قطب شمالی میں کھدائی کے خلاف الاسکا میں انوکھا مظاہرہ

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
امریکہ کے شمال مغربی ساحلی شہر سیئیٹل میں تیل نکالنے والی کمپنی شیل کی قطب شمالی میں سرگرمی کے خلاف سینکڑوں افراد نے اپنی اپنی کشتیوں میں اکٹھا ہوکر مظاہرہ کیا ہے۔
’پیڈل ان سیئٹل‘ نامی اس مظاہرے کا انعقاد ان رضاکاروں نے کیا ہے جن کا خیال ہے کہ قطب شمالی میں شیل کمپنی کی جانب سے تیل کی کھدائي سے ماحولیات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
یہ مظاہرہ شیل کمپنی کے دو بڑے تیل نکالنے والے جہازوں میں سے ایک کی سیئیٹل آمد کے بعد کیا گیا۔
شیل کمپنی کا ارادہ ہے کہ وہ ان جہازوں کو الاسکا کے شمالی ساحل کی جانب تیل کی تلاش کے لیےگرمیوں میں روانہ کرے گا۔
اس سے قبل رواں ہفتے کے اوائل میں شیل کمپنی کو قطب شمالی یعنی آرکٹک میں تیل کی تلاش کے لیے امریکی وزارتِ داخلہ کی جانب سے مشروط اجازت دی گئی تھی۔
اس اینگلو ڈچ کمپنی کو ابھی تیل کی کھدائی کے لیے وفاقی حکومت اور الاسکا کی ریاستی حکومت سے بھی اجازت نامے حاصل کرنے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES
اس مظاہرے کے تحت ہر قسم کی چھوٹی بڑی کشتیوں میں سوار افراد 400 فٹ (122 میٹر) اونچے ’پولر پایونیئر‘ نامی تیل کے لیے کھدائی کرنے والے جہاز کے گرد قافلے کی شکل میں اکھٹے ہوئے۔
اطلاعات کے مطابق شمسی توانائی سے چلنے والا ایک جہاز بھی اس مظاہرے میں شامل ہونے والا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خبررساں ادارے اے پی کے مطابق سیئرا کلب کے ’آور وائلڈ امریکہ‘ مہم کے الاسکا میں نمائندے علی ہاروی نے کہا ’اس ہفتے لوگوں کو مزید ایک موقع مل رہا ہے کہ وہ اپنی آواز سنے جانے کا مطالبہ کریں۔‘
انھوں نے کہا ’جہاں تک قطب شمالی میں کھدائی کا تعلق ہے تو اس بارے میں سائنس بہت واضح ہے کہ اس گندے ایندھن کے لیے زیر زمین جگہ ہی محفوظ ترین مقام ہے۔‘
دوسری جانب کشتیوں کے قافلے کی حمایت میں مظاہرین خشکی پر بھی یکجا ہو رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
سیئیٹل بندرگاہ کا ٹرمینل پانچ ماحولیات کی حمایت میں مظاہرہ کرنے اور حکام کے درمیان اس وقت سے تناؤ کا مرکز رہا ہے جب سے حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ جاڑوں کے زمانے میں شیل کمپنی کا جہاز وہاں لنگڑ انداز رہے گا۔
خیال رہے کہ شیل نے ایک جہاز میں آگ لگنے اور سیفٹی کے انتظامات میں کمی کے باعث دو سال قبل کھدائی روک دی تھی۔
کمپنی نے قطب شمالی میں تیل کی تلاش پر تقریبا چھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس علاقے میں تیل اور گیس کے ابھی تک دریافت نہ کیے جانے والے ذخیرے کا 20 فی صد موجود ہے۔



















