ریاض: سعودی کپ میں خواتین گھڑ سواروں کا خیرمقدم ہو گا

،تصویر کا ذریعہSAUDI CUP
سعودی عرب میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں منعقد ہونے والی اس گھڑدوڑ میں خواتین گھڑسواروں کی شمولیت کی حوصلہ افزائی کی جائے گی جس کی انعامی رقم 27 ملین ڈالر ہے۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں آئندہ برس 29 فروری کو منعقد ہونے والی دوڑ دنیا کی سب سے مہنگی گھڑدوڑ ہو گی۔
سعودی شہزادے بندر بن سلطان نے کہا ہے کہ سعودی کپ میں خواتین گھڑ سواروں کو ’خوش آمدید‘ کہا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے بی بی سی سپورٹس کو بتایا یہ ایونٹ ملک کو ’بدلنے‘ کی کوششوں کا حصہ ہے۔
جب ان سے جوکیز کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا کہ ’مرد اور خواتین گھڑ سواروں کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیا جائے گا۔‘

،تصویر کا ذریعہSAUDI CUP
لندن میں ہونے والے ایک پروموشنل ایونٹ میں برطانوی ریسنگ کی اہم شخصیات نے شرکت کی جس میں جوکی فرینکی ڈیٹوری کے علاوہ سر مائیکل سٹوٹی اور جان گوسڈن جیسے اعلیٰ ٹرینزز شامل تھے۔
یہ سعودی عرب میں منعقد ہونے والے کھیلوں کا تازہ ترین واقعہ ہے جس میں باکسنگ کی دنیا کا ہیوی ویٹ ٹائٹل میچ اینڈی روئز اور انتھونی جوشوا کے درمیان دسمبر میں ہونا ہے۔
شہزادہ بندر بن سلطان جن کے چچا شہزادہ خالد عبداللہ فرینکل اور این ایبل جیسے معروف ریس گھوڑوں کے مالک ہیں کا کہنا ہے کہ ملک ’مزید کھلے‘ دور کی تیاری کر رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ان کا مزید کہنا تھا ’ہم مملکت میں ایک تبدیلی سے گذر رہے ہیں، ہم سیکھ رہے ہیں لیکن ہم کھول رہے ہیں اور وہاں جانے کی ایک سیاسی مرضی ہے۔‘
جیمی وسبورن جو برکشائر کے لیمبرن میں ٹریننگ کرتے ہیں اور جنھوں نے پانچ برس قبل ٹوسٹ آف نیویارک کو متحدہ عرب امارات ڈربی جتوائی تھی نے خواتین گھڑ سواروں کے دعوت نامے کا خیر مقدم کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC Sport
سعودی کپ کیا ہے؟
یہ شاہ عبدالعزیز ریس ٹریک پر 20 ملین ڈالر کی انعامی رقم کے ساتھ ایک اہم دوڑ ہے جہاں پانچ دیگر ریسوں کے لیے 6.8 ملین ڈالر کی اضافی رقم ہو گی۔
نو فرلانگ مرکزی ریس کا ٹریک پورپ کے سب سے مہنگے ترین دی پرکس ڈیل ایل آرک ڈی فرانس سے تین گنا زیادہ ہے۔
رن آن اے ون ٹرن ڈرٹ سرکٹ کے زیادہ سے زیادہ 14 سٹاٹرز ہوں گے جس میں 10 ملین ڈالر فاتح کو ملیں گے یہاں تک کہ 10 ویں نمبر پر رہنے والے کو 200,000 ڈالر ملیں گے۔
معاون دوڑوں میں سے دو دوڑیں اسی ٹریک پر ہوں گی جبکہ تین دیگر دوڑیں ایک نئے ٹرف کورس پر ہوں گی۔
اس دوڑ کے منتظیمن ابتدائی سال کے لیے لگ بھگ 12,000 افراد کے ہجوم کی توقع کرتے ہیں جبکہ ٹکٹوں کے خریداروں نے ایسے ملک کے ویزوں کی ضمانت دی ہے جس نے روایتی طور پر بیرون ملک سے آنے والوں کو روک دیا ہے۔
اس کے پیچھے کون ہے؟
ریسنگ ماہرین کی ایک ٹیم فوری طور پر قائم کر دی گئی ہے۔
ٹام ریان جنھیں آئر لینڈ میں ناس ریس کورس کو دوبارہ زندہ کرنے میں مدد دینے کا سہرا جاتا ہے کو جنوری میں سٹریٹیجک ڈائریکٹر کے طور پر بھرتی کیا گیا تھا۔
سابق گرینڈ نیشنل ہینڈی کیپر فل سمتھ کو بھی اس طرح کے کردار کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
برطانوی ریسنگ شخصیت ہیری ہربرٹ اس کے عالمی سفیر ہیں۔
اس منصوبے کی قیادت سعودی شاہی خاندان کے رکن اور شہزاد بندر بن خالد الفیصل ہیں جو جوکی کلب آف سعودی عرب کے چیئرمین بھی ہیں۔
سعودی عرب نئے کھیل میں کیوں ملوث ہو رہا ہے؟
اگرچہ تیل نے معیشتوں کو ہوا دی ہے لیکن وہاں آمدنی کے دوسرے سلسلوں کی بھی ضرورت ہے۔ یہی وہ جگہ ہے جہاں سیاحت اور تفریح آتی ہے۔
سعودی عرب میں موٹر سپورٹس کی ریس آف چیمپیئنز، ایک یورپی ٹور گالف ایونٹ اور برطانوی باکسر عامر خان کا ایک باکسنگ میچ بھی منعقد ہوا۔
سعودی کپ دبئی میں منعقد ہونے والے عالمی کپ سے ایک ماہ پہلے منعقد ہو گا جو کئی سالوں سے دنیا کی سب سے مہنگی ترین ریس تھی۔





















