پی ایس ایل 7 میں کراچی کنگز بمقابلہ اسلام آباد یونائیٹڈ: عماد وسیم اور انڈر 19 کپتان قاسم اکرم کی شاندار بیٹنگ کے باوجود کراچی کنگز ایک رن سے ہار گئی

بابراعظم

،تصویر کا ذریعہPCB

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
  • وقت اشاعت

ہر گزرتے دن ایک کے بعد ایک شکست کراچی کنگز کے زخموں کو گہرا کرتی جا رہی تھی لیکن پیر کی شب کی شکست شاید وہ اس لیے کبھی نہیں بھولے گی کہ جیت قریب آ کر ہاتھ سے نکل گئی۔

اسلام آباد یونائیٹڈ نے یہ میچ ڈرامائی انداز میں صرف ایک رن سے جیت لیا۔

یہ کراچی کنگز کی مسلسل ساتویں شکست ہے جس کے بعد اب وہ عملاً پلے آف کی دوڑ سے باہر ہو گئی ہے۔

اس شکست پر ایک سوشل میڈیا صارف نے تبصرہ کیا کہ آج تو لاہور والوں کو بھی کراچی پر ترس آ رہا ہو گا۔

اسلام آباد کی سات میچوں میں یہ چوتھی جیت تھی۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کے بنائے گئے 191 رنز سات کھلاڑی آؤٹ کے جواب میں کراچی کنگز کی ٹیم آٹھ وکٹوں پر 190 رنز بنا سکی۔

یاد رہے کہ دونوں ٹیمیں کے درمیان کراچی میں کھیلا گیا میچ اسلام آباد یونائیٹڈ نے 42 رنز سے جیتا تھا جس میں وہ 177 رنز کے سکور کا کامیابی سے دفاع کرنے میں کامیاب رہی تھی۔

فہیم اشرف کی ریسکیو اننگز

بابراعظم نے اس ایونٹ میں تیسری مرتبہ ٹاس جیت کر پہلے گیند عماد وسیم کے ہاتھ میں تھمانے کا فیصلہ کیا۔ میچ کے پہلے ہی اوور میں دو چھکے مارنے کے بعد تیسرے چھکے کی کوشش رحمن اللہ گرباز کو مہنگی پڑ گئی۔

میر حمزہ غیر متاثرکن پہلے اوور کی تلافی دوسرے اوور میں کرنے میں کامیاب ہو گئے جب انھوں نے محمد اخلاق کو ایل بی ڈبلیو کر دیا۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کی دوسری وکٹ 26 رنز پر گری۔ سکور 27 رنز پر تین وکٹ بھی ہو سکتا تھا اگر کرس جارڈن اسی اوور میں الیکس ہیلز کے دیے گئے چانس کو ایک ناقابل یقین کیچ میں تبدیل کر دیتے۔

شاداب خان اور الیکس ہیلز نے پاور پلے کا اختتام 47 رنز پر کیا لیکن یہ دونوں اپنی اننگز کو بڑے سکور میں تبدیل نہ کر سکے۔

الیکس ہیلز ایک چھکے اور تین چوکوں کی مدد سے 25 رنز بنا کر عمید آصف کی گیند پر بابر اعظم کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔

اسلام آباد یونائیٹڈ کے لیے شاداب خان کا آؤٹ ہونا ایک بڑا نقصان تھا جو تین چوکے اور ایک چھکے کے ساتھ 34 رنز بنا کر عماد وسیم کی گیند کو کٹ کرنے کی کوشش میں بولڈ ہوئے۔

87 رنز پر چار وکٹیں گرنے کے بعد لیئم ڈاسن اور اعظم خان سے بڑی شراکت کی توقع پوری نہ ہو سکی۔ لیئم ڈاسن کو 15 رنز پر عماد وسیم نے جارڈن تھامسن کی گیند پر کیچ کر لیا۔

اعظم خان رن لینے کے بارے میں تذبذب کا شکار ہوئے اور نان سٹرائیکر اینڈ تک پہنچنے سے پہلے ہی عمید آصف، میر حمزہ کی تھرو پر بیلز گرا کر انھیں ڈگ آؤٹ میں واپس بھیجنے کا سامان پیدا کرچکے تھے۔ اعظم خان 22 رنز بنا سکے۔

آصف علی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں کریم جنت کو لگاتار چار چھکے لگانے کے بعد آج پہلی بار اپنے اصل رنگ میں نظر آنے لگے تھے لیکن ایک چوکے اور تین چھکوں پر مشتمل ان کی 28 رنز کی اننگز کرس جارڈن کی گیند پر صاحبزادہ فرحان کے کیچ پر ختم ہو گئی۔

فہیم اشرف

،تصویر کا ذریعہPCB

پچھلے میچ میں نصف سنچری بنانے والے فہیم اشرف اس مرتبہ بھی ٹیم کے کام آئے۔ ان کےدو چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے صرف دس گیندوں پر بنائے گئے 29 رنز اسلام آباد یونائیٹڈ کے لیے ریسکیو ثابت ہوئے۔

اننگز کا 19واں اوور اسلام آباد یونائیٹڈ کو 23 رنز دے گیا جس میں فہیم اشرف نے عمید آصف کو دو چوکے اور دو چھکے مارے۔

آخری گیند پر ڈرامائی نتیجہ

بابراعظم نے بھرپور اعتماد کے ساتھ نوجوان ذیشان ضمیر کو دو چوکے لگا کر کراچی اننگز کے حوصلے بلند کیے لیکن دوسری طرف اسلام آباد یونائیٹڈ کے ڈگ آؤٹ میں پریشانی کے آثار واضح دیکھے جاسکتے تھے کہ شاداب خان فٹنس مسئلے سے دوچار ہو کر میدان چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے تاہم وہ بعد میں میدان میں واپس آ گئے۔

نوجوان فاسٹ بولر ذیشان ضمیر کو بھی اپنے دوسرے ہی اوور میں ان فٹ ہو کر میدان سے باہر جانا پڑا حالانکہ اسی اوور میں انھوں نے اپنی زندگی کی قیمتی وکٹ بابراعظم کی صورت میں حاصل کی تھی۔ بابراعظم 13 رنز بنا کر وکٹ کیپر اعظم خان کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔

ذیشان ضمیر کا اوور مکمل کرنے کے لیے آنے والے لیئم ڈاسن نے اپنی پہلی ہی گیند پر جو کلارک کو صفر پر ایل بی ڈبلیو کر کے کراچی کنگز کو بڑا جھٹکا دیا۔

شرجیل خان کے ارادے خطرناک نظر آئے۔ انھوں نے فہیم اشرف کو ٹارگٹ بنا رکھا تھا۔ ان کے دوسرے اوور میں لگاتار تین چوکے مارنے کے بعد ان کے تیسرے اوور میں بھی ایک چوکا اور ایک چھکا مارتے ہوئے پاور پلے کا اختتام رنز 49 دو کھلاڑی آؤٹ پر کیا۔

صاحبزادہ فرحان کی بیٹنگ میں جارحیت کا فقدان رہا اور ہر اوور کے بعد رن ریٹ کا بڑھتے رہنا شرجیل خان پر بھی دباؤ بڑھائے جا رہا تھا۔

صاحبزادہ فرحان آؤٹ فیلڈ میں رحمن اللہ گرباز کے شاندار کیچ پر آؤٹ ہوئے۔

کراچی کنگز کو یہ فائدہ بھی حاصل تھا کہ شاداب خان کے چار اوورز کون کرے گا لیکن آصف علی نے یہ کمی چونکا دینے والے انداز میں پوری کر دی۔

آصف علی نے اپنے پہلے ہی اوور میں شرجیل خان اور محمد نبی کی وکٹیں حاصل کر ڈالیں۔

شرجیل خان تین چھکوں اور چار چوکوں کی مدد سے 29 گیندوں پر 44 رنز بنا سکے۔

آصف علی کے صبر کی داد دینی پڑے گی کہ اپنے دوسرے اوور میں دو کیچز ڈراپ ہونے پر بھی وہ مسکرا رہے تھے۔ پہلا کیچ رحمن اللہ گرباز نے ڈراپ کیا اور پھر حسن علی بھی یہی غلطی کر بیٹھے۔ دونوں مرتبہ بیٹسمین پاکستانی انڈر 19 ٹیم کے کپتان قاسم اکرم تھے۔

قاسم اکرم پر قسمت مہربان تھی۔ حسن علی کی گیند پر ان کا تیسرا کیچ بھی ڈراپ ہوا جو چھکے میں تبدیل ہو گیا۔

قاسم اکرم

،تصویر کا ذریعہPCB

اسلام آْباد کی خراب فیلڈنگ کراچی کنگز کو دوبارہ میچ میں واپس لے آئی۔ عماد وسیم اور قاسم اکرم کی 108 رنز کی شراکت کراچی کنگز کو جیت کے قریب لے آئی تھی۔

آخری دو اوورز میں جیت کے لیے 24رنز درکار تھے اور یہ ہدف آخری اوور تک صرف آٹھ رن رہ چکا تھا جس میں عماد وسیم نے وقاص مقصود کو چوکا لگایا۔

لیکن اسی اوور میں وہ 28 گیندوں پر چھ چوکوں اور تین چھکوں کی مدد سے 55 رنز بناکر آؤٹ ہو گئے تو تین گیندوں پر چار رنز درکار تھے۔

اسلام آباد یونائیٹڈ

،تصویر کا ذریعہPCB

وقاص مقصود نے جارڈن تھامسن کو بولڈ کیا تو آخری گیند پر جیت کے لیے دو رنز درکار تھے جس پر کرس جارڈن کا رن آؤٹ کراچی کنگز کو جیت سے دور لے گیا۔

قاسم اکرم صرف چھبیس گیندوں پر ایک چھکے اور چھ چوکوں کی مدد سے 51 رنز بناکر ناٹ آؤٹ رہے۔ وقاص مقصود نے تین وکٹیں حاصل کیں اور کرس جارڈن کو رن آؤٹ بھی کیا۔

میچ کے بعد کراچی کے شائقین کو جہاں اس بات پر افسوس تھا کہ ان کی ٹیم نے پی ایس ایل میں مسلسل ساتویں ہار کا ریکارڈ قائم کیا ہے وہیں کم از کم ان کو اس بات کی تسلی تھی کہ ان کی ٹیم نے آج کے میچ کو پی ایس ایل کا سنسنی خیز میچ بنا دیا۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@shahidAbbasiPak

پی ایس ایل سیون کی پہلی فتح کراچی کو چھو کر گزر گئی

اس سنسنی خیز میچ کے اختتام پر متعدد صارفین اس میچ کی پل میں تولہ پل میں ماشہ ہوتی صورتحال پر حیران ہیں اور اس سے خاصے محظوظ بھی ہوئے ہیں۔ کراچی کی پورے ٹورنامنٹ میں بری کارکردگی کے باوجود کپتان بابر اعظم کے مداح افسردہ ہیں کہ ان کے ہیرو سے فتح کیوں روٹھ گئی ہے۔

تاہم اکثر صارفین کو آج کراچی پر ترس بھی آ رہا ہے۔ شاہد عباسی نامی صارف نے لکھا کہ ’پی ایس ایل کی پہلی فتح کراچی کنگز کو چھو کر گزر گئی۔‘

ایک صارف نے لکھا کہ ’اسلام آباد یونائیٹڈ نے میچ پلیٹ میں رکھ کر کراچی کنگز کو دے دیا، جس پر صحافی محمد جنید نے جواباً لکھا کہ ’اور کراچی سے پھر بھی نہیں کھایا گیا۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@junaid

احمر نجیب نے کراچی کی جانب سے انٹرنیشنل کھلاڑیوں کی سلیکشن پر سوالات اٹھائے اور کہا کہ ’یہ دوسرے درجے کے انگلش کھلاڑیوں کو کھلانے سے بہتر ہے مقامی کھلاڑی کھلا دیں۔‘

صحافی ذیشان علی نے لکھا کہ ’کراچی کنگز واحد ٹیم ہے جس نے پی ایس ایل کے گانے کو صحیح سے سمجھا ہے: جیت سے بھی آگے دیکھ۔‘

اس دوران اکثر صارفین نوجوان بلے باز قاسم اکرم کی تعریف کرتے بھی دکھائی دیے جنھوں نے انتہائی دباؤ میں بہترین بلے بازی کا مظاہرہ کیا اور نصف سنچری سکور کی۔

صحافی فیضان لاکھانی نے لکھا کہ کراچی کی آج کی شکست کے باعث قاسم اکرم کی بہترین کارکردگی کو نہیں بھولنا چاہیے جو آج دباؤ میں بہت اچھا کھیلے۔‘