تنقید کی جنہوں نے ان کی پالیسیوں اور اقدامات پر اعتراض
کیا ہے۔
انہوں
نے کہا ’وہ اسرائیل، چھوٹے سے اسرائیل، پر نوآبادیات کا الزام لگاتے ہیں۔ اور یہ
الزام کون لگا رہا ہے؟ ان میں برطانیہ اور فرانس کے لوگ بھی شامل ہیں۔ خدا کے لیے،
نوآبادیات کی اصطلاح تو انھوں نے خود ایجاد کی تھی۔‘
نیتن
یاہو نے بعد ازاں ترک صدر رجب طیب اردوغان کو ’آمر‘ قرار دیتے ہوئے ان پر فلسطینی
مسلح گروپ حماس کی حمایت کا الزام عائد کیا۔
یاد
رہے کہ اردوان نے منگل کے روز اقوامِ متحدہ سے خطاب میں کہا تھا کہ غزہ اور مغربی
کنارے کے لوگوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیاں ’انسانیت کے ضمیر کو گہری ٹھیس
پہنچاتی ہیں‘۔
نیتن
یاہو کے بیانات پر ترکی کی جانب سے بھی سخت ردِعمل سامنے آیا۔
ترک
ایوانِ صدر کے شعبۂ مواصلات کے سربراہ برہان الدین دوران نے کہا کہ اسرائیلی وزیرِ
اعظم کا اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے پلیٹ فارم کو ترکیہ اور اردوان کے خلاف ’بے
بنیاد الزامات‘ لگانے کے لیے استعمال کرنا اقوامِ متحدہ کے ’امن، قانون اور مکالمے‘
کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتا۔
سرکاری
خبر رساں ادارے کے مطابق دوران نے کہا کہ اس نوعیت کے بیانات سفارتی آداب اور بین
الاقوامی تعاون کے جذبے کے خلاف ہیں۔
نیتن
یاہو نے نیویارک شہر کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے میئر ظہران ممدانی کو بھی
تنقید کا نشانہ بنایا۔ ممدانی اس سے قبل یہ کہہ چکے تھے کہ وہ نیتن یاہو کو گرفتار
کریں گے، تاہم بعد میں انھوں نے وضاحت کی تھی کہ ان کے پاس ایسا کرنے کا قانونی
اختیار موجود نہیں۔
چینی صدر کا ایران اور امریکہ پر’اسلام آباد معاہدے‘ کی طرف واپسی کے لیے زور
،تصویر کا ذریعہGetty Images
چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ بیجنگ، امریکہ اور ایران کی ’اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت‘ (ایم او یو) کی طرف واپسی کی حمایت کرتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار چینی صدر نے جمعرات کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر وائٹ ہاؤس میں اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران کیا۔
چینی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، شی جن پنگ نے ملاقات کے دوران کہا کہ بیجنگ، امریکہ اور ایران کی ’اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت‘ (ایم او یو) کی طرف واپسی کی حمایت کرتا ہے۔
اعلیٰ سطح کے سرکاری دورے کے لیے واشنگٹن پہنچنے کے چند گھنٹے بعد چینی صدر شی جن پنگ نے چینی سرکاری میڈیا میں شائع ہونے والے اپنے بیان میں کہا کہ چین اور امریکہ کو حریف کے بجائے شراکت دار ہونا چاہیے۔
تین روزہ دورے کے دوران، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے چینی ہم منصب کا پرتپاک اور خصوصی استقبال کیا گیا، تجارت، مصنوعی ذہانت، تائیوان اور ایران جیسے معاملات پر مشکل بات چیت متوقع ہے۔
اگر امریکہ بعض شرائط پوری کر دے تو آبنائے ہرمز سات روز میں کھول دی جائے گی: ایرانی وزیرِ خارجہ
،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ تہران نے ثالثوں کے ذریعے ’آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔‘
جمعرات کو نیویارک میں صحافیوں اور امریکی تھنک ٹینکس کے ارکان کے ایک گروپ سے ملاقات کے دوران ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ کی جانب سے بعض شرائط پوری کر دی جائیں تو آبنائے ہرمز ’سات دن کے اندر دوبارہ کھول دی جائے گی۔‘
اُن کا کہنا تھا کہ ’یہ شرائط نئی نہیں ہیں اور وہی ہیں جو اس سے قبل اسلام آباد مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) میں اٹھائی گئی تھیں۔‘
عباس عراقچی نے یہ بھی کہا کہ ایران کا ماننا ہے کہ ’اس معاہدے پر امریکہ کے وسط مدتی انتخابات سے قبل عمل درآمد ہونا بہتر ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کہہ چکے ہیں کہ معاہدہ نومبر کے انتخابات کے بعد طے پا سکتا ہے۔‘
اس کے جواب میں ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس معاہدے کا وقت ’امریکہ پر منحصر ہے اور اس بات کا اعادہ کیا کہ مجوزہ شرائط گذشتہ معاہدے کی شقوں سے مختلف نہیں ہیں۔‘
سعودی عرب کی ینبع بندرگاہ کے تحفظ کے لیے ’فوجی وسائل‘ بھیجیں گے: فرانسیسی صدر
،تصویر کا ذریعہAFP via Getty Images
فرانس کے صدر صدر ایمانویل میکخواں کا کہنا ہے کہ ان ملک سعودی عرب کی بندرگاہ ینبع کے تحفظ کے لیے ’فوجی وسائل‘ بھیجے گا۔
فرانسیسی صدر کا بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے حوثیوں اور سعودی عرب کے درمیان لڑائی گذشتہ کئی ہفتوں سے جاری ہے اور حوثیوں کی جانب سعودی عرب کی تیل کی تنبصیبات پر بھی حملے کیے گئے ہیں۔
سعودی عرب کی ینبع بندرگاہ تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھے جاتی ہیں۔
فرانس کے ٹی ایف ون اور فرانس ٹو کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر میکخواں کا کہنا تھا کہ ’ہم اس مقام کے تحفظ کے لیے فوجی وسائل بھیجیں گے، یعنی فوجی اہلکار، ریڈارز اور دفاعی نظام۔‘
انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم بحیرۂ احمر میں واقع ینبع میں تیل کی تنصیب کے تحفظ کے لیے فوجی وسائل، یعنی فوجی، ریڈار اور دفاعی نظام تعینات کریں گے۔‘
فرانس کے صدر کے مطابق اس فیصلے کو سعودی حکام کے ساتھ مشاورت کے بعد حتمی شکل دی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ ینبع بندرگاہ روزانہ لاکھوں بیرل تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے اور حالیہ حملے کے نتیجے میں اسے شدید نقصان پہنچا ہے۔
تاہم فرانسیسی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ فرانس فوج کا مقصد کسی جنگ یا عسکری تنازع میں شامل ہونا نہیں ہے۔
’ہمارا مقصد کسی لڑائی میں حصہ لینا نہیں، بلکہ اس مقام کا تحفظ کرنا ہے۔‘
انھوں یہ بھی کہا کہ فرانس آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھلوانے کے لیے سفارتی کوششوں پر زور دے رہا ہے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے لیے فرانس خاص طور پر ایران اور عمان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا چاہتا ہے۔
فرانسیسی صدر نے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باوجود سفارت کاری ہی پائیدار حل کا راستہ ہے اور فرانس توانائی کی رسد اور عالمی جہاز رانی کے اہم راستوں کے تحفظ کے لیے سیاسی و سفارتی اقدامات کو ترجیح دیتا ہے۔