آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
جیمینیڈز میٹیئر شاور: جب کراچی کے ابصار احمد نے شہابیوں کی بارش کا نظارہ محفوظ کر لیا
- مصنف, ریاض سہیل
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
- وقت اشاعت
انجینیئر ابصار احمد دسمبر کی ایک سرد رات کو ہاتھ میں کافی کا کپ لیے آسمان پر کسی شکاری کی طرح نظریں جمائے بیٹھے تھے۔
بالآخر ایک چمکدار سی چیز آسمان پر گزری، انھوں نے اپنے کیمرے کی طرف دیکھا جس کا رُخ خوش قسمتی سے اسی طرف تھا اور اس نے شہابیے کا 30 سیکنڈ کا یہ نظارہ محفوظ کر لیا۔
ابصار احمد خان نے برطانیہ کی ناٹنگھم یونیورسٹی سے ایم ایس کر رکھا ہے اور وہ اس وقت کراچی یونیورسٹی کے شعبے انسٹیٹیوٹ آف سپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی سے وابستہ ہیں۔
انھوں نے شہابیوں کی یہ سرگرمی کراچی کے علاقے سہراب گوٹھ کے قریب ایک رہائشی علاقے میں اپنے گھر کی چھت سے ریکارڈ کی۔
زمین پر ٹوٹے تاروں یا شہابیوں کی بارش ہر سال میں کئی مرتبہ نظر آتی ہے۔ یہ ٹوٹے تارے درحقیقت دمدار ستاروں یا بڑے سیارچوں کے چھوڑے ہوئے ذرات ہوتے ہیں اور زمین جب سورج کے مدار میں گھومتے ہوئے ان ذرات کے حامل علاقے سے گزرتی ہے، تو یہ ذرے زمین کی فضا میں داخل ہوجاتے ہیں۔
زمین کی فضا میں داخل ہونے پر یہ رگڑ کی وجہ سے سخت گرم ہو کر چمک اٹھتے ہیں اور ہوا میں ہی ریزہ ریزہ ہوجاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
’خوش قسمت لمحہ‘
ابصار خان نے بی بی سی کو بتایا کہ 13 دسمبر کو انھوں نے سردی میں تین گھنٹے گزار لیے لیکن اس سرگرمی کی کوئی اچھی تصویر لینے میں کامیاب نہیں ہوسکے۔
’14 دسمبر کو میں کافی لے کر بیٹھ گیا۔ خوش قسمتی سے گذشتہ روز کی نسبت ایک گھنٹے کے دوران ایک شہاب ثاقب گذرا اور انھوں نے اس منظر کو اپنے کیمرے میں محفوظ کرلیا۔ یہ ایک بڑا سنسنی خیز تجربہ اور خوش قسمت لمحہ تھا کیونکہ ضروری نہیں کہ آپ ہر بار اس کو محفوظ کر سکیں۔‘
دسمبر میں شہابیوں کی غیر معمولی سرگرمی
شہابیوں کی سرگرمی کا مشاہدہ سال کے دیگر مہینوں میں بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن دسمبر میں ہونے والی جیمینڈز میٹیئر شاور میں سب سے زیادہ شہابیے نظر آتے ہیں۔
6 دسمبر سے لے 14 دسمبر تک یہ شہابیے نظر آتے ہیں اور 14 تاریخ ان شہابیوں کے عروج کی رات ہوتی ہے۔
ابصار بتاتے ہیں کہ جیمینڈز میٹیئر شاور کو کنگ آف میٹیئر شاورز کہا جاتا ہے اور ایسا اس لیے ہے کیونکہ ان کی تعداد زیادہ ہوتی ہے، یعنی ایک گھنٹے میں آپ ایک سو سے زائد شہابیے تک دیکھ سکتے ہیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ کراچی اور اس جیسے بڑے شہروں میں شہابیوں کا مشاہدہ زیادہ دشوار ہے کیونکہ یہاں ماحولیاتی آلودگی کے ساتھ ’روشنی کی بھی آلودگی‘ ہے۔
’آپ اگر گھپ اندھیرے میں ہیں جہاں آسمان زیادہ صاف اور سیاہ ہے، وہاں پر یہ شاور اور بھی زیادہ واضح ہوگا۔‘
وہ بتاتے ہیں کہ اس لیے ایسی سرگرمیاں ریکارڈ کرنے کے لیے لوگ ٹھٹہ کے ساحلی شہر میرپور ساکرو یا بلوچستان میں ہنگول نیشنل پارک جاتے ہیں۔
آپ شہابیوں کو موبائل فون کے کیمرے میں بھی محفوظ کر سکتے ہیں لیکن یہ تصویر کم کوالٹی کی اور غیر واضح ہوسکتی ہے۔
’میں نے فون کی سیٹنگ ایڈجسٹ کر کے اس کو کرسی پر نصب کیا کیونکہ میرے پاس ٹرائی پوڈ نہیں تھا۔ فون میں بھی یہ لمحہ محفوظ ہوا ہے۔‘
800 سال بعد مشتری اور زحل کی قربت
انجنیئر ابصار خان کا کہنا ہے کہ 21 دسمبر کو مشتری (جوپیٹر) اور زحل (سیٹرن) سیارے ایک دوسرے کے انتہائی قریب ہوں گے، اور یہ ایونٹ کوئی 800 برسوں کے بعد ایسے موقع پر ہوگا جب یہ آسمان میں واضح طور پر دیکھا جا سکے گا۔
ایسا ہر 19.6 برسوں بعد ہوتا ہے اور اس سے قبل یہ سنہ 2000 میں اور 1623 میں بھی ہوا تھا لیکن اس وقت انھیں دیکھ پانا مشکل تھا، جبکہ 1226 میں جب ایسا ہوا تھا تو یہ آسانی سے دیکھا جا سکتا تھا۔
مشتری اور زحل کو ان کے نہایت چمکدار ہونے کی وجہ سے آسمان پر دیکھنا کافی آسان ہوتا ہے اور ان دونوں سیاروں کے راستے ایسے ملنے ہیں جس سے دیکھنے والے کو ایسا معلوم ہوگا کہ وہ ایک ہو گئے ہیں اور ایک ساتھ چمک رہے ہیں۔
’ہمیں لگے گا کہ یہ سیارے نہایت قریب ہیں مگر یہ سب نظر کا کمال ہے۔ زحل اور مشتری کے درمیان تقریباً 80 کروڑ کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ اس وقت کئی ماہ سے ایسے لگ رہا ہے کہ یہ سیارے ایک دوسرے کی جانب بڑھ رہے ہیں اور آخر کار ان کا ملاپ ہو جائے گا۔‘