پی ایس ایل 7 میں پشاور زلمی بمقابلہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز: پشاور زلمی کی کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 24 رنز سے شکست

،تصویر کا ذریعہARIF ALI
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے فاسٹ بولر نسیم شاہ کو 15 فروری کی شب اس لیے یاد رہے گی کیونکہ پہلے انھوں نے اپنی 19 ویں سالگرہ کی مبارک باد وصول کی اور پھر چار وکٹوں کی عمدہ کارکردگی پر داد، لیکن بین کٹنگ اور عثمان قادر نے بازی پشاور زلمی کے نام کر دی۔
پشاور زلمی نے 24 رنز کی جیت کے ساتھ دو اہم پوائنٹس حاصل کر لیے ہیں۔ یہ زلمی کی آٹھ میچوں میں چوتھی جیت ہے جبکہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز آٹھ میچوں میں پانچویں شکست سے دوچار ہوئی ہے۔
بین کٹنگ کے چار چھکے
پشاور زلمی کے کپتان وہاب ریاض نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو اس پی ایس ایل میں محض دوسرا موقع ہے کہ کسی ٹیم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کی ہو۔ اس سے قبل اسلام آباد یونائیٹڈ نے کراچی کنگز کے خلاف ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کی تھی اور میچ بھی جیتا۔
پشاور زلمی نے 7 وکٹوں پر 185 رنز سکور بورڈ پر سجائے جس میں نمایاں حصہ شعیب ملک اور حسین طلعت کی نصف سنچریوں کے ساتھ ساتھ بین کٹنگ کے چار چھکوں سے سجی 36 رنز کی قیمتی اننگز کا رہا۔
میچ کا دوسرا اوور نسیم شاہ کو دو وکٹیں دے گیا۔ پہلے انھوں نے حضرت اللہ ززئی کو ایک رن پر ایل بی ڈبلیو کیا اور پھر خطرناک لیئم لیونگ سٹون کو صفر پر بولڈ کر دیا۔
نوجوان محمد حارث اعتماد سے کھیلے اور انھوں نے خرم شہزاد کے پہلے ہی اوور میں تین چوکے لگائے لیکن 29 کے سکور پر غلام مدثر انھیں دوسری کوشش میں اپنی ہی گیند پر کیچ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
شعیب ملک نے اپنی نصف سنچری 35 گیندوں پر سات چوکوں کی مدد سے مکمل کی جو ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ان کی 70 ویں نصف سنچری ہے۔
ایک ایسے موقع پر جب پشاور زلمی شعیب ملک سے یہ توقع کررہی تھی کہ وہ اننگز کے آخر تک کریز پر رہ کر ایک بڑا سکور کریں گے لیکن 58 کے سکور پر خرم شہزاد کی گیند پر لانگ آف پر عمراکمل کے کیچ نے انھیں واپسی کی راہ دکھائی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
شعیب ملک اور حسین طلعت سکور میں 73 رنز کا اضافہ کرنے میں کامیاب رہے۔

،تصویر کا ذریعہPSL
دونوں ٹیموں کے درمیان کراچی میں کھیلے گئے میچ میں بھی ان دونوں کی 81 رنز کی شراکت رہی تھی جس میں حسین طلعت کی نصف سنچری شامل تھی۔
اس بار بھی حسین طلعت نے نصف سنچری سکور کی جو 31 گیندوں پر چھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے مکمل ہوئی۔ ان کی عمدہ اننگز سکور بورڈ کے ہندسوں کو مسلسل تبدیل کرتی رہی۔
ردر فرڈ صرف چھ گیندوں کے مہمان ثابت ہوئے اور بغیر کوئی رنز بنائے افتخار احمد کی وکٹ بنے۔
قذافی سٹیڈیم میں موجود شائقین کو اس وقت بہترین تفریح ملی جب بین کٹنگ نے سہیل تنویر کے ایک ہی اوور میں چار چھکوں کی مدد سے 27 رنز بنا ڈالے۔
وہ چار چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 36 رنز بنا کر نسیم شاہ کی گیند پر آؤٹ ہوئے جنہوں نے اپنے اسی آخری اوور میں حسین طلعت کی وکٹ بھی حاصل کر ڈالی۔
نسیم شاہ نے 27 رنز دے کر 4 وکٹوں کے ساتھ اپنے چار اوورز مکمل کیے۔ اس ٹورنامنٹ میں وہ کراچی کنگز کے خلاف میچ میں پانچ وکٹیں بھی حاصل کرچکے ہیں۔
عثمان قادر کی جادوگری
جس ٹیم کو جیتنے کے لیے 186 رنز بنانے ہوں لیکن اس کے دو بہترین بیٹسمین جیسن روئے اور جیمز ونس جلد آؤٹ ہوجائیں تو اس کے ڈگ آؤٹ میں کیا صورتحال ہوگی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
مسلسل دوسرے میچ میں یہ دونوں جلد آؤٹ ہو کر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو بیچ منجدھار میں چھوڑ گئے۔ جیسن روئے نے لیونگ سٹون کی باہر جاتی گیند کو کھیلنے کی ناکام کوشش میں اپنی وکٹ گنوائی اور پھر جیمز ونس نے عثمان قادر کی گگلی نہ سمجھنے کی قیمت چکائی۔
کپتان سرفراز احمد اور ِول سمیڈ موقع ملنے پر گیند کو باؤنڈری کا راستہ بھی دکھا رہے تھے اور تیز سنگلز لینے سے بھی نہیں رکے لیکن 82 کے سکور پر کوئٹہ نے اپنے کپتان کی وکٹ گنوائی۔
سرفراز احمد حسین طلعت کی گیند کو ڈیپ مڈوکٹ باؤنڈری کے باہر پہنچانا چاہتے تھے لیکن وہاں موجود لیونگ سٹون نے اس شاٹ کو کیچ میں بدل دیا۔

،تصویر کا ذریعہPCB
انھوں نے 21 گیندوں پر 25 رنز بنائے جس میں تین چوکے شامل تھے۔
وِل سمیڈ نے ایل بی ڈبلیو کے ریویو پر اپنی وکٹ بچاتے ہوئے اس ٹورنامنٹ میں اپنی دوسری نصف سنچری مکمل کی۔ دوسری جانب وکٹ کیپر حارث افتخار احمد کو رن آؤٹ کرنے میں ناکام رہے۔
آخری چھ اوورز میں کوئٹہ کو جیت کے لیے 79 رنز درکار تھے۔ اس موقع پر وہاب ریاض کا دوسرا اوور کوئٹہ کے سکور میں 16 رنز کا اضافہ کر گیا جس میں سمیڈ کے دو چھکے بھی شامل تھے لیکن عثمان قادر نے زلمی کو دو اہم کامیابیاں دلوا دیں۔
یہ بھی پڑھیے
انھوں نے اپنے چوتھے اوور میں افتخار احمد اور عمراکمل کی وکٹیں لے کر مقابلے کو دلچسپ بنا دیا۔ اس وقت کوئٹہ کو جیت کے لیے 24 گیندوں پر 60 رنز درکار تھے۔
وِل سمیڈ کوئٹہ کی آخری امید کے طور پر کریز پر تھے لیکن یہ امید اٹھارہویں اوور میں اس وقت دم توڑ گئی جب سلمان ارشاد نے انھیں 99 رنز پر بولڈ کر دیا۔ ان کی اننگز میں بارہ چوکے اور تین چھکے شامل تھے۔
یہ اس ٹورنامنٹ میں دوسرا موقع ہے کہ وِل امیڈ نروس نائنٹیز کا شکار ہوئے ہیں۔ اس سے قبل وہ زلمی ہی کے خلاف کراچی کے میچ میں 97 رنز پر آؤٹ ہوئے تھے۔
ان کے آؤٹ ہونے کے بعد کوئٹہ کے لیے اس میچ میں کچھ بھی نہیں بچا تھا۔
مقررہ 20 اوورز کے اختتام پر کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی ٹیم 8 وکٹوں پر 161 رنز تک ہی پہنچ پائی۔
'عثمان قادر کی گوگلی نے آج عبدالقادر کی جادوگری کی یاد تازہ کر دی'
پہلی اننگز میں جہاں نسیم شاہ کے بہترین سپیل کے سب دیوانے ہو رہے تھے وہیں دوسری اننگز میں عثمان قادر کو خوب داد ملی۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/IanBishop
نسیم شاہ کے مداحوں میں ویسٹ انڈیز کے سابق فاسٹ بولر ایئن بشپ بھی شامل تھے جنھوں نے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’نسیم شاہ شاہین شاہ آفریدی جیسی بولنگ کرنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔
پہلی اننگز میں بین کٹنگ اور سہیل تنویر کے درمیان تکرار بھی صارفین کو نہیں بھایا اور انھوں نے دونوں کو ہی تنقید کا نشانہ بنایا۔
دوسری اننگز میں عثمان قادر کی بہترین بولنگ کو دیکھتے ہوئے ایک صارف نے لکھا کہ ’کیا یہ عثمان قادر بولنگ کر رہے ہیں یا مرحوم عبدالقادر۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@TigerZindaHay
عثمان قادر کی خوبصورت گوگلی اکثر کے دلوں کو بھائی اور انھیں عبدالقادر کی گوگلی کی یاد آ گئی۔ ایک صارف نے لکھا کہ 'عثمان قادر کی گوگلی نے آج عبدالقادر کی جادوگری کی یاد تازہ کر دی۔'
ول سمیڈ کی عمدہ بیٹنگ پر ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ ول سمیڈ تو آج بابر اعظم بنا پڑا ہے، تنِ تنہا ہی اپنی ٹیم کو جتوا رہا ہے۔‘


























