پرل فارمنگ: انڈیا میں موتیوں کی پیداوار کی صنعت کیسے فروغ پا رہی ہے؟

نریندرا گروا

،تصویر کا ذریعہNarendra Garwa

،تصویر کا کیپشننریندر گروا کو امید ہے کہ رواں برس وہ موتیوں کی فارمنگ سے تین ہزار موتی حاصل کر پائیں گے
    • مصنف, پریتی گپتا
    • عہدہ, ممبئی
  • وقت اشاعت

سنہ 2016 میں نریندرا گروا کو شدید مالی مشکلات کا سامنا تھا۔ راجھستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں رینوال میں اُن کی کتابوں کی ایک چھوٹی سی دکان کافی نقصان میں جا رہی تھی۔

ان کی زیر کفالت ایک خاندان تھا اور وہ کچھ خاص تعلیم یافتہ بھی نہیں تھے۔ اسی صورتحال کے پیش نظر انھوں نے پیسہ کمانے کے دوسرے ذرائع کی جستجو میں انٹرنیٹ پر تلاش شروع کی۔ انھیں پلاسٹک کی بوتلوں میں سبزیاں اُگانے میں کچھ کامیابی ملی لیکن پھر انھیں ایک ممکنہ طور پر زیادہ منافع بخش فصل ملی یعنی موتی۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’راجستھان ایک خشک علاقہ ہے جہاں پانی کی کمی جیسے مسائل ہیں۔ محدود پانی کے ساتھ موتی اگانے کا سوچنا ایک چیلنج تھا لیکن میں نے کوشش کرنے کا فیصلہ کیا۔‘

موتی اس وقت بنتے ہیں جب ایک سیپ اپنی حفاظتی جھلی میں کسی جلن پر ردعمل ظاہر کرتی ہے۔ سیپ اریگونائٹ اور کونچلولین کی پرتیں اکھٹی کرنا شروع کر دیتی ہے جن سے مل کر نیکر بنتا ہے جسے ’موتی کی ماں‘ کہا جاتا ہے۔

قدرتی طور پر بننے والے موتی نایاب ہوتے ہیں مگر آج کل فروخت ہونے والے زیادہ تر موتی سیپ کی فارمنگ کی مدد سے حاصل کیے جاتے ہیں۔

موتی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناگرچہ موتیوں کی فارمنگ بہت بڑھ رہی ہے تاہم اب بھی قدرتی طور پر بننے والے موتیوں کی قدر و قیمت کا کوئی مقابلہ نہیں ہے

نریندرا گروا کو معلوم ہوا کہ سیپی میں موجود کیڑے یا مولسک کو موتی بنانے کی ترغیب دینے کے لیے ایک مصنوعی چڑچڑاپن سیپ میں داخل کیا جاتا ہے۔ تاہم، یہ ایک نازک عمل ہے اور اس دوران سیپ کو احتیاط سے سنبھالنا چاہیے۔‘

انھوں نے تسلیم کیا کہ ’(اس حوالے سے) میری پہلی کوشش تباہ کن تھی۔‘ کیونکہ انھوں نے جو 500 مسلز خریدے تھے اُن میں سے صرف 35 بچ پائے تھے۔

یہ بھی پڑھیے

پھر نریندرا گروا نے کیرالہ کا سفر کیا تاکہ وہ مزید مسلز خرید سکیں۔ انھوں نے لگ بھگ 1,700 میل کا سفر جس میں ٹرین کا 36 گھنٹے کا سفر بھی شامل تھا۔ انھوں نے اپنی بچت کے ساتھ ساتھ اُدھار بھی لیا اور 16,000 روپے اکٹھے کر کے مسلز خریدنے گئے۔

اس کے علاوہ نریندرا گروا نے اس مخلوق کو رکھنے کے لیے اپنے گھر کے عقبی باغ میں 10 فٹ بائی 10 فٹ کا تالاب بھی کھودا۔

ناکامی کے باوجود انھوں نے ہمت نہیں ہاری اور پھر انھوں نے موتیوں کی فارمنگ کا پانچ روزہ کورس کیا۔

وہ کہتے ہیں ’سیپ کو بڑھانا ایک بچے کی پرورش کے مترادف ہے۔‘

’اعلیٰ معیار اور پیداوار کے حجم کو حاصل کرنے کے لیے نشوونما کی پوری مدت میں پانی کی نگرانی بہت ضروری ہے۔‘

اب ان کے پاس 40 فٹ بائی 50 فٹ کا تالاب ہے، جس کی دیکھ بھال کے لیے وہ ملٹی وٹامنز اور پھٹکڑی استعمال کرتے ہیں جو نشوونما کے لیے درکار درست پی ایچ لیول کو برقرار رکھتا ہے۔‘

سیپ، موتی

،تصویر کا ذریعہRobertus Pudyanto

،تصویر کا کیپشنموتی سیپ میں موجود مسلز کی جانب سے پیدا ہونے والے ردعمل سے بنتے ہیں

اس طریقہِ کار کے زیادہ مواقف ہونے کے باعث اُن کے مسلز کی بقا کی شرح 30 فیصد سے بڑھ کر 70فیصد سے زیادہ ہو گئی ہے۔ نریندر گروا اس سال تقریباً 3,000 موتیوں کی پیداوار کی توقع رکھتے ہیں، جن میں سے ہر موتی وہ 400 سے 900 روپے میں فروخت کر سکیں گے۔

انڈین حکومت اپنے بلیو ریوولیوشن کے منصوبے کے تحت پرل فشنگ کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے جو کہ ملک کی ماہی گیری کی صنعت کو جدید بنانے کا منصوبہ ہے۔

اس سکیم کے تحت حکومت موتیوں کی ماہی گیری کے لیے تالاب بنانے کی نصف لاگت ادا کرتی ہے اور اب تک محکمہ ماہی گیری نے 232 پرل فارمنگ تالابوں کو مالی مدد فراہم کی ہے۔

متعلقہ ادارے کے جوائنٹ سیکریٹری جوجاواراپو بالاجی کہتے ہیں ’موتیوں کی کاشتکاری آبی زراعت کے سب سے زیادہ منافع بخش کاروباروں میں سے ایک ہے اور حکومت کسانوں کو اس کاشتکاری کو شروع کرنے کی ترغیب دے رہی ہے۔‘

چین کے اعلیٰ معیار کے موتی بین الاقوامی منڈیوں میں کافی معروف ہیں

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنچین کے اعلیٰ معیار کے موتی بین الاقوامی منڈیوں میں کافی معروف ہیں

موتیوں کی کاشت کاری کی اس لہر سے ہر کوئی متاثر نہیں ہوتا۔ ناقدین میں گنجن شاہ شامل ہیں، جو موتیوں کی تجارت کے کاروبار سے وابستہ اپنے خاندان کی پانچویں نسل ہیں۔

ممبئی میں مقیم بابلا انٹرپرائزز کے مالک کا کہنا ہے کہ ’انڈیا میں موتیوں کی کاشت کاری کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے لیکن میرے خیال میں ہر جگہ اگائے جانے والے موتی بہت اچھے معیار کے نہیں ہیں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ انڈیا بہت زیادہ غلط قسم کے موتی پیدا کر رہا ہے۔

’انڈیا کو اس وقت ایسے لوگوں کی ضرورت ہے جو سمندری پانی کے موتی اگائیں، اگر ہم چین کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو۔ انڈین سیپ چھوٹے ہیں لیکن چین کے پاس ہائبرڈ سیپ ہیں جو بڑے موتی پیدا کرتے ہیں۔‘

’کلچرڈ ساؤتھ سی موتی آج کل مارکیٹ میں سب سے قیمتی قسم ہیں۔ ان موتیوں کے سائز، اشکال اور رنگ خوبصورت اقسام کے ہیں۔ جنوبی سمندر کے موتیوں کا ایک ہار دس ہزار ڈالر یا اس سے زیادہ مہنگا ہو سکتا ہے۔ یہ موتی انڈیا میں بہت کم پیدا ہوتے ہیں۔‘

اُن کا کہنا ہے کہ حکومت کو صنعت کے اس حصے کو ترقی دینے کے لیے کوشش کرتے رہنا چاہیے۔

اپنے دفاع میں حکومت کا کہنا ہے کہ اسے موتیوں کی کاشت کا ایک مسابقتی سیکٹر بنانے میں وقت لگے گا۔

محکمہ ماہی گیری سے تعلق رکھنے والے بالاجی کہتے ہیں ’اس شعبے کو ترقی کرنے میں وقت لگے گا۔ منصوبے ہے کہ اگلے تین سالوں میں اس میں اضافہ دیکھنے میں آئے گا۔‘

اُن کا مزید کہنا تھا کہ ’ایک بار جب ہم مقامی کھپت کے لیے کافی موتی اُگانے کے قابل ہو جائیں گے تو پھر ہم برآمدات پر توجہ مرکوز کر سکتے ہیں۔‘

Reena Choudary at her family's pearl farm

،تصویر کا ذریعہReena Choudary

،تصویر کا کیپشنرینا چودھری کا کہنا ہے کہ ان کے پرل فارم نے انھیں آزادی اور خود مختاری دی ہے

جہاں تک نریندر گروا کا تعلق ہے وہ موتیوں کی کاشتکاری کے لیے دوسرے لوگوں کو کورسز بھی کرواتے ہیں۔

28 سالہ رینا چوہدری اُن کے شاگردوں میں سے ایک تھیں اور اپنے استاد کی طرح گذشتہ سال ان کی پہلی کوشش ناکام رہی۔

’میں نے تمام سیپ کھو دیے، ان میں سے کوئی بھی موتی پیدا کرنے کے قابل نہیں تھا۔‘

لیکن اس سال انھیں امید ہے کہ وہ تقریباً 1,000 موتی پیدا کر پائیں گی۔

اپنا کاروبار شروع کرنا رینا چوہدری کے لیے ایک بڑا قدم تھا خاص طور پر جب اُن کے علاقے میں خواتین سے اکثر توقع کی جاتی ہے کہ وہ کام کے بجائے صرف گھر کی دیکھ بھال کریں۔

وہ کہتی ہیں کہ ’ہم جیسے لوگوں کو اس سے آزادی کی خوشبو آتی ہے۔‘

’ہم نے سیکھا ہے کہ ہم کس طرح خود مختار ہو سکتے ہیں، خاندان کی معاشی حیثیت میں حصہ ڈال سکتے ہیں اور خاندانی معاملات میں اپنی رائے رکھ سکتے ہیں۔‘