ہورڈنگ ڈس آرڈر: جب ناکارہ چیزیں جمع کرنے کا شوق بیماری بن جاتا ہے

- مصنف, لورا پلٹ
- عہدہ, بی بی سی، منڈو
- وقت اشاعت
چائے کے پیالے، خالی بوتلیں، پلاسٹک کے ڈبے اور سی ڈیز۔۔۔ ایڈورڈ براؤن کے گھر میں آپ کو لگ بھگ ہر چیز ملے گی۔
کسی توجیہہ کے بغیر ایک دوسرے پر ڈھیر کی ہوئی یہ چیزیں انھوں نے ساری عمر جمع کی ہیں جس کی وجہ سے ان کے گھر میں رہنا مشکل ہو رہا ہے۔
شمالی انگلینڈ کے شہر بلیک برن کے 60 سال کے ایڈورڈ براؤن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’یہاں آنے والے لوگوں کو حرکت کرنے کے لیے جگہ نہیں ملتی۔‘
براؤن کو علم ہے کہ ان کے ساتھ مسئلہ ہے لیکن انھیں اس سے نمٹنے کے لیے مشکل پیش آ رہی ہے۔
وہ ہورڈنگ ڈس آرڈر کا شکار ہیں، یہ ایک ذہنی مسئلہ ہے جس میں انسان ایسی چیزوں سے چھٹکارا حاصل کرنے میں مشکل محسوس کرتا ہے جو دوسروں کے لیے بہت کم اہمیت رکھتی ہیں۔
کلینیکل سائیکالوجسٹ اور ایلینوئس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر گیروگری چیسن نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس مشکل کی وجہ سے عموماً چیزوں کا ایک انبار لگ جاتا ہے جس سے رہنے کی جگہ میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا مشکل ہو جاتا ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا ’کمرے اس مقصد کے لیے استعمال ہی نہیں ہو سکتے جس کے لیے وہ بنائے گئے ہیں۔ آپ کچن میں کھانا نہیں بنا سکتے اور بیڈ روم میں سو نہیں سکتے۔‘
اخبار، میگزین، کھانے کے ڈبے، جوتے، تاریں، چھتریاں، بوتلوں کے ڈھکن، یہ سب چیزیں چاہے صحیح یا ٹوٹی پھوٹی حالت میں ہوں انھیں ذخیرہ کرنے والے کے لیے قیمیتی بن جاتی ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہورڈنگ ڈس آرڈر کسی خاص صنف، تہذیب یا معاشی صورتحال رکھنے والے افراد کو نہیں ہوتا۔
امریکن سائکیٹرک ایسوسی ایشن کے مطابق دنیا بھر کی آبادی کا 2.5 فیصد اس ذہنی حالت کا شکار ہے ان میں زیادہ تعداد ان افراد کی ہوتی ہے، جن کی عمر ساٹھ سال سے زیادہ ہوتی ہے یا انھیں بے چینی یا ڈپریشن جیسے ذہنی مسائل ہوتے ہیں۔
دسمبر 2021 میں نفسیاتی تحقیق کے جریدے میں شائع ہونے والے ایک مطالعے میں بتایا گیا ہے کہ اس ذہنی حالت کی علامات میں کووڈ 19 کی وبا کے دوران بہت زیادہ اضافہ ہوا۔
جذباتی لگاؤ
ہورڈنگ کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ اس کا شکار افراد میں چیزوں کے حصول اور انھیں اپنے پاس رکھنے کی شدید خواہش ہوتی ہے۔
کرسٹینا بریٹیواٹس کینیڈا میں یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا میں ایوسی ایٹ پروفیسر ہیں، انھوں نے ہورڈنگ ڈس آرڈر پر سپیشیلائزیشن کر رکھی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ’ہم اس صورتحال میں نہ صرف افراتفری کا عالم دیکھتے ہیں بلکہ اس میں چیزیں خریدنے کی خواہش یا زندگی میں آنے والی چیزیوں کو جمع کرنے کی خواہش ہوتی ہے۔‘
’لوگ ان چیزیوں سے متعلق اپنے اعتقاد کی وجہ سے انھیں محفوظ کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ان سے ان کا شدید جذباتی لگاؤ ہوتا ہے۔‘
کرسٹینا بریٹیواٹس کا کہنا ہے کہ ان کے مریض بتاتے ہیں کہ ’ان چیزوں کا ذخیرہ مجھے اسی طرح عزیز ہے جیسے میری بہن ہے۔ ان سے الگ ہونا ایسا ہی ہے جیسے اس سے اپنے تعلقات ختم کر لوں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ ’یہ چیزیں ان کی شناخت کا حصہ ہیں۔‘
اس کیفیت کا شکار افراد کا یہ بھی خیال ہوتا ہے کہ شاید کسی روز انھیں اس کی ضرورت پڑ جائے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ہورڈنگ کے خطرات
ہورڈنگ میں بہت سے طبی خطرات ہوتے ہیں اور یہ اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہوتے ہیں جتنے یہ بظاہر نظر آتے ہیں۔
پروفیسر گیروگری چیسن کا کہنا ہے کہ ’ہورڈنگ کی شدید حالت میں ہر طرح کے خطرات ہو سکتے ہیں جیسے کہ آگ لگنے کا خطرہ، گرنے کا، چوٹیں لگنے کا اور کیڑے مکوڑوں کی وجہ سے دمے جیسے بیماریاں لاحق ہونے کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔‘
ذہنی صحت کے حوالے سے دیکھا جائے تو اس مشکل کا شکار افراد معاشی طور پر الگ تھلگ ہو جاتے ہیں۔
کرسٹینا بریٹیواٹس کہتی ہیں کہ چونکہ معاشرے میں اسے باعث شرم قرار دیا جاتا ہے اس لیے لوگ اسے مخفی رکھتے ہیں۔ معاشرے میں اسے سستی، غیر اخلاقی یا ذاتی معیار کی گرواٹ سمجھا جاتا ہے اور اسے ذہنی صحت کا مسئلہ نہیں سمجھتے۔
کیا ہمارے ارد گرد کوئی ہورڈنگ کا شکار فرد ہے؟
ہم میں سے کئی لوگ بہت سی چیزیں سنیجدہ وجوہات کی وجہ سے سنبھال کر رکھتے ہیں۔ درحقیقت ارتقائی نقطۂ نظر سے ہم بنیادی طور پر چنندہ چیزیں جمع کرتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب بالکل نہیں کہ ہم ہورڈنگ کا شکار ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کرسٹینا بریٹیواٹس وضاحت کرتی ہیں کہ اسے سمجھنا ضروری ہے کہ ہورڈنگ کا رویہ کیا ہے، جیسے کہ یہ ایک تسلسل سے بڑھتا ہے کم سے شدید تر تک لیکن کیا ہمارے سامنے کوئی ہورڈنگ کا کیس ہوتا ہے یا صرف ایک چیزیں جمع کرنے والی فرد؟
پروفیسر گیروگری چیسن کہتے ہیں کہ ’کبھی کبھی ان میں تفریق کرنا مشکل ہوتا ہے۔‘
’لیکن یہ ایک مسئلہ بن جاتا ہے اور جب یہ لوگوں یا ان کے گرد رہنے والوں کے لیے پریشانی کا باعث بننے لگے تو اس کی تشخیص ہو سکتی ہے۔‘
یہ اس صورتحال پر بھی لاگو ہوتا ہے جب اس انبار کی وجہ سے گھر کے روز مرہ معمولات ناممکن ہو جائیں۔
جب آپ ہورڈنگ کے بارے میں سوچتے ہیں تو آپ کے دماغ میں ایسے گھر کا نقشہ آتا ہے جہاں چیزوں کا اس قدر انبار ہے کہ گھر کے مالک کا ان کی وجہ سے کمرے کے دروازے تک جانا دشوار ہے۔
کچھ معاملات اس قدر سنگین تھے کہ یہ شہہ سرخیوں اور ٹیلی وژن پروگرامز کا حصہ بنے۔
اس کا مزید بہت اندازہ لگانے کے لیے آپ زیر نظر تصویر دیکھ سکتے ہیں۔ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ کب ہورڈنگ ایک ذہنی صحت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہFrost RO, Steketee G, Tolin DF, Renaud S.
یہ ایسی تصاویر کے مجموعوں میں سے ایک ہے جن میں لوگ کمرے، کچن اور بیڈ روم میں ایک سے نو درجہ تک چیزوں کے انبار دکھائے گئے ہیں۔
یہ سنہ 2008 میں سائیکو پیتھالوجی اینڈ بیہیوئیرل اسیسمنٹ کے جریدے میں شائع ہونے والے مطالعے کا حصے ہے اور اس میں بتایا گیا ہے کہ تیسرے درجے کے بعد ایک فرد ہورڈنگ ڈس آرڈر کا شکار ہو جاتا ہے۔
وجوہات
چیزوں کا انبار اگرچہ اس مسئلہ کا ظاہری پہلو ہے۔
کرسٹینا بریٹیواٹس وضاحت کرتی ہیں کہ ’اس ڈھیر کے نیچے استعاراتی اور لفظی دونوں طور پر اس مسئلے کے کچھ ایسے پہلو بھی ہیں جو کم نظر آتے ہیں لیکن وہ بھی اس رویے کی وجہ بننے کے لیے اتنے ہی اہم ہے۔ ‘
شخصیت کی کچھ مخصوص خصلتیں ہوت یہیں، فیصلہ کرنے میں مشکلات پیشں آنا، کمال پسندی، ٹال مٹول کرنا، جب یہ سب یکجا ہو جاتے ہیں تو کسی فرد میں ہورڈنگ ڈس آرڈر کا سبب بن سکتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وہ مزید بتاتی ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ لوگ فیصلہ کرنے کے معاملے میں سست ہوتے ہیں اور پھر فوراً ہی اپنے فیصلوں پر سوال اٹھا دیتے ہیں۔
لیکن یہ ان کے ڈس آرڈر کی واحد وجہ نہیں۔
مزید پڑھیے
ایک محقق کا کہنا ہے کہ یہ صرف ارتقائی حیاتیات نہیں، یہ صرف جینیات، یا نیوروبیولوجی نہیں بلکہ یہ تمام چیزیں ایک کردار ادا کرتی ہیں۔‘
کرسٹینا بریٹیواٹس کہتی ہیں کہ ہم جانتے ہیں کہ زبردستی ذخیرہ اندوزی کرنے والے کا دماغ مختلف طریقے سے کام کرتا ہے۔
یہ تبدیلیاں سی ٹی سکین کے دوران اس وقت نوٹ کی گئیں جب ان افراد کو کچھ ایسے ٹاسک دیے جن میں ان جمع شدہ چیزوں سے چھٹکارہ حاصل کرنا بھی شامل تھا۔
’ہمیں یہ پتا چلا کہ ان وجوہات اور زندگی کے کچھ تجربات کی وجہ سے جو اس خاص نقصان سے متعلق تھے نے اس مسئلے کو جنم دیا۔‘
وسط عمری میں یقینی طور پر ہونے کے علاوہ یہ ہورڈنگ ڈس آرڈر بچپن اور جوانی میں بھی ہوتے دیکھا گیا ہے۔
کرسٹینا بریٹیواٹس کہتی ہیں کہ ’ایسے کیسز پر کی گئی تحقیق کے مطابق 50 فیصد کیسز میں یہ لت 11 سے 20 برس کی عمر کے دوران لگ سکتی ہے۔‘
ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ بڑھتی عمر کے ساتھ ہورلانگ ڈس آرڈر ہونے کی وجہ ہے کہ بچوں کے پاس ان کے گرد موجود چیزیں صاف کرنے کے لیے لوگ ہوتے ہیں اور چیزیں جمع کرنے کے امکانات اس وقت تک کم رہتے ہیں جب تک وہ خود بڑے نہیں ہوجاتے۔
علاج
آج تک ہورڈنگ سینڈروم کا کوئی علاج نہیں لیکن اس کے لیے سب سے زیادہ Cogniitve-Behavioural Therapy کا استمعال کیا جاتا ہے۔
اس تھراپی میں لوگوں کے چیزوں سے متعلق احساسات کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
کرسٹینا بریٹیواٹس کہتی ہیں کہ ’نتائج معتدل ہیں، یہ بہت غیر متعلقہ تو نہیں لیکن یہ مکمل طور پر کامیاب بھی نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پروفیسر گیروگری چیسن کا کہنا ہے کہ ’اس طریقے سے ہورڈنگ کی شدت اور اس سے ہونے والے اثرات کو کم کرنے اور اس حالت کا شکار فرد کی مشکلات کم کر کے اس کی زندگی کا معیار بہتر بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔‘
اسی طرح رشتہ دار اور چاہنے والے بھی ان کی مدد کر سکتے ہیں۔
بریٹیواٹس کہتی ہیں کہ ’سب سے پہلے تو انہیں اس مسئلے کو ہمدردی سے لینا چاہیے، بجائے اس کے انھیں مورد الزام ٹھہرایا جائے۔‘
انھوں نے مثال دی ’آپ کہہ سکتے ہیں کہ میں اس گھر میں رہنے کے لیے فکر مند ہوں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ آپ کسی مشکل سے گزر رہے ہیں آپ یہ راستہ استعمال نہیں کر سکتے کیونکہ یہاں رکاوٹ بنی ہوئی ہے اور میں گر سکتا ہوں۔‘
یہ ایسا کہنے سے بہت مختلف ہے کہ ’آپ کو یہ راستہ صاف کرنا چاہیے کیونکہ میں یہاں گر سکتا ہوں۔‘
یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ وہ چاہے جتنے مرضی اچھا سوچتے ہوں لیکن دوست اور خاندان ہمیشہ مدد کے لیے بہترین لوگ نہیں ہوتے۔
پھر بھی یہ لوگ ہورڈنگ کا شکار افراد کو اپنی مدد کی پیش کش کر سکتے ہیں۔
ایڈورڈ براؤن اپنی صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور انھوں نے اپنے قصبے میں ایک امدادی گروپ بی بنایا ہے تاکہ ایسی ہی حالت کا شکار افراد کی مدد کی جا سکے۔
ان کا کہنا ہے ’میں ہورڈنگ کا شکار افراد کی مدد کرنے کے لیے پر جوش ہوں کہ وہ کس طرح اپنی زندگی بہتر کر سکتے ہیں۔‘

























