آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
افغانستان میں ہلاک ہونے والے صحافی دانش صدیقی سمیت چار انڈین صحافیوں نے پولٹزر ایوارڈ جیت لیا
سنہ 2021 کے لیے صحافت کے گراں قدر اور قابل احترام پولٹزر ایوارڈ کا اعلان سوموار کو کیا گیا ہے جس میں افغانستان میں ہلاک ہونے والے انڈین صحافی دانش صدیقی سمیت چار انڈینز کو نوازا گیا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے چار فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی، امت دوے، عدنان عابدی اور ثنا ارشاد مٹّو کو اس سال پولٹزر جیتنے والوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔
ان تمام صحافیوں کو یہ ایوارڈ انڈیا میں کورونا وبا کے دوران لی گئی تصاویر کے لیے دیا گیا ہے۔
اس سے قبل سنہ 2018 میں دانش صدیقی کو روہنگیا مسلمانوں کے بحران پر لی گئی تصاویر کے لیے پولٹزر انعام سے نوازا جا چکا ہے۔
اس کے علاوہ یوکرین کے صحافیوں کو انتہائی سخت حالات میں کام کرنے کے لیے پولٹزر انسٹیٹیوٹ کی جانب سے تعریف و توصیف کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ گذشتہ سال 6 جنوری کو امریکہ کے کیپیٹل ہل حملے اور افغانستان میں طالبان کی اقتدار میں واپسی کے واقعے کی کوریج کرنے والے صحافیوں کے کام کو بھی سراہا گیا۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ گذشتہ سال 16 جولائی کو دانش صدیقی افغانستان میں افغان سکیورٹی فورسز اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان ہونے والے تنازع کی کوریج کے دوران ایک حملے میں مارے گئے تھے۔
دانش افغانستان کی سپیشل فورسز کے ساتھ صوبہ قندھار میں تعینات تھے، جہاں سے وہ افغان کمانڈوز اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان لڑائی کی رپورٹس بھیجتے تھے۔
وہ تصاویر جن کے لیے انڈین صحافیوں کو پولٹزر ایوارڈ کا حقدار قرار دیا گیا ہے وہ یہاں دیکھی جا سکتی ہیں۔
یہ تصویر دانش صدیقی نے لی تھی۔ اس میں دہلی کے ایک علاقے میں شمسان کا منظر نظر آ رہا ہے جس میں کووڈ سے مرنے والوں کی لاشیں نذر آتش کی جا رہی ہیں۔
یہ تصویر امت دوے نے لی ہے۔ اس میں ایک ہیلتھ ورکر کو ایک خاتون کا بخار جانچتے دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ تصویر ثنا ارشاد مٹو نے لی ہے۔ اس میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں ہیلتھ ورکرز ایک کشمیری نوجوان کو ویکسین لگاتے دیکھے جا سکتے ہیں۔
یہ تصویر عندنان عابدی نے لی ہے۔ اس میں جلتی لاشوں کے درمیان ایک لاش نذر آتش کیے جانے کی منتظر دیکھی جا سکتی ہے۔