یورپ میں شرح پیدائش میں کمی اور کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے تعلق پر تحقیق

    • مصنف, جارج رائٹ
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت

تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ یورپ میں جنوری 2021 میں شرح پیدائش میں پچھلے برسوں کے مقابلے میں 14 فیصد کمی ہوئی ہے۔ یہ کمی ممکنہ طور پر کووڈ-19 کی وباء کی پہلی لہر سے شروع ہوئی تھی۔

جنوری 2021 کووڈ کی وجہ سے لگائے جانے والے لاک ڈاؤن کے نفاذ کے نو سے 10 ماہ بعد آیا تھا۔

تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ طویل لاک ڈاؤن کی وجہ سے حمل کم ہوئے۔

یہ کمی ان ممالک میں زیادہ نظر آئی جہاں صحت کے نظام کو زیادہ بوجھ کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

جریدے ہیومن ری پروڈکشن میں شائع ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق لتھوینیا اور رومانیہ میں سب سے زیادہ کمی دیکھنے میں آئی جو کہ بالترتیب 28 اور 23 فیصد تھی، جبکہ سویڈن جہاں کوئی لاک ڈاؤن نہیں تھا، وہاں شرح پیدائش معمول کے مطابق رہی۔

یہ بھی پڑھیے

محققین کا کہنا ہے کہ آبادیاتی حوالے سے نتائج کے طویل مدتی اثرات ہو سکتے ہیں، خصوصاً مغربی یورپ میں جہاں عمر رسیدہ افراد کی آبادی زیادہ ہے۔

لوزان یونیورسٹی ہسپتال کے ایک مڈوائف سونوگرافر، ڈاکٹر لیو پومر، جنہوں نے یہ تحقیق کی ہے کہتے ہیں کہ ’جتنا طویل لاک ڈاؤن ہوا، اتنے ہی کم حمل واقع ہوئے، یہاں تک کہ ان ممالک میں بھی جو وبائی مرض سے شدید متاثر نہیں ہوئے۔‘

’ہمارے خیال میں کووڈ-19 کی پہلی لہر کے وقت جوڑوں میں صحت اور سماجی بحران کا خوف نو ماہ بعد بچوں کی پیدائش میں کمی کا باعث بنا۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سماجی دوری کے اقدامات، وائرس سے متعلق خدشات اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا سماجی اور معاشی بحران، بالواسطہ عوامل ہو سکتے ہیں جنھوں نے جوڑوں کے حمل کو ملتوی کرنے کے فیصلے میں کردار ادا کیا۔

انگلینڈ اور ویلز میں جنوری 2018 اور 2019 کے مقابلے میں جنوری 2021 میں 13 فیصد کمی دیکھی گئی، جبکہ سکاٹ لینڈ میں پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد میں 14 فیصد کمی واقع ہوئی۔

فرانس اور سپین میں بالترتیب 14 فیصد اور 23 فیصد کمی دیکھی گئی۔

مطالعہ کے مطابق مارچ 2021 میں، بچوں کی پیدائش کی شرح وبائی امراض سے پہلے کی سطح پر واپس آ گئی تھی، جو کہ لاک ڈاؤن کے خاتمے کے نو سے 10ماہ بعد دوبارہ واپسی کے مساوی ہے۔

لیکن محققین کہتے ہیں کہ ایسا نہیں لگتا کہ اس واپسی نے دو ماہ قبل پیدائش کی شرح میں کمی کی تلافی کی ہو۔

ڈاکٹر پومر کہتے ہیں ’حقیقت یہ ہے کہ پیدائش میں ری باؤنڈ کا رجحان جنوری 2021 میں ہونے والی کمی کی تلافی نہیں کرتا ہے، خاص طور پر مغربی یورپ میں جہاں عمر رسیدہ آبادی موجود ہے۔‘