پاکستان اور افغانستان کے میچ میں جھگڑا: ہیڈنگلے میں ہیش آنے والے واقعات کی برطانوی پولیس تحقیقات کر رہی ہے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ کے علاقے مغربی یارکشائر کی پولیس نے ہیڈنگلے میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان کرکٹ میچ کے دوران ہونے والے تشدد کے واقعات کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ابھی تک تین گرفتاریاں عمل میں لائی جا چکی ہیں جن میں سے دو کو کسی الزام کے بغیر چھوڑ دیا گیا جبکہ ایک کو ضمانت پر رہا کیا گیا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے میچ کے شروع ہونے سے پہلے، میچ کے دوران اور بعد میں بد نظمی کے واقعات دیکھنے میں آئے تھے۔ یہ میچ پاکستان تین وکٹ سے جیت گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
پولیس کا کہنا ہے کہ اب ہیڈنگلے میں ہونے والے باقی دو میچوں کے دوران وہاں پولیس کی زیادہ نفری تعینات کی جائے گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
جمعرات کو لیڈز کے اس سٹیڈیم میں افغانستان کا میچ ویسٹ انڈیز سے ہو گا جبکہ ہفتے کو انڈیا اور سری لنکا آمنے سامنے آئیں گے۔
گذشتہ ہفتے منظر عام پر آنے والی کئی ویڈیوز میں گراؤنڈ کے باہر پاکستانی اور افغان شائقین کو آپس میں الجھتے ہوئے اور ایک گروہ کو سٹیڈیم اور مرکزی سڑک کے درمیان موجود گیٹس کو توڑنے کی کوشش کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
کچھ لوگ گراؤنڈ کے اردگرد لگی باڑ کو پھیلانگ کر گراؤنڈ سے ہوتے ہوئے ویسٹرن ٹیرس کے پیچھے جانے کی بھی کوشش کر رہے تھے۔
افغانستان کے خلاف پاکستان کی سنسنی خیز فتح کے بعد بھی دونوں ٹیموں کے مداحوں کے درمیان لاتوں اور گھونسوں کا تبادلہ سٹینڈز میں بھی جاری رہا اور لوگ دوڑ کر پچ پر بھی چلے گئے۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’وہ شائقین کی ایک اقلیت کے درمیان جھگڑے کے بارے میں آگاہ ہیں۔‘
سپرنٹینڈینٹ پولیس کرس براؤن کہتے ہیں کہ ’ہمارے پاس اب پورے واقعے کی ایک بہتر تصویر موجود ہے کہ میچ سے پہلے، اس کے دوران اور بعد میں گراؤنڈ کے اندر اور باہر کیا کچھ ہوا اور ہمیں اس بات کا ادراک ہے کہ ان جرائم کی مکمل مجرمانہ تحقیقات کی جانے کی ضرورت ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’اگرچہ ہمارے پاس ایسی کوئی براہ راست اطلاع نہیں کہ لوگ اس میں زخمی ہوئے ہیں لیکن اس فٹیج سے یہ پتہ چلتا ہے کہ لوگوں پر حملہ کیا گیا ہے۔
’کرکٹ میں ہجوم کی طرف سے جھگڑے کے واقعات تقریباً نہیں ہوتے اور اس لیے ہم نے سنیچر کے میچ کو کم رسک والا جانا اور سکیورٹی آپریشن کے لیے گراؤنڈ میں پولیس کے بجائے منتظمین کو ہی ذمہ داری نبھانے دی۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
























