دفتر میں کیک کھایا تو ’صحت خراب ہوگی‘

ان کے خیال میں دفاتر میں کیک پر پابندی نہیں ہونی چاہیے بلکہ کیک کم مقدار میں خریدیں جائیں

،تصویر کا ذریعہThinkstock

،تصویر کا کیپشنان کے خیال میں دفاتر میں کیک پر پابندی نہیں ہونی چاہیے بلکہ کیک کم مقدار میں خریدیں جائیں
وقت اشاعت

ایک سینیئر ڈینٹسٹ کا کہنا ہے کہ دفتر میں اپنے ساتھیوں کی سالگرہ، منگنی یا صرف ہفتے کے اختتام پر جشن مناتے ہوئے کیک کھانا صحت کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔

رائل کالج آف سرجنز کے پروفیسر نائجل ہنٹ کا کہنا ہے کہ ’کیک کلچر‘ سے موٹاپے اور دانتوں کے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔

دانتوں کے ڈاکٹروں کے لیے ادارے کے سالانہ کھانے کے موقع پر نائـجل ہنٹ کہیں گے کہ دفتر یا کام کرنے کی جگہوں پر کھانے سے لوگ وزن کم نہیں کر سکتے۔

ان کے مطابق سٹاف کو کیک کی جگہ پھل، میوے اور پنیر کھانا چاہیے۔

اپنی تقریر میں وہ بتائیں گے کہ ’مینیجرز اپنے ملازمین کو ان کی محنت کے بدلے میں کچھ دینا چاہتے ہیں، ایک ساتھ کام کرنے والے خاص مواقعوں پر جشن منانا چاہتے ہیں اور کارکن اپنی چھٹیوں کے بعد تحائف کے جانا چاہتے ہیں۔‘

وہ بتانے والے ہیں کہ ہر سال تقریباً 65000 نوجوانوں کو دانتوں کے خراب ہونے کی وجہ سے ہسپتال جانا پڑتا ہے۔

نائجل ہنٹ نے اپنی تقریر میں کہنا ہے کہ ’کیک کلچر سے ان لوگوں کے لیے مشکلات ہو سکتی ہیں جو اپنا وزن کم کرنا چاہتے ہیں یا صحت مند ہونا چاہتے ہیں۔‘

ان کے خیال میں دفاتر میں کیک پر پابندی نہیں ہونی چاہیے بلکہ کیک کم مقدار میں خریدیں جائیں اور صرف دوپہر کے کھانے کے ساتھ کھائے جائیں۔

دانتوں کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کھانے کے درمیان چینی اور نشاستے والی اشیا میں کمی لانی چاہیے کیونکہ ان سے جراثیم میں اضافہ ہوتا اور وہ ایسی تیزابیت پیدا کرتے ہیں جن سے دانت گل سڑ جاتے ہیں۔

’ذمہ دار مالکان کو میٹنگز کے دوران ایسے سنیکس سے دور رہنے میں پہل کرنی چاہیے۔‘