جزیرہ ماریشیس کے قریب تیل کا بہہ جانا: کیا سمندر میں تیل بہنے کے واقعات میں کمی آئی ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
جزیرہ ماریشیس کے قریب حال ہی میں تیل بہہ جانے کے بعد سمندری راستوں سے تیل کی ترسیل کے خطرات ایک مرتبہ پھر منظرِ عام پر آ گئے ہیں۔
جاپانی آپریٹرز کے بحری جہاز ایم وی وکاشیو سے بحرہِ ہند کے اس جزیرے کے قریب تیل رسنے لگا تھا اور ایک اندازے کے مطابق اس نے 1000 ٹن تیل سمندر میں پھینک کر وہاں پر ایک ماحولیاتی بحران کھڑا کر دیا ہے۔
سمندر میں تیل بہنے یا آئل سپل کے کتنے واقعات ہوتے ہیں؟
انٹرنیشنل ٹینکرز پولوشن فیڈریشن کے مطابق گذشتہ چند سالوں میں ایسے واقعات میں کمی آئی ہے۔ 1970 کی دہائی میں کم از کم سات ٹن تیل لیک ہونے کے سالانہ 80 واقعات ہوتے تھے۔ یہ اوسط اب تقریباً چھ پر آ گئی ہے حالانکہ تیل کے ٹینکروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ بہتر حفاظتی سٹینڈرز اور سخت تر قانون سازی ہے۔ اس حوالے سے بدترین واقعات 1978 اور 1991 کے درمیان پیش آئے اور 1970 کے بعد سے ہونے والے سب سے بڑے آئل سپل میں سے صرف چار فیصد 2010 کے بعد ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مگر ان اعداد و شمار کے ساتھ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ان میں چھوٹے پیمانے کے آئل سپل جو کہ سات ٹن سے کم ہیں، شامل نہیں ہیں اور انٹرنیشنل ٹینکرز پولوشن فیڈریشن کا کہنا ہے کہ ایسے چھوٹے آئل سپل کل آئل سپلز کا 80 فیصد ہوتے ہیں۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ ایسے آئل سپلز کے بارے میں معلومات جمع کرنا انتہائی مشکل ہوتا ہے اور اکثر یہ معلومات غیر مکمل ہوتی ہیں۔
ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے کام کرنے والی تنظیم گرین پیس کا کہنا ہے کہ کوئی بھی آئل سپل خدشات کا باعث ہونا چاہیے۔
گرین پیس کا کہنا ہے کہ ’ایک آئل سپل بھی زیادہ ہے۔ اس وقت دنیا میں بہت سارے تباہ کن آئل سپل میں ہو رہے ہیں۔‘
گرین پیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ انھیں اس بات پر تشویش ہے کہ انٹرنیشنل ٹینکرز پولوشن فیڈریشن کے پاس تمام تر حادثات کی معلومات موجود نہیں ہیں اور نہ ہی وہ تمام طرح کے بحری جہازوں کی مانیٹرنگ کرتے ہیں اس لیے ہو سکتا ہے ان کے پاس کچھ اعداد و شمار نہ ہوں۔
کتنا تیل ضائع ہوا ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یاد رہے کہ دنیا کے کچھ سب سے بڑے سمندری آئل سپلز میں کوئی بحری جہاز ملوث نہیں تھا۔ 1991 میں کویت پر حملہ کرنے والی عراقی فوج نے 80 لاکھ بیرل تیل سمندر میں پھینک دیا تھا تاکہ دشمن فوج کو مشکلات ہو جائیں۔
2010 میں ڈیپ واٹر ہورائزن آئل رگ پر حادثہ ہوا جس کی وجہ سے بہت بڑی مقدار میں تیل میکسکو کے ساحل کے قریب سمندر میں بہہ گیا۔
انٹرنیشنل ٹینکرز پولوشن فیڈریشن کا کہنا ہے کہ گذشتہ کچھ سالوں میں کل ضائع ہونے والا تیل اس پوری دھائی میں ضائع ہونے والے تیل سے زیادہ ہے۔
2010 سے 2020 تک 60 کے قریب حادثے ہوئے جن میں 164000 ٹن تیل سمندر میں بہہ گیا۔ مگر ان 60 میں سے صرف 10 ہی 90 فیصد تیل کے ضیاع کی وجہ بنے۔
آئل سپل ہوتے کیوں ہیں؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
1970 سے 2019 تک تقریباً آدھے آئل سپل کھلے سمندر میں ہوئے اور کل میں سے تقریباً آدھے تب ہوئے جب کسی اور کشتی سے ان کا ٹکراؤ ہوا یا زیرِ آب کسی چیز سے ٹکر ہوئی۔
اس طرح کی ٹکروں کا امکان اس وقت اور بھی بڑھ جاتا ہے جب بحری جہاز بندرگاہ کے قریب یا زمینی آبی راستوں سے جا رہی ہوتی ہیں۔
حادثات کی بہت تھوڑی شرح ان واقعات کی ہے جو لوڈنگ کے دوران یا جہاز کے اینجن میں خرابی کی وجہ سے یا کسی اور تکنیکی مسائل کی وجہ سے ہوئے ہیں۔
اگرچہ آئل سپلز کی کل تعداد میں کمی آئی ہے مگر ٹکروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔۔۔ شاید اس کی وجہ زیادہ جہازوں کا سفر کرنا ہے۔
2010 کے بعد سے سات ٹن یا اس سے زیادہ بڑے آئل سپلز میں سے 44 فیصد ایسے ہیں جو ٹکروں کی وجہ سے ہوئے اور یہ شرح گذشتہ دہائیوں سے زیادہ ہے۔
آئل سپل سے ہونے والے نقصان کا ذمہ دار کون ہے؟
کوئی بھی آئل سپل ماحول کے لیے خطرناک ہوتا ہے مگر ایک چھوٹا سا آئل سپل بھی بہت نقصان پہنچا سکتا ہے۔
کیونکہ تیل پانی پر تیرتا ہے اس لیے کسی بھی آئل سپل میں پانی کے اوپر ایک تیل کی تہہ بن جاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تیل آبی ممالیے اور پرندوں کے پروں سے چپک جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کی پانی کےاوپر تیرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے اور انھیں ٹھنڈ لگنا شروع ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ تیل پی لینے کی صورت میں یہ تیل ان جانوروں کے لیے زہریلا بھی ہوتا ہے۔
اور ضروری نہیں ہے کہ زیادہ مقدار میں تیل لیک ہو تب ہی مسئلہ ہوگا۔ ان کا انحصار حادثے کے جغرافیے، موسمی حالات اور دیگر عناصر جیسے کہ کتنا جلدی صفائی ہو سکتی ہے، پر ہوتا ہے۔
کچھ آئل سپلز بڑے ہونے کے باوجود اتنا نقصان نہیں کر پاتے جتنا کہ چھوٹے سے آئل سپل جیسے کہ ایگزون کا الاسکا میں ہونا والا سپل کر جاتے ہیں۔
حال ہی میں ماریشیس کے قریب ہونے والے آئل سپل میں اتنا تیل تو نہیں لیک ہوا مگر یہ ایک ایسے مقام پر ہوا ہے جو دو محفوظ سمندری ایکو سسٹم اور بین الاقوامی اہمیت کے حامل علاقے کے قریب ہے۔
’یہاں تک کہ نسبتاً، کم مقدار میں تیل بھی وسیع پیمانے پر پھیل سکتا ہے اور یہ ایک بہت بڑا اثر ڈال سکتا ہے ، خاص طور پر اگر یہ آئل سپل پرسکون موسم اور ساحل کے قریب حساس مقامات کے قریب واقع ہوجائیں۔‘

























