کابل: امتحانی مرکز میں دھماکے سے کم از کم 19 افراد ہلاک، متعدد زخمی

GETTY IMAGES

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 2 منٹ

کابل میں پولیس کا کہنا ہے کہ افغان دارالحکومت کے ایک تعلیمی ادارے میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم 19 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں بڑی تعداد طلبا کی ہے۔

یہ دھماکہ شہر کے مغرب میں دشت برچی کے علاقے میں واقع ’کاج‘ تعلیمی مرکز میں ہوا۔

اس تعلیمی مرکز کے عہدیداروں نے بتایا کہ طلبا یونیورسٹی کے پریکٹس امتحان میں شریک تھے جب یہ دھماکہ ہوا۔

یاد رہے کہ اس علاقے میں رہنے والی اکثریت کا تعلق اقلیتی ہزارہ برادری سے ہے جنھیں ماضی میں بھی متعدد بار حملوں میں نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

مقامی ٹی وی اور سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی فوٹیج میں قریبی ہسپتال کے مناظر دکھائے جا رہے ہیں جہاں فرش پر لاشوں کی قطاریں بچھی ہوئی ہیں۔ مقامی میڈیا پر اس کالج کے تباہ شدہ کلاس رومز میں ملبہ اور اُلٹی پڑی میزیں اور کرسیاں بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔

ایک ہسپتال میں اپنی بہن کو ڈھونڈنے کے لیے آنے والی ایک خاتون نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’وہ ہمیں یہاں نہیں ملی۔۔۔ وہ 19 سال کی تھی۔‘

Social Media

،تصویر کا ذریعہSocial Media

’کاج ٹیوشن سینٹر‘ ایک پرائیویٹ کالج ہے جہاں مرد اور خواتین دونوں کو تعلیم دی جاتی ہے۔ گذشتہ سال اگست میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک میں لڑکیوں کے زیادہ تر سکول بند ہیں لیکن کچھ نجی سکول کھلے ہیں۔

ابھی تک کسی گروپ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

لیکن ہزارہ برادری جن میں سے اکثریت شیعہ مسلمان ہیں، کو طویل عرصے سے نام نہاد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ اور طالبان دونوں کی طرف سے ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

دولتے اسلامیہ اور طالبان، یہ دونوں گروہ سنی اسلام کے ماننے والے ہیں۔

ہزارہ افغانستان میں تیسری بڑی نسلی اقلیت ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

طالبان کی وزارت داخلہ کے ترجمان نے اس دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی ٹیمیں جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔

ترجمان عبدالنافی ٹاکور کا کہنا ہے کہ معصوم افراد پر حملے دشمن کے غیر انسانی رویے اور اُن کے اخلاقی معیار کی پستی ظاہر کرتے ہیں۔

امریکہ کی جانب سے بھی اس حملے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔

افغانستان میں امریکی مشن کی چارج ڈی افیئرز، کیرن ڈیکر نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے ’امتحان دینے والے طلبا سے بھرے کمرے کو نشانہ بنانا شرمناک ہے۔ طلبا کو بنا کسی ڈر و خوف کے تعلیم حاصل کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

طالبان گذشتہ اگست میں افغانستان میں دوبارہ اقتدار میں آئے تھے اور ان کا کہنا ہے کہ وہ ملک میں استحکام بحال کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔

تاہم ملک میں ان کے حریف گروہ نام نہاد شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے حملے جاری ہیں۔

دشت برچی کے علاقے میں سکولوں اور ہسپتالوں کو سلسلہ وار حملوں میں نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

گذشتہ برس طالبان کے اقتدار میں واپس آنے سے پہلے دشت برچی میں لڑکیوں کے ایک سکول پر بم حملے میں کم از کم 85 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تر طالبات شامل تھیں۔