رہائشی پلاٹ پر تعمیر کردہ کمرشل عمارت میں آتشزدگی سے 15 افراد ہلاک: ’پاپا بلڈنگ میں آگ لگ گئی ہے، مجھے بچا لیں‘

لکھنؤ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنعینی شاہدین نے الزام عائد کیا ہے کہ فائر بریگیڈ وقت پر نہیں پہنچ سکی
وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 6 منٹ

’میرے بھائی نے ہمیں فون کیا اور بتایا کہ وہ اندر پھنس گئے ہیں۔ جان بچانے کے لیے وہ باتھ روم میں چلے گئے، مگر پھر باہر نہ نکل سکے۔‘

یہ کہنا ہے اظہار علی کا جن کے 19 سالہ بھائی شازان علی گذشتہ روز انڈیا کے شہر لکھنؤ میں ایک عمارت میں ہونے والی خوفناک آتشزدگی کے نتیجے میں جُھلس کر ہلاک ہوئے ہیں۔

شازان علی اس واقعے میں ہلاک ہونے والے 15 افراد میں سب سے کم عمر تھے۔ اس حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی عمریں 19 سے 30 سال کے درمیان ہیں، جن میں تین خواتین بھی شامل ہیں۔

یہ تمام افراد روزگار یا تعلیم کے حصول کے سلسلے میں اس عمارت میں موجود تھے۔

لکھنؤ کے علاقے علی گنج میں آتشزدگی کا شکار ہونے والی عمارت دو منزلہ تھی، جس کے گراؤنڈ فلور پر پالتو جانوروں کو فروخت کرنے کی ایک دکان اور ویٹرنری کلینک تھا جبکہ بالائی منزل پر ایک اینیمیشن اور گیمنگ ٹریننگ سینٹر تھا، جہاں نوجوان طلبا اینیمیشن اور کوڈنگ سیکھتے تھے۔

ہلاک ہونے والوں میں اکثریت طلبا کی ہے۔

حکام کے مطابق یہ واقعہ پیر کی دوپہر لگ بھگ دو بجے پیش آیا اور اچانک بھڑک اٹھنے والی آگ نے چند ہی لمحوں میں پوری بلڈنگ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

مقامی افراد اور ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ آگ اس قدر تیزی سے پھیلی اندر پھنسے افراد کو باہر نکلنے کا موقع نہیں مل سکا۔

تصویر
،تصویر کا کیپشنمحمد شازان (دائیں)، سُکھمانی سنگھ (بائیں) اس واقعے میں ہلاک ہوئے ہیں
مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

پربھوجیوت سنگھ کے بیٹے بھی اس واقعے میں ہلاک ہوئے اور انھیں اپنے بیٹے کے ساتھ ہونے والی آخری گفتگو یاد ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’دوپہر تقریباً دو بجے میرے بیٹے کا فون آیا۔ اُس نے کہا ’پاپا، یہاں آگ لگ گئی ہے، مجھے بچا لیں، میں اندر پھنس گیا ہوں۔‘

ہم فوراً روانہ ہوئے اور ریسکیو سروس کو بھی کال کی۔ لیکن جب تک ہم پہنچے، بہت دیر ہو چکی تھی۔‘

اسی طرح 22 سالہ عبدالرحمن بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل ہیں، جنھوں نے محض نو ماہ قبل آئی ٹی ٹیکنیشن کے طور پر کام شروع کیا تھا۔ اُن کے دوست شادان شیخ کے مطابق عبدالرحمن کے والد مفلوج ہیں اور گھر کی تمام ذمہ داری عبدالرحمن کے کاندھوں پر ہی تھی۔

عینی شاہدین کے مطابق عمارت میں پھنسے کچھ افراد نے باہر نکلنے کا کوئی راستہ نہ پانے پر اپنی جان بچانے کے لیے عمارت کے باہر لٹکی بجلی اور انٹرنیٹ کی تاروں کے ذریعے بالائی منزل سے نیچے اُترنے کی کوشش کی، جس کے دوران کئی افراد شدید زخمی ہوئے۔

اس حادثے میں ہلاک ہونے والے نوجوانوں کے اہلخانہ نے عمارت کی انتظامیہ پر الزام عائد کیا ہے کہ عمارت میں داخلے اور وہاں سے نکلنے کا صرف ایک ہی راستہ تھا جو بائیومیٹرک سسٹم پر مبنی تھا اور آتشزدگی کے باعث اس نظام نے کام کرنا چھوڑ دیا، جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اندر ہی پھنس کر رہ گئے۔

اُن کا دعویٰ ہے کہ عمارت میں ایمرجنسی ایگزٹ نہیں تھا جبکہ بنیادی فائر سیفٹی کے انتظامات بھی موجود نہیں تھے۔

کچھ عینی شاہدین کا دعویٰ ہے کہ فائر بریگیڈ کو اس مقام تک پہنچنے میں تقریباً 40 منٹ لگے جس کے باعث ریسکیو آپریشن میں تاخیر ہوئی۔

لکھنؤ کے چیف فائر آفیسر انکُش متل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمیں آگ لگنے سے متعلق پہلی کال 2 بج کر 27 منٹ پر موصول ہوئی۔ کال موصول ہونے کے ایک منٹ کے اندر پہلی گاڑی جائے وقوعہ کے لیے روانہ کر دی گئی تھی۔ ہمارا رسپانس ٹائم ایک منٹ تھا۔ ہماری ریسپانس گاڑی 2 بج کر 45 منٹ پر علی گنج پہنچ چکی تھی۔ دوسری گاڑی 2 بج کر 28 منٹ پر روانہ ہوئی جبکہ تیسری 2 بج کر 31 منٹ پر، اور اس کے بعد ہماری گاڑیاں وقفے وقفے سے مسلسل موقع پر روانہ ہوتی رہیں۔‘

تصویر

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنآتشزدگی کا شکار ہونے والی عمارت کے باہر لواحقین بھی پہنچ گئے تھے

اس بلڈنگ کے نزدیک رہائش پذیر ایک عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ ’میں اپنے کمرے میں تھا جب اچانک باہر سے دھوئیں اور جلنے کی بو آنا شروع ہوئی۔ جب میں باہر نکلا تو دیکھا کہ عمارت میں آگ لگی ہوئی ہے۔ اندر پھنسے لوگ کھڑکیوں سے مدد کے لیے چیخ و پکار کر رہے تھے۔ قریبی لوگوں نے شیشے توڑ کر انھیں بچانے کی کوشش کی، لیکن آگ اس قدر شدید تھی کہ کوئی بھی کچھ خاص مدد نہ کر سکا۔‘

دوسری جانب لکھنؤ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) نے آتشزدگی کا شکار ہونے والی اس عمارت کو مسمار کرنے سے متعلق نوٹس جاری کر دیا ہے۔

ایل ڈی اے کے چیئرمین کے وی سی پرتھمیش کمار نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہ غیر قانونی کمرشل عمارت تھی کیونکہ یہ رہائشی پلاٹ پر تعمیر کی گئی تھی۔ ہم نے تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ ہم ان افسران کے خلاف بھی کارروائی کریں گے جنھوں نے اس حقیقت کو نظر انداز کیا کہ کمرشل عمارت رہائشی پلاٹ کر کیسے تعمیر ہو گئی۔‘

مقامی پولیس نے اس حادثے کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے چار افراد کو گرفتار کیا ہے جو اس کمرشل بلڈنگ کے مالکان بتائے جا رہے ہیں۔ پولیس نے ان افراد کے خلاف مقدمہ بھی درج کر لیا ہے۔

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایک خصوصی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دی ہے، جو واقعے کی انکوائری کر کے اپنی رپورٹ حکومت کو پیش کرے گی۔ حکومت نے مرنے والوں کے اہلخانہ کے لیے معاوضے کا اعلان بھی کیا ہے۔

اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے اس واقعے کو انتہائی دل دہلا دینے والا قرار دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ایک پیغام میں، راہل گاندھی نے مرنے والوں کے اہلخانہ سے تعزیت کی اور آگ میں زخمی ہونے والوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔

اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور ریاست میں اپوزیشن کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے لیڈر اکھلیش یادو نے اس معاملے کی مکمل تفتیش کا مطالبہ کیا ہے