دنیا کے سب سے بڑے گردے: انگلینڈ کے علاقے ونڈسر کے رہائشی کی آپریشن کے لیے فنڈز کی اپیل

ویرن ہِگز

،تصویر کا ذریعہWARREN HIGGS

وقت اشاعت

برطانیہ میں ایک شخص کے گردے اتنے بڑے ہو گئے ہیں کہ اب چند ہفتوں بعد ڈاکٹرز نے آپریشن کے ذریعے انھیں نکالنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ دنیا میں کسی بھی شخص کے گردوں سے کئی گنا زیادہ بڑے ہیں۔

انگلینڈ کے علاقے ونڈسر سے تعلق رکھنے والے 54 برس کے ویرن ہِگز پولی سسٹک کڈنی ڈیزیز (پی کے ڈی) کا شکار ہیں۔ یہ بیماری گردوں میں سیال کو چھوٹے تھیلوں کی شکل میں بھر دیتی ہے، جسے کیسٹس کہا جاتا ہے۔

ویرن ہِگز کا کہنا ہے کہ ان کے گردے اتنے بڑے ہو چکے ہیں کہ ان کی جان جا سکتی ہے۔ ویرن ہِگز اپنے پیچیدہ اور مہنگے علاج کے لیے فنڈز جمع کر رہے ہیں۔

ویرن کا ایک بچہ بھی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ بیماری انھیں وراثت میں ملی ہے۔ یہ بیماری ان کے لیے 35 برس کی عمر میں پہلی بار اس وقت مسئلہ بن گئی جب اس کی وجہ سے ان کی شریان پھیل گئی، پھر فالج کا حملہ ہوا، جس سے ان کے جسم کا بائیاں حصہ مفلوج ہو گیا۔

لیکن پانچ سال قبل ویرن کے گردوں کا سائز بڑھنا شروع ہو گیا۔ ڈاکٹروں کے مطابق ویرن کے گردے اپنے اصل سائز سے پانچ گنا زیادہ بڑے ہیں۔

سابق اکاؤنٹنٹ ویرن کا کہنا ہے کہ ’میرے گردے بہت بڑے ہو چکے ہیں اور یہ مسلسل بڑے ہو رہے ہیں۔‘

’آپ کے گردے ایک بند مٹھی جتنے ہونے چاہیے جبکہ میرے بہت بڑے ہیں۔ یہ میرے پھیھڑوں اور معدے کو تباہ کر رہے ہیں اور مجھے علم ہے کہ حالیہ معائنے سے پتا چلا ہے کہ اب یہ میرے دل کو بھی تباہ کر رہے ہیں۔‘

‘یہ بہت ہی خوفناک ہے کیونکہ میں چل پھر بھی نہیں سکتا، سانس نہیں لے سکتا۔ آپ کچھ بھی نہیں کر سکتے۔‘

آخری سکین کے مطابق ان کے بائیں گردے کا سائز 10.6 انچ سے بڑھ کر 16 انچ جبکہ دائیں گردے کا سائز 11 انچ سے بڑھ کر 19.2 انچ ہو چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

آپریشن

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ویرن کا کہنا ہے کہ ان کے ڈاکٹرز کے خیال میں ان کے گردوں کا وزن اس وقت دنیا کے سب سے بڑے گردے سے بھی تین گنا زیادہ ہے۔

اس سے پہلے انڈیا میں ایک شخص کے جسم سے 7.4 کلو گرام کا گردہ بھی نکالا جا چکا ہے۔

ویرن ہگز کی زندگی کو بچانے کے لیے اگلے ماہ آپریشن کیا جائے گا جس میں دونوں گردوں کو مکمل طور پر ان کے جسم سے نکال دیا جائے گا اور اس سرجری کے بعد ان کی پوری زندگی کا انحصار ڈائلیسز پر ہو گا۔

ویرن کہتے ہیں ’یہ ایک ایسا ریکارڈ ہے جس کے ساتھ آپ جینا پسند نہیں کرتے، یقین مانیں یہ بہت خوفناک ہے۔ اس بیماری نے حقیقی معنوں میں میری پوری زندگی لے لی ہے۔‘

ویرن کو امید ہے کہ فنڈز جمع کرنے سے وہ علاج کرانے اور فٹنس بحال کرانے کے طریقے اختیار کرنے کے بعد معمول کی زندگی میں واپس آنے کے قابل ہو جائیں گے۔

ٹیکسی فرم ’ونڈسر کارز‘ اور خیراتی ادارے ’ڈرائیون فارورڈ‘ نے ’گو فنڈ می‘ کے نام سے ان کی مدد کے لیے ایک مہم شروع کر رکھی ہے۔

ونڈسر کے رائل بورو اور میڈن ہیڈ کے کونسلر ویرن وزڈم دا کوستا، جو فنڈ جمع کرنے کی مہم کا حصہ ہیں، کا کہنا ہے کہ زندگی میں مشکل حالات کا سامنا کرنے کے باوجود میں ویرن کی رحم دلی، زندگی سے پیار کرنے والی طبعیت سے متاثر ہوا ہوں۔‘

’آپ کیسے ایک چمکتی روشنی کی حمایت نہیں کرنا چاہیں گے۔‘

ویرن ہگز کا کہنا ہے کہ وہ اپنے گردوں کو گھر لے جانا چاہیں گے لیکن بظاہر ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

’میں چاہتا ہوں کہ وہ میرے گھر میں آگ جلانے والی جگہ میں جائیں۔‘