انڈیا: پیغمبر اسلام پر متنازع تبصرہ کرنے والے ٹی راجہ سنگھ کون ہیں؟

ٹی راجہ

،تصویر کا ذریعہSUDHEER KALANGI

    • مصنف, ستیش بالا
    • عہدہ, بی بی سی کے نامہ نگار
  • وقت اشاعت

انڈیا کی ایک عدالت نے حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمان ٹی راجہ سنگھ کو پیغمبر اسلام کے بارے میں متنازع بیان دینے کے معاملے پر ضمانت دے دی ہے۔ حیدرآباد پولیس نے عدالت میں ریمانڈ کی درخواست کی تھی جسے عدالت نے مسترد کردیا ہے۔

پاکستان کی جانب سے راجہ سنگھ کے بیان کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ تین ماہ میں دوسری مرتبہ ایک سینئیر بی جے پی رہنما نے پیغمبر اسلام سے متعلق توہین آمیز بیان دیا ہے جس سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔

دفتر خارجہ نے انڈیا سے مطالبہ کیا ہے کہ ان رہنماؤں کے خلاف کارروائی کی جائے جو بار بار اسلام پر حملہ کرتے ہیں اور پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز بیان دیتے ہیں۔

دوسری جانب بی جے پی نے متنازع بیان دینے پر ٹی راجہ سنگھ کو حیدرآباد کی گوشا محل سیٹ سے ہٹا دیا ہے۔ اس کے علاوہ انھیں وضاحتی نوٹس بھی جاری کیا گیا ہے اور ان سے 10 دن میں جواب دینے کو کہا گیا ہے۔

ٹی راجہ سنگھ کے متنازع بیان کے خلاف پیر کی رات دیر گئے حیدرآباد میں احتجاجی مظاہرے ہوئے تھے اور مظاہرین نے ٹی راجہ سنگھ کی جلد از جلد گرفتاری کا مطالبہ کیا۔

جس کے بعد پولیس نے منگل کی صبح بی جے پی کے ایم ایل اے ٹی راجہ کو گرفتار کر لیا لیکن شام کو ٹی راجہ سنگھ کو عدالت سے ضمانت بھی مل گئی۔

معاملہ کیا ہے؟

دراصل ٹی راجہ سنگھ نے پیر کی رات سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی۔ جس میں سٹینڈ اپ کامیڈین منور فاروقی کے خلاف قابل اعتراض ریمارکس دیے گئے۔ یہ ویڈیو دس منٹ سے زیادہ طویل ہے۔

ٹی راجہ سنگھ مذہبی معاملات پر اپنے تبصروں کے لیے ’بدنام‘ ہیں تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ موجودہ ریمارکس تلنگانہ حکومت کے فیصلے کے خلاف تھے۔

اس سے قبل مدھیہ پردیش پولیس نے منور فاروقی کو ہندو دیوی دیوتاؤں کے خلاف ان کے مبینہ توہین آمیز تبصروں پر گرفتار کیا تھا۔

ان کی رہائی کے بعد، گذشتہ سال نومبر میں بنگلورو میں ان کے شو کو منسوخ کر دیا گیا تھا لیکن تلنگانہ کے وزیر آئی ٹی، ٹی تارک راما راؤ نے منور فاروقی کو شو کے لیے حیدرآباد بلایا اور یقین دلایا کہ اسے منسوخ نہیں کیا جائے گا۔

ٹی راجہ سنگھ کے خلاف کئی مقدمات درج

ٹی راجہ سنگھ نے شو کی اجازت کی مخالفت کرتے ہوئے بیان دیا تھا حالانکہ پولیس نے شو کے لیے انتہائی سخت حفاظتی انتظامات کیے تھے۔

راجہ سنگھ نے پنڈال کو نقصان پہنچانے کی دھمکی بھی دی تھی لیکن ان کے بیان اور کچھ نوجوان بی جے پی لیڈروں کے احتجاج کے باوجود شو کو منسوخ نہیں کیا گیا۔

شو سے ایک دن پہلے ایم ایل اے نے کہا تھا کہ وہ بھی 23 اگست کو ایسا شو کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے منور فاروقی کے خلاف تضحیک آمیز کلمات بھی کہے۔

انھوں نے کہا کہ ’اگر پولیس ان کے شو کی اجازت دیتی ہے تو میں بھی ایسا ہی پروگرام منعقد کروں گا اور اس کے بعد ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی جیسی صورتحال پیدا ہو جائے گی۔‘

ٹی راجہ

،تصویر کا ذریعہFACEBOOK/RAJASINGH

ٹی راجہ سنگھ کون ہیں؟

یہ پہلا موقع نہیں، جب ٹی راجہ سنگھ نے اس طرح کے متنازع ریمارکس دیے ہیں۔ راجہ سنگھ نے اپنے سیاسی کریئر کا آغاز بطور کونسلر کیا۔ پھر بعد میں وہ بی جے پی میں شامل ہو گئے۔ وہ گوشا محل سے دو بار ایم ایل اے منتخب ہو چکے ہیں۔

ٹی راجہ سنگھ کئی بار اشتعال انگیز بیان دے چکے ہیں۔ وہ بارہا کہہ چکے ہیں کہ انھیں الیکشن جیتنے کے لیے مسلم ووٹوں کی ضرورت نہیں۔

ایک بیان میں انھوں نے کہا تھا کہ ’میں مذہب کے دفاع کے لیے مار سکتا ہوں اور مر سکتا ہوں۔‘

یہ بیان وہ کئی بار دے چکے ہیں۔ اسلامو فوبیا کو فروغ دینے والے اس طرح کے بیانات دینے پر ان کے خلاف کئی مقدمات درج ہیں۔

جب سے ٹی راجہ سنگھ کی نئی ویڈیو سامنے آئی ہے ان کے خلاف احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ حیدرآباد میں کئی مسلم نوجوانوں کو ٹی راجہ سنگھ کے خلاف تھانوں کے باہر احتجاج کرتے دیکھا گیا۔

ٹی راجہ سنگھ کے خلاف تلنگانہ پولیس نے آئی پی سی کی دفعہ 295 اے اور 153 اے کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ انھیں منگل کی صبح گرفتار کیا گیا۔

گرفتاری کے باوجود راجہ سنگھ پرسکون نہ ہوئے اور انھوں نے کہا کہ میں نے جو کہا ہے اس پر قائم ہوں۔

اسد الدین اویسی نے سوال اٹھائے

،تصویر کا ذریعہANI

،تصویر کا کیپشناسد الدین اویسی نے سوال اٹھائے

’بی جے پی حیدرآباد میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنا چاہتی ہے‘

ان کے بیانات کا جواب دیتے ہوئے حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اور آل آنڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا کہ شہر میں پچھلے آٹھ سال سے امن ہے۔

اویسی نے کہا ’بی جے پی حیدرآباد میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا کرنا چاہتی ہے۔ پیغمبر اسلام کی توہین کر کے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا چاہتے ہیں۔ بی جے پی لوگوں کو تقسیم کرنے والی سیاست کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔‘

تلنگانہ کی حکمراں جماعت ٹی آر ایس نے بھی راجہ سنگھ کے بیان پر تنقید کی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹی آر ایس حکومت کے وزیر کوپولا ایشور نے کہا ’تلنگانہ امن پسند لوگوں کی ریاست رہی ہے۔ یہاں کوئی فرقہ وارانہ کشیدگی نہیں ہوئی لیکن بی جے پی فرقہ وارانہ کشیدگی کی آگ بھڑکانے میں لگی ہوئی ہے۔ وہ ریاست کے سیکولر تانے بانے کو تباہ کرنا چاہتی ہے۔‘

کانگریس کے سینیئر لیڈر وی ہنومنت راؤ نے کہا کہ ’ایسے بیان دینے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات درج کیے جانے چاہیے۔ ان کی اسمبلی رکنیت کو منسوخ کیا جائے۔ بی جے پی چاہتی ہے کہ ملک میں صرف ہندو ہی رہیں۔ اگر کرفیو لگا دیا جائے اور جھگڑے ہوں تو چھوٹے تاجروں کا کام کیسے چلے گا۔‘

ہندو

،تصویر کا ذریعہANI

بی جے پی تلنگانہ یونٹ کی خاموشی

لیکن بی جے پی کی تلنگانہ یونٹ اس معاملے پر خاموش ہے۔ جب اس معاملے پر ان سے پوچھا گیا تو مرکزی وزیر کشن ریڈی نے کہا کہ ’میں نے نہیں سنا کہ راجہ سنگھ نے کیا کہا۔‘

بی جے پی رکن پارلیمان دھرم پوری اروند نے بھی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔

ٹی راجہ سنگھ ماضی میں بھی اس طرح کے بیانات دے چکے ہیں لیکن ان کے تبصروں پر پردہ ڈال دیا گیا۔ کہا گیا ہے کہ یہ ان کی رائے ہے پارٹی کی نہیں تاہم اس بار بی جے پی نے ان کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے معطلی کا نوٹس جاری کیا ہے۔

نوٹس میں کہا گیا ہے کہ انھیں مزید تحقیقات تک معطل کر دیا گیا ہے۔ انھیں دس دن کے اندر نوٹس کا جواب دینے کا کہا گیا ہے۔ ایسا کرنے میں ناکامی کے نتیجے میں ان کی پارٹی سے برطرفی ہو سکتی ہے۔

پاکستان کی جانب سے مذمت

پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ راجہ سنگھ کے بیان کے خلاف بی جے پی کا اقدام انڈیا اور دنیا بھر میں مسلمانوں کا درد کم نہیں کر پائے گا اور یہ ’انتہائی قابل مذمت ہے کہ مسٹر سنگھ کو گرفتاری کے چند گھنٹے بعد رہا کر دیا گیا اور بی جے پی کارکنان نے ان کا استقبال کیا۔‘

اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ موجودہ صورتحال سے نمایاں ہوتا ہے کہ انڈیا میں اسلامو فوبیا کا رجحان پریشان کن ہے۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان انڈیا سے مطالبہ کرتا ہے کہ ان رہنماؤں کے خلاف کارروائی کرے جو بار بار اسلام پر حملہ کرتے ہیں اور پیغمبر اسلام کے خلاف توہین آمیز بیان دیتے ہیں۔

’پاکستان عالمی برادری سے بھی مطالبہ کرتا ہے کہ وہ انڈیا میں اسلامو فوبیا کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا فوری نوٹس لے اور موجودہ بی جے پی حکومت کا اس کے مسلم اور اسلام مخالف ایجنڈے کے خلاف احتساب کرے۔‘