نوروز: طالبان حکومت عوام کو ’نوروز منانے سے نہیں روکے گی لیکن تہوار سرکاری طور پر بھی نہیں منائے گی‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ طالبان حکومت افغان عوام کو نوروز کا تہوار منانے سے نہیں روکے گی لیکن طالبان حکومت سرکاری طور پر بھی نوروز نہیں منائے گی۔
انھوں نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم کوئی ایسی تقریب نہیں مناتے جس کا تصور اسلام میں نہیں ہے۔‘
صوبہ بلخ کے دارالحکومت مزارِ شریف کے کچھ رہائشیوں نے گذشتہ برسوں کی طرح اس بار بھی نوروز کو سرکاری طور پر منانے کا مطالبہ کیا ہے۔ مزار شریف میں ہر سال اپریل کے پہلے دن نوروز کی تقریبات کے لیے پورے افغانستان سے ہزاروں افراد کی میزبانی کی جاتی ہے۔
بعض روایات میں بلخ کو قدیم جشنِ نوروز کی جائے پیدائش کہا گیا ہے۔
پچھلی دو دہائیوں میں، بلخ میں نوروز کی تقریبات ہر سال زیادہ جوش و خروش کے ساتھ منائی گئیں اور نوروز کے لیے سرکاری تعطیل رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
موسم بہار کے آغاز میں بلخ سرسبز ہو جاتا ہے اور لوگ شہر کے چاروں طرف سرخ پھولوں سے بھرے میدانوں میں جاتے ہیں اور موسم بہار کے آغاز کا جشن مناتے ہیں۔
طالبان نے سال کے پہلے دن کی خوشیاں منانے پر باضابطہ طور پر پابندی نہیں لگائی ہے لیکن طالبان کی وزارتِ امر بالمعروف و النہی عن المنکر کے کچھ عہدیداروں کی جانب سے بیانات دیے گئے ہیں جن میں نوروز کو 'غیر اسلامی' قرار دیا گیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس جشن کے انعقاد میں دو دن باقی ہیں اور ابھی نوروز کی تقریبات کے انعقاد کے لیے کوئی تیاریاں نہیں کی گئیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق مزار شریف کی انتظامیہ اور عوام شہر کی صفائی ستھرائی میں مصروف ہیں لیکن ابھی تک کسی کو یہ معلوم نہیں ہے کہ گذشتہ سالوں کی طرح نوروز پیر کو منایا جائے گا یا نہیں۔
گذشتہ دو سالوں میں کورونا کے پھیلاؤ کے باعث نوروز کی تقریبات میں لوگوں کی بڑی تعداد کو شرکت کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔
انڈیانا یونیورسٹی میں اینتھروپولوجی کے پروفیسر نظیف شہرانی نے بی بی سی کو بتایا کہ 'افغانستان میں نوروز منایا جائے گا چاہے طالبان چاہیں یا نہ چاہیں۔'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مزار شریف میں نوروز کی تقریبات کا آغاز نیلی مسجد یعنی 'روضہ حضرت علی' کے صحن میں ہزاروں افراد کے درمیان پرچم لہرا کر کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ملک بھر اور یہاں تک کہ دنیا بھر میں افغان باشندے تقریبات کا آغاز کر دیتے ہیں۔
جھنڈا لہرانے کی تقریب دراصل بلخ اور افغانستان میں نوروز کی تقریبات کا باضابطہ آغاز تصور کیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ریڈ ٹیولپ فیسٹیول
ریڈ ٹیولپ فیسٹیول افغانستان میں نوروز کا اہم تہوار ہے۔ نوروز کے بعد کے دنوں میں یعنی مئی کے آغاز تک جب بلخ، فاریاب اور افغانستان کے کچھ شمالی علاقوں کے سبز میدان اور پہاڑیاں سرخ رنگ کے ٹیولپ پھولوں سے بھر جاتی ہیں تو موسم سرما کے بعد موسم بہار کی تازگی جشن منانے والوں کو میدانی علاقوں اور وادیوں کے قلب میں لے آتی ہے۔
ریڈ روز فیسٹیول میں بزکشی جیسے روائتی اور تفریحی مقابلے مزار شریف اور دیگر شمالی صوبوں اور کابل میں منعقد کیے جائیں گے۔ اس ریس میں، ہنر مند گھڑ سواروں کی دو ٹیمیں آپس میں مقابلہ کرتی ہیں تاکہ ایک دنبے کو ایک مخصوص جگہ تک پہلے پہنچا سکیں۔
افغانستان میں مختلف خاندان طویل عرصے سے سات خشک میوہ جات اپنے نوروز کے لیے سجائے گئے میز پر رکھتے ہیں اور مہمانوں کی تواضع کرتے ہیں۔ ان میں کشمش، ایلمز، پستہ، ہیزلنٹس، پرونز، اخروٹ یا بادام شامل ہیں۔ ہفت میوہ دراصل سات قسم کے خشک میوہ جات کے سلاد جیسا ہوتا ہے۔
























