اکناتھ شندے: انڈیا کی سب سے مالدار ریاست کے نئے وزیر اعلی جو کبھی رکشہ چلاتے تھے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انڈیا کی سب سے مالدار سمجھی جانے والی ریاست مہاراشٹرا میں سیاسی بحران کے نیتجے میں شیو سینا کے سابق وزیر اکناتھ شندے نے نئے وزیر اعلی کا منصب سنبھال لیا ہے۔
مہاراشٹرا میں شیو سینا کے رہنما ادھو ٹھاکرے کانگریس کی مدد سے مخلوط حکومت چلا رہے تھے لیکن ان کی اپنی ہی جماعت کے چند اراکین نے بغاوت کر دی، جس کی رہنمائی اکناتھ شندے کر رہے تھے۔
بدھ کے دن انڈیا کی سپریم کورٹ نے ریاست میں فلور ٹیسٹ کا حکم دیا تھا لیکن فیصلے کے بعد ادھو ٹھاکرے نے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
ایسا لگتا تھا کہ بی جے پی لیڈر دیویندر فڑنویس وزیر اعلیٰ بن جائیں گے کیوں کہ ان کی جماعت کے پاس مہاراشٹرا میں اکثریت تھی لیکن انھوں نے اکناتھ شندے کے نام کا اعلان کردیا۔
مہاراشٹرا کا سیاسی بحران

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مہاراشٹر میں تازہ ترین سیاسی بحران اس وقت شروع ہوا تھا جب شیوسینا کے سینئر لیڈر اور ایم ایل اے اکناتھ شندے نے اپنی ہی پارٹی کے خلاف بغاوت کر دی تھی۔
شیوسینا کے سینئر لیڈر اکناتھ شندے کئی ساتھی اراکین اسمبلی کے ہمراہ اس وقت راتوں رات انڈین ریاست گجرات کے شہر سورت پہنچ گئے تھے جب مقامی الیکشن میں بی جے پی کو توقع سے زیادہ سیٹیں مل گئی تھیں۔
مہاراشٹرا میں قانون ساز کونسل کے حالیہ انتخابات کے بعد تنازع کھڑا ہو گیا تھا لیکن اس سے پہلے کہ تنازعے کی اصل وجہ معلوم ہوتی، شیو سینا کے اراکین اسمبلی نے بغاوت کر دی۔
اس فیصلے کے بعد پورے مہاراشٹر کی سیاست میں بھونچال آگیا۔ شندے نے دعویٰ کیا کہ ان کو پچاس اراکین کی حمایت حاصل ہے جن میں چند آزاد اراکین اسمبلی بھی شامل ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ریاست کے گورنر بھگت سنگھ نے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے سے 30 جون کو اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے کہا تو شیوسینا نے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا۔
ادھو ٹھاکرے کو سپریم کورٹ سے کوئی ریلیف نہیں ملا تو بدھ کی رات انھوں نے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔
یہ بھی پڑھیے
اکناتھ شندے جو کبھی آٹو رکشہ چلاتے تھے

،تصویر کا ذریعہANI
اکناتھ شندے کئی سالوں سے شیوسینا کے رکن ہیں۔ میونسپل کارپوریشن میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر خدمات انجام دینے کے بعد 2004 میں پہلی بار ایم ایل اے بنے تھے۔ حالانکہ ان کا کیریئر آٹورکشہ ڈرائیور کے طور پر شروع ہوا تھا۔
اکناتھ شندے، جو ایم ایل اے ہونے کے ساتھ ساتھ کئی دہائیوں سے پارٹی کے اہم رہنما بھی رہے ہیں، کے بیٹے شریکانت شندے بھی دوسری بار رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں۔
ویبھو اخبار کے ایڈیٹر ملند بلال کے مطابق اکناتھ شندے کا سیاسی سفر ایک جارحانہ کارکن کے طور پر شروع ہوا جس کے بعد وہ ایک برانچ چیف بنے اور پھر ایک ذمہ دار وزیر کے عہدے پر پہنچ گئے۔
اکناتھ شندے کا سیاسی سفر
- 18 سال کی عمر میں شیو سینا سے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز کیا۔
- تقریباً ڈیڑھ دہائی تک پارٹی میں کام کرنے کے بعد 1997 میں میونسپل کارپوریشن کے انتخابات میں شندے کو کونسلر کا ٹکٹ دیا گیا
- شنڈے نے نہ صرف یہ میونسپل الیکشن پہلی ہی کوشش میں جیت لیا بلکہ وہ تھانے میونسپل کارپوریشن کے ہاؤس لیڈر بھی بن گئے
- اس کے بعد 2004 میں انھوں نے اسمبلی سیٹ سے الیکشن لڑا اور پہلی ہی کوشش میں یہاں سے جیتنے میں کامیاب ہوئے۔
- اس کے بعد، 2009 سے، وہ مسلسل ایم ایل اے منتخب ہوتے رہے ہیں۔
- وہ 2015 سے 2019 تک ریاست کے تعمیرات عامہ کے وزیر رہے۔
- اس وقت ریاست کے شہری ترقی کے وزیر ہونے کے علاوہ وہ تھانے ضلع کے وزیر انچارج بھی ہیں۔

























