برطانیہ: انتہا پسند مواد کو بلاک کرنے کا سافٹ ویئر تیار

،تصویر کا ذریعہGetty Images
برطانیہ نے انتہا پسندی کی روک تھام کے لیے ایک ایسا سافٹ ویئر تیار کیا گیا ہے جو انٹرنیٹ پر جہادی مواد کی نشاندہی کر کے اُسے بلاک کر سکتا ہے۔
برطانیہ کی وزیر داخلہ امبر رڈ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ممکن ہے کہ مستقبل میں ٹیکنالوجی کمپنیوں کو پابند کیا جائے کہ وہ اس سافٹ وئیر کو استعمال کریں۔
یاد رہے کہ برطانوی وزیر داخلہ اس سافٹ ویئر کے بارے میں ٹیکنالوجی کی کمپنیوں سے بات چیت کے لیے امریکہ میں ہیں جہاں وہ انتہا پسندی سے نمٹنے کی دوسری کوششوں پر بھی بات چيت کریں گی۔
اس سافٹ ویئر سے دولت اسلامیہ کی جانب سے پوسٹ کردہ ہزاروں گھنٹے کے مواد کو گزارا گیا تاکہ اسے انتہا پسند مواد کی از خود نشاندہی کرنے کی 'تربیت' دی جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے
اس سافٹ ويئر کو تیار کرنے کے لیے حکومت نے چھ لاکھ پاؤنڈ کا فنڈ دیا ہے اور اسے لندن کی ایک مصنوعی ذہانت بنانے والی کمپنی نے تیار کیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اسے تیار کرنے والی کمپنی اے ایس آئی ڈیٹا سائنس نے کہا ہے کہ یہ سافٹ ویئر دولت اسلامیہ کی انٹرنیٹ پر 94 فیصد سرگرمیوں کی نشاندہی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس کی درستگی کا امکان 995۔99 فیصد ہے۔
اگر کسی مواد کے بارے میں سافٹ ویئر فیصلہ کرنے سے قاصر ہے اور اسے شبہ ہو تو وہ اس کی نشاندہی کرتا ہے اور پھر اس کے بارے میں انسان فیصلہ کر سکتے ہیں۔
انھوں نے واضح کیا کہ ان کا مقصد ان چھوٹی کمپنیوں کے لیے ماڈریشن کے بوجھ کو کم کرنا ہے جن کے پاس موثر طریقے سے اپنی ویب سائٹ پر ان مواد سے نمٹنے کے وسائل نہیں ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
'اوپن انٹرنیٹ' کے حامی اسی طرح کے سافٹ ویئر کے پہلے سے ہی سخت خلاف ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ ان کوششوں سے غلط بات کو تقویت ملتی ہے اور اس کے نتیجے میں جو مواد انتہا پسندی پر مبنی نہ ہو وہ بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔
لندن میں اے ایس آئی کے سافٹ ویئر کے بارے میں صحافیوں کو بریفنگ دی گئی اور کہا گیا کہ وہ اس سافٹ ویئر کے کام کرنے کے طریقے کو ظاہر نہ کریں۔ بحر حال یہ الگوریتھم کی آسان منطق پر مبنی ہے جس میں دولت اسلامیہ کی مخصوص آن لائن سرگرمیوں سے نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
سیلیکون ویلی میں وزیر داخلہ نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ سافٹ ویئر یہ ظاہر کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے کہ انتہاپسندانہ سرگرمیںوں پر قدغن لگانے کا حکومت کا مطالبہ غیر منطقی نہیں ہے۔
انھوں نے کہا: 'یہ اس حقیقت کے متعلق بہت معقول دلیل ہے کہ آپ کو یہ معلوم ہو اور آپ اس بات کی یقین دہانی کر سکیں کہ یہ مواد انٹرنیٹ پر نہیں جانا چاہیے۔
'اس کے لیے ٹیکنالوجی ہے۔ ایسے حربے ہیں جو ویسا ہی کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں جیسا ہم چاہتے ہیں۔ چھوٹی کمپنیوں کے لیے یہ بہت مناسب ہے۔'
خیال رہے کہ سیلیکون ویلی کی فیس بک اور گوگل جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں اس مسئلے کے حل کے لیے اپنے وسائل کا استعمال کر رہی ہیں لیکن یہ سافٹ ویئر چھوٹی کمپنیوں کے لیے ہیں۔

























