کے ٹو ایئر لفٹ: 'ماں کی یاد میں پہاڑ میں کھو گیا، جب بیٹوں کو دیکھا تو کلیجے میں ٹھنڈ پڑ گئی‘

،تصویر کا ذریعہSaadat Mumtaz
فنڈ اکٹھا کرنے کی مہم کے دوران دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے ٹو سے بذریعہ ہیلی کاپٹر ریسکیو کیے جانے والے شخص کا کہنا ہے کہ وہ ’خوفزدہ‘ تھے ’کہ پتا نہیں میرے ساتھ کیا ہوگا۔‘
برسٹل کے قریب پورٹیش ہیڈ سے تعلق رکھنے والے 48 برس کے سعادت ممتاز کو کے ٹو پر 4034 میٹر (13234 فٹ) کی بلندی سے بچایا گیا ہے۔
’ہائی ایلٹیٹیوٹ پلمونری اڈیما‘ میں مبتلا ہونے کے بعد انھیں طبی علاج کی ضرورت تھی۔
48 برس کے سعادت اپنی والدہ سعیدہ بانو کی یاد میں ’برین ٹیومر ریسرچ‘ کے لیے فنڈ اکٹھا کر رہے تھے، ان کی والدہ 34 برس کی عمر میں وفات پا گئی تھیں۔
وہ کینسر کی ایک انتہائی خطرناک قسم کا شکار ہوئیں جو دماغ یا ریڑھ کی ہڈی میں سرائیت کرتی ہے۔
ریسکیو سے متعلق بات کرتے ہوئے سعادت ممتاز کا کہنا تھا کہ ’میں نے یہ سنا کہ لوگ رات کو اپنے خیموں میں مر رہے ہیں اور مجھے یہ خوف لاحق ہوا کہ میرے ساتھ بھی ایسا ہو سکتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہSaadat Mumtaz
نو جولائی کو کے ٹو بیس کیمپ چیلنج کی تیاری کے سلسلے میں تجربہ کار مہم جو سعادت ممتاز نے دیوسائی نیشنل پارک میں انتہائی اونچائی والے الپائن کے درختوں کے ساتھ ہائیکنگ جبکہ سکردو کے شمال میں سرفرنگا ’کولڈ ڈزرٹ‘ میں ٹریکنگ کی تھی۔
لیکن سعادت ممتاز جو 2 اگست کو گھر آ گئے تھے انھوں نے کہا کہ ’جب ہم اپنی آخری منزل تک پہنچے تو اس سے تقریباً ایک روز قبل مجھے یہ محسوس ہوا کہ میری طبیعیت بگڑ رہی ہے۔ میں تھکا ہوا تھا، سانس لینے میں دشواری محسوس ہوئی اور نیند نہیں آتی تھی، جہاں ایسا محسوس ہوا کہ کوئی میرا دم گُھٹ رہا ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
21 جولائی کو ہوائی جہاز سے ہسپتال لے جانے کے بعد سی ٹی سکین اور ای سی جی میں تو کوئی چیز واضح نہیں ہوئی لیکن انھیں اونچائی والے پلمونری ایڈیما (ایچ اے پی ای) کا تجربہ ہوا، جہاں پھیپھڑوں میں خون کی نالیاں ایک ساتھ جڑتی ہیں، جس سے دباؤ بڑھتا ہے۔
سعادت ممتاز نے اپنے ریسکیو مشن کا سہرا ٹیکسلا اور اسلام آباد کے کرنل رینک کے فوجی افسران کی ٹیم کو دیا۔ انھوں نے کہا کہ ’ہسپتال میں رہنے کے آدھے گھنٹے کے اندر میری سانسیں معمول پر آ گئیں۔‘

،تصویر کا ذریعہSAYED FAKHAR ABBAS
کے ٹو کی چوٹی جو ماؤنٹ ایورسٹ سے تقریباً 250 میٹر چھوٹی ہے، اس قراقرم رینج کا حصہ ہے جو پاکستان اور چین کی سرحد پر پھیلا ہوا ہے۔
یہ ان 14 چوٹیوں میں سے ایک ہے جو آٹھ ہزار میٹر سے بلند ہیں۔ سردیوں میں اس چوٹی کو سر کرنے کے لیے آنے والوں کا تانتا بندھ جاتا ہے۔
سعادت ممتاز کے دو بیٹے 18 برس کے سنان اور 20 برس کے ہاشم اکیلے بیس کیمپ کا ٹریک مکمل کرنے کے لیے گئے اور بے چینی سے اس انتطار میں رہے کہ ان کے والد سلامت ہیں۔
سعادت ممتاز نے کہا کہ ’بطور والدین آپ اپنے بچوں کے لیے مضبوط رہنا چاہتے ہیں اور میں صرف اپنے دو بیٹوں کے بارے میں سوچ سکتا تھا، وہ نہیں جانتے تھے کہ میں کیسا ہوں اور میں ان کے لیے پریشان تھا۔ اس وقت میرے کلیجے میں ٹھنڈ پڑ گئی جب میں نے سنان اور ہاشم کو اپنی طرف آتے دیکھا اور دوبارہ ملاپ جذبات سے بھرا ہوا تھا۔‘

،تصویر کا ذریعہSaadat Mumtaz
’چیلنج کو زیادہ اہمیت نہیں دی‘
کے ٹو کو طویل عرصے سے ’وحشی پہاڑ‘ سے تعبیر کیا جاتا رہا ہے اور سب سے زیادہ خطرناک حصوں میں بدنام زمانہ ’بوٹل نیک‘ ہے، جو برفانی طوفانوں کا سبب بنتا ہے۔ سنہ 2008 میں وہاں برفانی تودہ گرنے سے گیارہ کوہ پیما ہلاک ہو گئے تھے۔
کے ٹو کے کیمپ فور سے اوپر ڈیتھ زون میں 8200-8400 میٹر کے درمیان ایک راک اینڈ آئس گلی موجود ہے چونکہ اس کی شکل بوتل کی گردن کی طرح دکھتی ہے لہٰذا اسے 'بوٹل نیک' کہتے ہیں۔
یہ وہ مقام ہے جہاں سے کےٹو سر کرنے کی کوشش کرنے والے کوہ پیماؤں کو ہر حال میں گزرنا پڑتا ہے، اس کا کوئی متبادل راستہ موجود نہیں۔
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہALEX GAVIN
سعادت ممتاز نے کہا کہ انھوں نے تربیت کے باوجود چیلنج کی اہمیت کو صحیح نہیں سمجھ سکا یا اسے کم اہمیت دی جبکہ اس مشن، جس پر وہ چل پڑے تھے، کے لیے زبردست جذباتی طاقت درکار تھی۔
اپنی اس مہم جوئی کے بعد سے کچھ تھکاوٹ کا شکار ہونے کے باوجود انھوں نے کہا کہ اب وہ اپنی ماؤں کی یاد میں پیسہ اکٹھا کرنے کے لیے پورٹیش ہیڈ سے اسلام آباد تک 5,100 میل سے زیادہ کا فاصلہ اپنی موٹر سائیکل پر طے کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔
’برین ٹیومر ریسرچ‘ کے کمیونٹی اور ڈویلپمنٹ مینیجر میل ٹائلی نے کہا کہ وہ سعادت ممتاز کے ’شکر گزار‘ ہیں اور ’خوش‘ ہیں کہ وہ اب روبہ صحت ہو رہے ہیں۔

























