مدھیہ پردیش: 21 سالہ صحافت کی طالبہ جو اپنے گاؤں کی سرپنچ منتخب ہوگئیں

انڈیا میں خواتین
وقت اشاعت

لکشیکا ڈگر کی عمر صرف 21 برس ہے۔ جس عمر میں لوگ سوچنے لگتے ہیں کہ زندگی میں کیا کرنا ہے، لکشیکا اپنے مقام پر پہنچ چکی ہیں۔ وہ مدھیہ پردیش کے اُجائن ضلع کے چنتامن۔جواسیا گرام پنچایت کے انتخاب میں سرپنچ منتخب ہوئی ہیں۔

تاہم لکشیکا کا خیال ہے کہ یہ راستہ ان کے لیے اتنا آسان نہیں ہوگا۔ وہ چاہتی ہیں کہ وہ اپنے لوگوں سے کیے گئے وعدوں پر پورا اتر سکیں اور اپنے لوگوں کی امیدوں پر پورا اتریں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لکشیکا نے کہا کہ اپنی عمر کی وجہ سے انھیں یہ عہدہ سنبھالنے میں کچھ ہچکچاہٹ ہے لیکن وہ کوشش کریں گی کہ سب کے تعاون سے وہ اپنے مقاصد حاصل کر سکیں۔

خیال رہے کہ مدھیہ پردیش میں اس وقت تین مراحل میں ہونے والے پنچایتی انتخابات منعقد ہو رہے ہیں اور لکشیکا نے انتخابات کے پہلے مرحلے میں یہ کامیابی حاصل کی ہے۔

لکشیکا ایک مقامی چینل میں اینکر اور ریڈیو پر ایک شو کی میزبان بھی رہ چکی ہیں۔

چنتامن جواسیا گرام پنچایت اُجائن شہر سے تقریباً دس کلومیٹر دور واقع ہے اور اس کی آبادی 3265 پر مبنی ہے۔

سرپنچ انتخابات میں لکشیکا نے487 ووٹوں سے کامیابی حاصل کی ہے۔

انڈیا

لکشیکا کے دادا اس سے پہلے گاؤں کے سرپنچ بھی رہ چکے ہیں۔ ان کے چچا سماجی کارکن ہیں۔ لکشیکا بھی اپنی جیت کا سہرا اپنے خاندان کو ہی دیتی ہیں، جہاں انھیں بولنے اور سیاست کرنے جیسی آزادی ورثے میں ملی اور پھر وہ آگے بڑھ کر ایک رہنما کے طور پر سامنے آئیں۔

لکشیکا جو اُجائن کے ایک مقامی چینل میں اینکر کے طور پر کام کر چکی ہیں نے کہا ہے کہ ’جب ان کے گاؤں میں خواتین کے لیے مخصوص نشست رکھی گئی تو خاندان نے سوچا کہ گھر کی خواتین کو اس الیکشن میں آگے آنا چاہیے تاکہ گاؤں کے مسائل کو ٹھیک طریقے سے حل کیا جا سکے۔

اس کے بعد ہی خاندان نے لکشیکا کو الیکشن لڑانے کا فیصلہ کیا۔

گاؤں میں کل سات خواتین میدان تھیں اور ان میں سب سے چھوٹی لڑکی لکشیکا ہیں تھیں۔

خاص بات یہ ہے کہ لکشیکا کی جیت پر تقریباً پورا گاؤں خوش ہے۔ گاؤں والوں کا ماننا ہے کہ گاؤں کی پڑھی لکھی نوجوان لڑکی گاؤں کا مسئلہ آسانی سے حل کر سکتی ہے۔

لکشیکا فی الحال انڈین انسٹیٹیوٹ آف پروفیشنل اسٹڈیز، اجائن سے ماس کمیونیکیشن کے فائنل ائیر کی طالبہ بھی ہیں۔ لکشیکا اپنے ایک بھائی اور بہن سے چھوٹی ہیں۔ ان کے والد دلیپ ڈگر ڈسٹرکٹ کوآپریٹو سنٹرل بنک میں افسر ہیں۔

فتح کا راستہ کیسے طے کیا جائے

الیکشن جیتنے کے لیے لکشیکا نے سب سے پہلے گاؤں کے ہر فرد سے ملاقات کی۔ انھوں نے کچھ امُور پر تبادلہ خیال کیا، جنھیں انھوں نے ترجیح میں رکھنے کی بات کی۔ گاؤں کا سب سے بڑا مسئلہ پینے کا پانی ہے۔ نکاسی آب کا مسئلہ بھی بہت سنگین ہے، جس کی وجہ سے گندا پانی سڑکوں پر پھیلتا رہتا ہے۔

اسی طرح ضلعے میں ہاؤسنگ سکیم کا فائدہ غریب عوام تک نہیں پہنچ رہا۔ اس کے ساتھ ہی پنشن سکیم اور دیگر سکیموں کا فائدہ بھی لوگوں کو نہیں مل رہا ہے۔

گاؤں کی سرپنج

یہ بھی پڑھیے

لکشیکا گاؤں میں ای۔گورننس سسٹم لانے کی بات کرتی ہیں، جس میں وہ خود ہر سکیم کی نگرانی کریں گی تاکہ لوگوں کے کام مقررہ وقت میں مکمل ہوسکیں۔ لکشیکا نے کہا ہے کہ ہم لوگوں کی درخواستوں پر نظر رکھنے کی کوشش کریں گے۔ انھوں نے کب درخواست دی ہے اور کب تک ان کا کام ہو جائے گا تاکہ انھیں بار بار پنچایت نہ جانا پڑے۔

وہ سمجھتی ہیں کہ اس طرح کام کرنے سے تبدیلی ضرور آئے گی۔

لکشیکا کا کہنا ہے کہ وہ اگلے پانچ برسوں میں گاؤں کے ہر مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں گی تاکہ وہ ایک اچھی مثال قائم کر سکیں۔

دوسری جانب لکشیکا کے چچا منوج ڈگر نے بتایا کہ انھیں پوری امید ہے کہ ان کی بھتیجی اپنے کام سے گاؤں میں ایک الگ پہچان بنائے گی۔ انھوں نے کہا کہ لکشیکا گاؤں میں تبدیلی کا مشن لیے ہوئے کام کر رہی ہیں اور اس مشن کی تکمیل کے لیے وہ خود کو تیار کر رہی ہیں، یقیناً وہ کامیاب ہوں گی۔‘