اطالوی فوجیوں پر مقدمہ، اٹلی کی بھارت کو تنبیہ

،تصویر کا ذریعہAFP
اٹلی نے اپنے دو فوجیوں پر دو بھارتی مچھیروں کے قتل کے الزام میں بھارت کی جانب سے مقدمہ چلائے جانے کے فیصلے پر غصے کا اظہار کیا ہے۔
اطالوی وزیر اعظم اینریکو لیٹا کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اٹلی اور یورپی یونین اس پر ردعمل کا اظہار کریں گے۔‘
سنہ 2012 میں یہ فوجی ایک اطالوی بحری مال بردار جہاز کی سکیورٹی پر مامور تھے جب انہوں نے پندرہ فروری کو کیرالہ کے ساحل کے قریب ایک چھوٹی کشتی پر فائرنگ کی جس میں دو بھارتی ماہی گیر ہلاک ہوگئے۔
اطالوی فوجیوں کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے بھارتی ماہی گیروں کو سمندری قزاق سمجھ کر ان پر گولی چلائی تھی۔
بھارت کی سپریم کورٹ میں ان فوجیوں کے خلاف قتل کے مقدمے کی سماعت اگلے ہفتے شروع ہوگی۔
بھارت اور اٹلی کے درمیان ایک لمبے عرصے سے جاری سفارتی تنازعہ فروری سنہ 2012 سے جاری ہے جب پہلی مرتبہ لتوری ماسیمیلانو اور سالواتور گیرونی کو قتل کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔
انہیں فروری 2013 کے انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے لیے چار ہفتوں کے لیے اٹلی جانے کی اجازت دی گئی تھی جس کے بعد اٹلی نے ان کی واپسی سے انکار کر دیا تھا۔
اٹلی کا دعویٰ ہے کہ یہ واقع بین الاقوامی سمندری حدود میں پیش آیا تھا لہذا فوجیوں پر مقدمہ اٹلی میں چلایا جانا چاہیے لیکن بھارتی حکومت کا دعویٰ ہے کہ جس وقت فائرنگ کی گئی، اطالوی جہاز بھارتی سمندری حدود میں تھا لہذا ان پر بھارتی قوانین کے تحت ہی مقدمہ چلے گا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دونوں فوجی مارچ 2013 میں واپس دہلی آگئے تھے۔
پیر کو دہلی میں سپریم کورٹ کے باہر اٹلی کے نائب وزیر خارجہ سٹافن دی مستورا کا کہنا تھا کہ فوجیوں پر سمندر میں غیرقانونی کارروائیوں کو روکنے کے قانون (ایس یو اے) کے تحت مقدمہ چلانا ’ناقبل قبول‘ ہے۔

،تصویر کا ذریعہAP
انہوں نے کہا کہ یہ ایک دوست ملک اور اس کی فوج کے دو ترجمانوں پر ’دہشت گرد‘ ہونے کا الزام لگانے کے مترادف ہے۔
ملک کے وزیراعظم نے پیر کو ٹوئٹ کیے گئے ایک پیغام میں کہا تھا کہ اطالوی حکومت ’دہشت گردی کے استعمال کو مسترد کرتی ہے۔‘
بھارتی حکام نے پہلے ایس یو اے کے قانون کے جس سیکشن کے تحت مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا تھا اس میں زیادہ سے زیادہ پھانسی کی سزا ہو سکتی تھی لیکن سنیچر کو حکام کا کہنا تھا کہ وہ اس قانون کے ایک مختلف سیکشن کے تحت مقدمہ چلائیں گے جس میں زیادہ سے زیادہ دس سال کی قید کی سزا ہوسکتی ہے۔
دونوں فوجی اس وقت ضمانت پر ہیں اور دہلی میں اطالوی سفارت خانے میں مقیم ہیں۔
اٹلی نے اس کیس میں تاخیر کے بارے میں شکایت کی ہے جبکہ بھارت کا موقف ہے کہ کیس میں تاخیر کی وجہ وہ گواہ ہیں جو واقعے کے وقت ان فوجیوں کے ساتھ اس بحری جہاز پر موجود تھے اور شہادتیں دینے کے لیے واپس بھارت نہیں آئے۔



















