منموہن سنگھ کا دولت مشترکہ اجلاس کا ’بائیکاٹ‘

بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے دولت مشترکہ کے اجلاس سے کنارہ کش رہنے کا فیصلہ لیا ہے
،تصویر کا کیپشنبھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے دولت مشترکہ کے اجلاس سے کنارہ کش رہنے کا فیصلہ لیا ہے
وقت اشاعت

بھارت میں حکام کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم منموہن سنگھ اس ہفتے کولمبو میں منعقد ہونے والے دولت مشترکہ کے سربراہ اجلاس میں شامل نہیں ہوں گے۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں سری لنکا پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات لگا‏ئے گئے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق منموہن سنگھ نے سری لنکا کے صدر مہندر راج پکشے کو خط کے ذریعے یہ اطلاع دی ہے کہ ان کی جگہ بھارت کے وزیر خارجہ بھارت کی نمائندگی کریں گے۔

اطلاعات کے مطابق اس بابت باضابطہ سرکاری اعلان سوموار کو کیا جائے گا۔

اگر منموہن سنگھ اس سربراہ اجلاس میں شرکت نہیں کرتے ہیں تو کینیڈا کے صدر سٹیفن ہارپر کے بعد وہ اس سربراہ اجلاس کا بائیکاٹ کرنے والے دوسرے رہنما ہوں گے۔

برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ سنہ 2009 میں تمل ٹائگر باغیوں کے خلاف کاروائی کے آخری مہینوں میں جنگی جرائم کی مبینہ خلاف ورزیوں کے متعلق سری لنکا کے صدر راج پکشے کو سخت سوالات کا سامنا ہوگا۔

ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ وہ مسٹر راج پکشے پر زور ڈالیں گے کہ وہ اندھا دھند فائرنگ، ماورائے عدالت پھانسی دینے اور تمل شہریوں کے ریپ کے الزمات کی آزادانہ تحقیقات کروائیں۔

واضح رہے کہ سری لنکا کی حکومت نے ان تمام الزامات کی تردید کی ہے۔

بی بی سی کے سنجوئے مجمدار کا دہلی سے کہنا ہے کہ منموہن سنگھ پر دولت مشترکہ کے اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کے لیے زبردست دباؤ ہے اور بطور خاص یہ دباؤ بھارت میں تمل رہنماؤں کی جانب سے ہے۔

بہر حال مبصرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ایشیا کے بڑے ملک اور بھارت کے حریف ملک چین کے لیے علاقے میں اپنے اثر و رسوخ کے اضافے کی راہیں ہموار ہو جائيں گی۔

بھارت کے ایک اہم کالم نگار شیکھر گپتا نے انڈین ایکسپریس نامی اخبار میں لکھا ہے کہ ’اس کے ذریعے ہم اپنے پائیں باغ یا عقبی صحن میں چین کے لیے جگہ خالی کر دیں گے کہ وہ جنگ کے بعد کے ترقی پذیر سری لنکا میں اپنے قدم جمائے۔‘

واضح رہے کہ دولت مشترکہ یا کامن ویلتھ 53 ممالک کی تنظیم ہے جو پہلے برطانوی سامراج کا حصہ ہوا کرتے تھے۔

اس سے قبل اکتوبر میں سٹیون ہارپر نے کہا تھا کہ انھوں نے اجلاس کے بائیکاٹ کا ابھی تک فیصلہ نہیں لیا ہے۔

تاہم انھوں نے کہا تھا کہ جنگ کے دوران اور اس کے بعد میں سری لنکا میں کی جانے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جواب دہی کی کمی ناقابل قبول ہے۔

واضح رہے کہ کینیڈا میں سب سے زیادہ تمل مہاجرین کی تعداد آباد ہے اور ان میں سے بہت سے لوگ سری لنکا میں کئی دہائیوں تک جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں وہاں پہنچے۔

مختلف اندازوں کے مطابق خانہ جنگی کے آخری مہینوں میں نو ہزار سے 75 ہزار شہریوں کی ہلاکت سامنے آئی تھی۔

سری لنکا کی حکومت نے اس سلسلے میں ایک تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا تھا۔