دانش صدیقی کی موت کی تحقیقات کے لیے انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں درخواست

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 5 منٹ

گذشتہ سال افغانستان میں ہلاک ہونے والے انڈین فوٹو جرنلسٹ دانش صدیقی کے اہل خانہ نے ان کی موت کی تحقیقات کے لیے انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (جرائم کی بین الاقوامی عدالت) سے رجوع کیا ہے۔

دانش صدیقی گذشتہ سال 16 جولائی کو اس وقت ہلاک ہوئے جب وہ افغان سپیشل فورسز کی ایک یونٹ کے ساتھ قندھار شہر کے جنوب مشرق میں سپن بولدک کے علاقے میں طالبان اور اس وقت کی حکومت کے درمیان لڑائی پر رپورٹنگ کر رہے تھے۔

دانش صدیقی کے خاندان کے مطابق انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کو دی گئی درخواست میں طالبان کی سینیئر قیادت اور اس خطے کے مقامی کمانڈروں کے اس کیس میں کسی قسم کے کردار سے متعلق تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

گذشتہ برس حملے کے بعد بی بی سی کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق قندھار سے 100 کلومیٹر کے فاصلے پر سپن بولدک کے نواح میں اس حملے میں دانش صدیقی کے ساتھ دو افغان فوجی بھی مارے گئے تھے۔ افغان سپیشل فورسز کے اس وقت کے کمانڈر صدیق کرزئی بھی ہلاک ہونے والوں میں شامل تھے۔ مقامی لوگوں کے مطابق تینوں کو 16 جولائی کی صبح 8 سے 9 بجے کے درمیان گولی ماری گئی اور اس کے بعد ان کی لاشوں کو نمائش کے لیے چوک پر بھی لایا گیا تھا۔

دانش خبر رساں ادارے روئٹرز کے لیے کام کرتے تھے، جس نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ طالبان کو معلوم نہیں تھا کہ جس جگہ 'شدید لڑائی' ہو رہی ہے وہاں ایک صحافی رپورٹنگ کر رہا تھا اور یہ بھی واضح نہیں کہ صدیقی کی ہلاکت کیسے ہوئی۔

خاندان کن طالبان رہنماؤں سے تحقیقات کا مطالبہ کر رہا ہے

طالبان کے جن سرکردہ رہنماؤں کی دانش صدیقی کی فیملی تحقیقات کروانا چاہتی ہے ان میں طالبان کے سپریم کمانڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ، طالبان قیادت کی کونسل کے سربراہ ملا حسن اخوند، چیف ترجمان اور قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ ملا عبدالغنی برادر اور طالبان کے وزیر دفاع شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مولوی محمد یعقوب مجاہد، قندھار کے طالبان گورنر گل آغا شیرزئی اور طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے نام بھی شامل ہیں۔

دانش صدیقی کی جانب سے افغانستان میں لی گئی وائرل تصاویر کی بات کرتے ہوئے ان کے وکیل ایوی سنگھ نے کہا کہ انہیں اس لیے مارا گیا 'کیونکہ وہ فوٹو جرنلسٹ تھے اور اس لیے کہ وہ انڈین تھے۔‘

اطلاعات کے مطابق وہ لڑائی کی کوریج کے دوران زخمی ہوئے تھے اور انہیں علاج کے لیے قریبی مسجد لے جایا گیا تھا۔

سنگھ نے منگل کے روز میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ 'مسجد تاریخی طور پر اور بین الاقوامی روایتی قانون کے مطابق ایک پناہ گاہ ہونے کے باوجود اس پر طالبان نے حملہ کیا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ 'دانش کی شناخت واضح تھی کہ وہ پریس سے تھے۔ ان کے پاس پاسپورٹ تھا، وہ جنگجو نہیں تھے۔۔۔ پھر انہیں غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا۔ تمام آزاد اکاؤنٹس کے مطابق ان پر تشدد کیا گیا تھا۔ اس کے بعد انہیں قتل کر دیا گیا۔ اور اس کے کافی شواہد موجود ہیں، درحقیقت جب ان کے اہل خانہ کو ان کی لاش ملی تب اس پر ان کی بلٹ پروف جیکٹ موجود تھی۔ اور ان کے جسم کو مسخ کر دیا گیا تھا۔‘

ان کے مطابق دانش کے جسم میں تین گولیاں اور کچھ چھرے رہ گئے تھے جو نکالے نہیں جا سکے۔

فیملی کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 'یہ کارروائیاں اور یہ قتل نہ صرف ایک خون ہے، بلکہ انسانیت کے خلاف جرم اور جنگی جرم ہے'۔

ان کے مطابق 'یہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا۔ طالبان کا فوجی ضابطہ اخلاق، جسے لیہہ کے نام سے شائع کیا جاتا ہے، کے مطابق صحافیوں سمیت عام شہریوں پر حملہ کرنا ان کی پالیسی کا حصہ ہے۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے امدادی مشن نے طالبان سے منسوب 70 ہزار شہری ہلاکتیں ریکارڈ کی ہیں۔‘

کیا دانش صدیقی کی فیملی کی طالبان کو جوابدہ ٹھہرانے کی کوششوں کو انڈین حکومت کی کوئی حمایت حاصل ہے؟

اس کے جواب میں وکیل ایوی سنگھ نے وضاحت کی کہ ’انڈیا آئی سی سی کا دستخط کنندہ نہیں ہے بلکہ افغانستان ہے۔ لیکن ہم انڈین حکومت سے تحقیقات میں تعاون کرنے کو کہیں گے۔‘

مزید پڑھیے

دانش صدیقی کی موت کے بعد اس واقعے کو بڑے پیمانے پر بین الاقوامی توجہ حاصل ہوئی جس کے بعد طالبان نے اس کیس کی تحقیقات کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن ایوی سنگھ نے بتایا کہ ابھی تک اس بات کا کوئی اشارہ نہیں ملا ہے کہ اس مسئلے پر طالبان کی طرف سے کوئی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

انھوں نے کہا ’ہمیں اس بات پر کوئی بھروسہ نہیں ہے (کہ وہ ایک معتبر تحقیق کریں گے) کیوںکہ طالبان ایک پالیسی کے طور پر جنگ کے حوالے سے بین الاقوامی فوجداری قانون کی پیروی نہیں کرتے۔ وہ عام شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں، خودکش بمباروں کا استعمال کرتے ہیں۔‘

کیمرے کی آنکھ سے بے بسوں کی کہانیاں بیان کرنے والے دانش صدیقی

دانش صدیقی کا تعلق انڈیا سے تھا اور وہ بین الاقوامی خبر رساں ادارے روئٹرز کے انڈیا میں ملٹی میڈیا وِنگ کے سربراہ بھی تھے۔

روئٹرز سے پہلے دانش نے ایک انڈین چینل کے لیے بطور نامہ نگار بھی کام کیا تھا۔

اگرچہ دانش صدیقی نے کئی ممالک میں اہم واقعات پر فوٹو رپورٹنگ کی، جیسے کہ انڈیا میں شہری حقوق کے قوانین کے خلاف مظاہرے، عراق میں موصل کے محاذ کی جنگ، میانمار میں روہنگیا بحران، وغیرہ۔ مگر ایک چیز آپ کو ان کی زیادہ تصاویر میں نظر آئے گی۔ چاہے وہ روہنگیا پناہ گزین ہو یا کشمیر میں سوگ مناتی عورت، ایسا لگتا ہے کہ دانش صدیقی کی ہمیشہ یہی کوشش رہی کہ ان کی تصاویر دیکھنے والوں سے باتیں کریں۔

دنیا میں مشکل حالات تو بہت سے فوٹوگرافر عکس بند کرتے ہیں مگر دانش صدیقی ان مناظر میں موجود لوگوں کے جذبات انتہائی سادہ انداز میں ناظرین تک پہنچاتے تھے۔

دانش صدیقی کو سنہ 2018 میں فیچر فوٹوگرافی کے شعبے میں دنیائے صحافت کا معروف ترین اعزاز پلیٹزر بھی نوازا گیا تھا۔

انھیں یہ اعزاز ساتھی عدنان عابدی کے ساتھ مشترکہ طور پر روہنگیا بحران کی تصاویر کے حوالے سے دیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ انڈیا میں کورونا وائرس کی وبا کی دوسری لہر کے دوران انڈیا کی سڑکوں پر ہلاک ہونے والوں کی آخری رسومات کی رپورٹنگ پر بھی ان کی تصاویر کو دنیا بھر میں سراہا گیا تھا۔

کچھ لوگوں کا تو یہ بھی کہنا تھا کہ دانش صدیقی ان چند لوگوں میں سے ایک تھے جنھوں نے دنیا کو انڈیا میں کورونا کی صورتحال کی اصل شکل دکھائی۔

دانش صدیقی نے نیپال میں زلزلے، ہانگ کانگ میں احتجاج، شمالی کوریا میں فوجی مشقین، افغانستان اور عراق کی جنگ کی بہترین کوریج سے نام کمایا۔ مگر ان کے کچھ معروف ترین فوٹو فیچرز ممبئی میں کرائے داروں کے مسائل اور سوئٹزرلینڈ میں پناہ گزینوں کی مشکلات پر مبنی تھے۔

دانش افعان فوج کے ساتھ تھے اور اپنی ہلاکت سے پہلے انھوں نے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو ٹویٹ کی تھی جس میں وہ جس بکتر بند گاڑی میں تھے اس پر راکٹ سے حملے کا منظر تھا۔

پیغام میں انھوں نے لکھا تھا کہ وہ خوش قسمت ہیں کہ وہ اس حملے میں بچ گئے۔