پاکستان بمقابلہ انگلینڈ: ساؤتھیمپٹن میں پاکستان اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان تیسرا ٹیسٹ میچ ڈرا، محمد رضوان بہترین کھلاڑی

،تصویر کا ذریعہTwitter/ICC
ساؤتھیمپٹن میں پاکستان اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان تیسرا میچ ڈرا ہو گیا۔ انگلینڈ نے سیریز ایک صفر سے جیت لی۔ پاکستان کی ٹیم نے فالو آن کے بعد دوسری اننگز میں 4وکٹوں کے نقصان پر 187 رنز بنائے تھے جب کھیل کا وقت ختم ہو گیا۔ میچ کے اختتام پر بابر اعظم 63 اور فواد عالم بغیر کسی سکور کے کریز پر موجود تھے۔
انگلینڈ کی طرف سے جمی اینڈرسن نے دو اور براڈ اور روٹ نے ایک ایک کھلاڑی آؤٹ کیا اور اس دوران اینڈرسن کی ٹیسٹ کرکٹ میں 600 وکٹیں بھی مکمل ہو گئیں۔
سیریز میں شکست کے باوجود سیریز کے بہترین کھلاڑی کا قرعہ پاکستان کے وکٹ کیپر بلے باز محمد رضوان کے نام نکلا۔
محمد رضوان نے تین ٹیسٹ میچز میں 161 رنز بنائے اور وکٹوں کے پیچھے کھڑے ہو کر چھ کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی۔ شاید اس سیریز میں پاکستان کے لیے یہی ایک لمحہ سب سے یادگار تھا جس پر فوری طور پر پاکستان کے کرکٹ بورڈ نے بھی جشن منایا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
پانچویں روز بھی کھیل بارش سے متاثر ہوا۔ میچ کے چوتھے دن بھی کھیل میں بارش کی وجہ سے بار بار خلل پڑتا رہا اور کھیل وقت سے پہلے ہی ختم کرنا پڑا۔

،تصویر کا ذریعہReuters
اس سیریز میں انگلینڈ نے پہلا میچ جیت لیا تھا اور دوسرا میچ برابر ہو گیا تھا۔
واضح رہے کہ انگلینڈ نے اپنی پہلی اننگز میں آٹھ وکٹوں کے نقصان پر 583 رنز بنائے تھے جس کے جواب میں پاکستان کی پہلی اننگز 273 رنز پر اختتام پذیر ہوئی تھی جس کے بعد انگلینڈ نے فالو آن نافذ کرنے کا فیصلہ کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہMike Hewitt/NMC Pool/PA Wire
تیسرے دن کا کھیل
تیسرے دن کے کھیل کے اختتام پر کپتان اظہر علی 141 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔ انھوں نے پراعتماد اننگز کھیلی اور آخر تک انگلینڈ کے باؤلرز کا سامنا کیا۔ میچ کے آخر میں انھیں دو مواقع بھی ملے۔
وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان کے آؤٹ ہونے کے بعد یاسر شاہ میدان میں اترے ہیں۔ یاسر شاہ 15 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔ ان کے بعد شاہین شاہ بیٹنگ کے لیے آئے مگر وہ جلد ہی وکٹ کیپر کو اپنا کیچ تھما بیٹھے۔
محمد عباس آؤٹ ہونے والے نویں بیٹسمین تھے جو رنز آؤٹ ہوئے۔
اس سے قبل محمد رضوان 53 رنز بنا کر کرس ووکس کی گیند پر وکٹ کیپر جوس بٹلر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوئے۔
انگلش بولر جیمز اینڈرسن نے اب تک چاروں وکٹیں حاصل کی ہیں۔ تیسرے روز کے آغاز پر اسد شفیق جیمز اینڈرسن کی آؤٹ سوئنگ گیند پر سلپ میں کیچ آؤٹ ہوگئے۔ وہ صرف 5 رنز بنا سکے تھے۔
دوسرے دن کیا ہوا؟
دوسرے روز انگلینڈ نے پہلی اننگز میں 8 وکٹوں پر 583 رن بنا کر اننگز ڈکلیئر کر دی۔ جواب میں پاکستان نے کھیل کے اختتام تک 3 وکٹوں کے نقصان پر 24 رن بنائے تھے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
پاکستان کی طرف سے شان مسعود اور عابد علی نے بیٹنگ کا آغاز کیا اور چھ کے سکور پر پہلی اور 11 کے سکور پر اس کی دوسری وکٹ گر گئی۔
24 کے سکور پر بابر اعظم بھی آؤٹ ہو گئے۔ اس وقت اظہر علی کریز پر موجود ہیں۔ شان مسعود، عابد علی اور بابر اعظم تینوں جمی اینڈرسن کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔
انگلینڈ کی طرف سے زیک کرولی نے 267 رن بنائے اور ان کی جوس بٹلر کے ساتھ 359 رن کی شراکت ہوئی تھی۔ کرولی اسد شفیق کی گیند پر سٹمپ ہوئے۔ انھوں نے 393 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 34 چوکے اور ایک چھکا لگایا۔ جوس بٹلر 152 رن بنا کر فواد عالم کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔
پاکستانی بولرز میں سے یاسر شاہ، فواد عالم اور شاہین آفریدی نے دو، دو وکٹیں حاصل کیں۔
زیک کرالی کے لیے یاد گار پہلا روز
میچ کے پہلے روز ساؤتھمپٹن میں انگلش کرکٹ ٹیم کے کپتان جو روٹ نے پاکستان کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ میں ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا ہے اور کھیل ختم ہونے پر انگلینڈ نے 332 رنز سکور کر لیے جس میں زیک کرولی کے شاندار 171 رنز شامل ہیں۔
کھیل ختم ہونے پر زیک کرولی اور جوس بٹلر ناٹ آؤٹ تھے۔ جوس بٹلر نے کھیل ختم ہونے تک 87 رنز سکور کیے تھے جس میں نو چوکے اور دو زبردست چھکے شامل تھے۔

،تصویر کا ذریعہPA
یاد رہے کہ تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں پاکستان پہلا میچ ہار گیا تھا جبکہ دوسرے میچ بارش کی نذر ہو گیا تھا۔ تیسرے اور آخری میچ میں اب تک انگلینڈ کی گرفت میچ پر کافی مضبوط ہو گئی ہے اور اگر یہ میچ پاکستان کے ہاتھ سے نکل گیا یا برابر رہا تو گزشہ دس برس میں انگلینڈ میں ٹسیٹ سیریز نہ ہارنے کا پاکستان کی کرکٹ ٹیم کا ریکارڈ بھی خراب ہو جائے گا۔
نئی گیند شاہین آفریدی اور محمد عباس کو دی گئی۔ شاہین نے اپنے تیسرے ہی اوور میں روی برنز کو آؤٹ کیا۔ برنز شاہین کی آؤٹ سوئنگ پر سلپ میں کیچ آؤٹ ہوئے۔
ڈوم سبلی اور زیک کرولی کے درمیان 50 رنز کی شراکت قائم ہوئی جس کے بعد یاسر شاہ کی گیند پر سبلی 22 رنز بنا کر ایل بی ڈبلیو ہوگئے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
پہلے روز کھانے کے وقفے تک انگلینڈ نے دو وکٹوں کے نقصان پر 91 رنز بنائے تھے اور کرولی نے آخری گیند پر چوکا لگا کر اپنی نصف سنچری مکمل کر لی تھی۔
کھیل دوبارہ شروع ہونے پر پہلے نسیم شاہ نے کپتان جو روٹ کو 29 رنز پر کیپر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ کیا اور اس کے بعد یاسر شاہ نے اولی پوپ کو بولڈ کر کے اپنا دوسرا شکار بنایا۔
انگلینڈ نے دوسرے ٹیسٹ کے بعد سیم کرن کی جگہ جوفرا آرچر کو ٹیم میں شامل کیا ہے جبلکہ پاکستان نے ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
جو روٹ کی ٹیم کو سیریز میں ایک صفر کی برتری حاصل ہے اور اگر وہ تیسرا ٹیسٹ میچ جیت جاتے ہیں تو گذشتہ دس برسوں میں وہ پہلے انگلش کپتان ہوں گے جنھوں نے پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز جیتی ہو۔

،تصویر کا ذریعہPCB
2010 کے بعد سے پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف چار ٹیسٹ سیریز کھیلی ہیں جن میں سے دو متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے نام رہیں جبکہ دو انگلینڈ میں ڈرا ہوئیں۔
انگلینڈ سکواڈ: جو روٹ (کپتان)، جیمز اینڈرسن، جوفرا آرچر، ڈومنک بیس، سٹیورٹ براڈ، روری برنس، جوس بٹلر، زیک کرولی، سیم کرن، اولی پوپ، اولی رابنسن، ڈوم سبلی، کرس ووکس، مارک ووڈ
پاکستان سکواڈ: اظہر علی (کپتان)، شان مسعود، عابد علی، بابر اعظم، اسد شفیق، فواد عالم، محمد رضوان، یاسر شاہ، شاہین آفریدی، محمد عباس، نسیم شاہ، امام الحق، کاشف بھٹی، سرفراز احمد، سہیل خان، شاداب خان


























