انڈیا: قومی نشان کے نئے مجسمے میں معصوم شیر کی جگہ خونخوار شیر کی شکل پر تنازع

فائل فوٹو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
  • وقت اشاعت

انڈیا میں زیرِ تعمیر پارلیمنٹ کی نئی عمارت پر قومی نشان اشوک چکر میں شیر کی شکل کے بارے میں تنازع پیدا ہو گیا ہے۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ نئے مجسمے میں شیر کو انتہائی غصے اور خونخوار شکل میں دکھایا گیا ہے۔

ملک کے وزیراعظم نریندر مودی نے اس مجسمے کی رونمائی پیر کے روز کی تھی ۔ رونمائی سے قبل مودی نے ہندو رسم ورواج کے مطابق پوجا بھی کی تھی ۔ انڈیا کے قومی نشان شیر کے پرانے مجسموں میں اسے جارحانہ انداز میں نہیں دکھایا گیا ہے ۔ لیکن نئے مجسمے میں شیر کا منھ دھاڑنے والے انداز میں کھلا ہوا ہے اور اس کے دونوں بڑے دانت واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں ۔ شیر کی شکل غصے والی نظر آتی ہے۔

اپوزیشن پارٹی ترنمول کانگریس کا کہنا ہے کہ شیر کو غیر ضروری طورپر جارحانہ دکھایا گیا ہے ۔ ملک کے معروف وکیل اور سماجی کارکن پرشانت بھوشن نے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے ’گاندھی سے گوڈسے تک: ہمارے قومی نشان کے مجسموں میں شیر پُروقار اور غیر جارح شکل میں ہے۔ پارلیمان کی نئی عمارت پر نصب کیے گئے نئے مجسمے میں شیر غصے میں ہے اور کھلے منھ میں بڑے بڑے خونخوار دانت دکھاۓ گئے ہیں۔ یہ مودی کا نیا انڈیا ہے۔‘

ان کے جواب میں مصنف وکاس سارسوت نے طنز کرتے ہوئے لکھا ہے۔ ’صرف یہی نہیں سر، پہلے والے شیر دہی اور سبزی کھاتے تھے اور جارج ہیریسن کے ساتھ بیٹھ کر ’گیو می لو ، گیو می پیس آن ارتھ‘ گایا کرتے تھے۔‘

پرشانت بھوشن کا ٹوئٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter

،تصویر کا کیپشنممتاز وکیل پرشانت بھوشن نے طنزیہ ٹوئٹ کیا

انڈیا کا قومی نشان 250 قبل مسیح میں انڈیا کے شہنشاہ اشوک کے ایک ستون سے لیا گیا تھا ۔ یہ ستون بنارس کے پاس سارناتھ کے مقام پر واقع ایک بودھ ستوپا میں پایا گیا تھا ۔ اسے اشوک کی لاٹ کہتے ہیں ۔ اس میں ایک چھوٹے سے چبوترے پر چار شیروں کا مجسمہ بنا ہوا ہےجن کا منھ چاروں سمت کی جانب ہے۔ یہ حق اور امن کی علامت کے طور پر بنایا گیا تھا ۔ قومی نشان سے متعلق انڈیا کے قانون کے مطابق قومی نشان کی اشاعت یا تعمیر میں کو تبدیلی نہیں کی جا سکتی ۔

پارلیمنٹ پر جو نیا قومی نشان نصب کیا گیا ہے وہ پیتل کا بنا ہوا ہے اور اس کا وزن 9500 کلو گرام ہے۔ اس کی اونچائی ساڑھے چھ میٹر ہے۔ مجسمہ ساز ڈیزائنر سنیل دیورے نے بعض ٹی وی انٹرویوز میں کہا ہے کہ انھوں نے اصل مجمسے کی ہی پوری نقل کی ہے لیکن اس کا قد اصل کے مقابلے میں بہت بڑا ہونے کے سبب اس میں کچھ معمولی فرق ہو سکتا ہے۔

شیر کے دانت اور غصے والی شکل کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ ’جس زاویے سے اس کی تصویر لی گئی ہے اس کے سبب اس میں فرق لگتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ اصل مجسمہ صرف ڈھائی فٹ کا ہے اور نیا مجسمہ ساڑھے چھ میٹر کا ہے۔ بڑا ہونے کے سبب اس کا منھ زیادہ کھلا ہوا اور دانت زیادہ نکلے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔‘

کانگریس پارٹی کے سندیپ گپتا نے ٹوئٹ کیا ہے’نئے والے نقلی اشوک ستون کے شیر برما اور سری لنکا کے ہیں۔ انھیں چنتھے کہتے ہیں۔ بودھ وہاروں کے گیٹ پر ملتے ہیں اور سری لنکا کے جھنڈے پر بھی ۔ ان کا منھ کھلا رہتا ہے اور چہرہ خونخوار ہوتا ہے۔‘

قومی نشان کے نئے مجسمے کی حمایت میں بھی کئی لوگوں نے ٹوئٹ کیا ہے۔ جمی جارج نام کے ایک صارف نے لکھا ہے’اب ہم کمزور ملک نہیں ہیں ۔ یہ نیا انڈیا ہے۔‘

انڈیا بھارت نام کے ایک ہنڈیل سے ٹوئٹ کیا گیا ہے ’شیر دھاڑتا ہی اچھا لگتا ہے۔ کوئی اگر بھارت کو آنکھ دکھائے تو ۔۔۔ ‘

اس بحث کے دوران لاجکل انڈین نام کے ایک صارف نے ہندوؤں کے دیوتا ہنومان، بگھوان رام اور قومی نشان کی تصویر پوسٹ کی ہے اور موازنہ کیا ہے کہ بی جے پی سے پہلے انھیں کیسے دکھايا گیا ہے اور بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد انھیں کیسے غصے والی شکلوں میں بدل دیا گیا۔

وزیر اعظم نریندر مودی انڈین پارلیمنٹ کے احاطے میں ایک نئی پارلیمنٹ تعمیر کرا رہے ہیں۔ یہ عمارت آئندہ موسم سرما تک مکمل ہو جانے کی توقع ہے۔ قومی نشان کا مجسمہ اسی نئی زیر تعمیر پارلیمنٹ کی چھت پر لگایا گیا ہے۔ حکمراں بی جے پی کا کہنا ہے کہ اپوزیشن اور مودی مخالف لبرل دانشور حکومت کے ہر قدم کی مخالفت کرتے ہیں۔