چین کی کیمونسٹ پارٹی کے اجلاس میں اہم قرارداد متوقع

چین

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وقت اشاعت

چین کی کیمونسٹ پارٹی (سی پی سی) کی انیسویں مرکزی کمیٹی کا چھٹا اور آخری اجلاس جس میں کمیٹی کے اراکین کی مکمل تعداد شریک ہوگی، نومبر کی آٹھ اور گیارہ تاریخ کو دارالحکومت بیجنگ میں منعقد ہوگا۔

سی پی سی کی تاریخ میں تیسری قرارداد کا اعلان اس ہی اجلاس میں متوقع ہے۔

چین کی کیمونسٹ پارٹی کی سو سالہ تاریخ میں اس نوعیت کی اب تک صرف دو ہی قراردادیں منظور کی گئی ہیں جنھوں نے گذشتہ کئی دہائیوں سے ملک اور پارٹی پالیسیوں کا احاطہ کیا ہوا ہے۔

مرکزی کمیٹی کا یہ اجتماع اگلے سال موسم بہار میں پارٹی کی کانگریس کے انعقاد سے قبل سب سے اہم سیاسی اجلاس ہے۔

کیا ہوا ہے؟

پارٹی میں فیصلہ سازی کے اعلیٰ ترین ادارے 'پولٹ بیورو' نے 18 اکتوبر کو یہ فیصلہ کیا تھا کہ مرکزی کمیٹی کا مکمل اجتماع نومبر میں منعقد کیا جائے گا۔

اس اعلان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ اس اجلاس میں پارٹی کی سو سالہ تاریخ میں اس کی جدوجہد، تجربات اور کامیابیوں پر نظر ڈالی جائے گی اور اس پر قرارداد پیش کی جائے گی۔

سرکاری ویب سائٹ کے مطابق اس بھرپور اجلاس میں گذشتہ صدی میں پوری توجہ پارٹی کی کامیابیوں، تاریخی تجربات اور جدوجہد پر مرکوز رہے گی۔

اس اجلاس میں مرکزی کمیٹی کے تمام 376 اراکین شرکت کریں گے۔ آئندہ برس پارٹی کے اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارے کے 25 اراکین 68 برس کے ہو جائیں گے جو اعلیٰ ترین رہنماؤں کے لیے ریٹائرمنٹ کی حد ہے۔

اس اجلاس کی کیا اہمیت ہے؟

سی پی سی کے اندرونی معاملات میں رہنماؤں کی تقرریوں، پارٹی کی تنظیم اور نظریات پر غور کرنے سمیت اہم پارٹی امور پر گذشتہ 30 برس کے دوران منعقد ہونے والے اجلاسوں میں بات ہوتی رہی ہے۔

اکتوبر سنہ 2016 میں اٹھارہویں مرکزی کمیٹی کے چھٹے اجلاس میں صدر شی جی پنگ کی مرکزی قیادت کی توثیق کی گئی تھی۔

پارٹی کی پہلی دو کلیدی قرار دادوں میں سے ایک کا اعلان سی پی سی کی چھٹی مرکزی کمیٹی کے سنہ 1945 میں ہونے والے ساتویں اجلاس میں کیا گیا تھا۔ یہ قرار دادیں چند تاریخی اہمیت کے امور سے متعلق تھیں جن میں پارٹی کے اندر ماؤ زے تنگ کی قیادت کی توثیق کی گئی تھی۔

دوسری قرارداد کی توثیق سنہ 1981 میں کی گئی تھی جس میں ثقافتی انقلاب کے دوران پارٹی سے سر زد ہونے والی غلطیوں کا احاطہ کیا گیا تھا اور سابق صدر ڈینگ ژیاؤ پنگ کی اصلاحات اور معیشت کو کھولنے کی پالیسوں کی بنیاد رکھی گئی تھی۔

نئی قرار داد میں کیا متوقع ہے؟

ملک میں چینی زبان میں شائع ہونے والے تمام اخبارات اور ذرائع ابلاغ نے اس اہم اجلاس کے بارے میں سرکاری خبر رساں ادارے ژنوا کی خبر پر ہی اکتفا کیا ہے۔ لیکن بیرونی دنیا کے قارئین کے لیے انگریزی زبان میں شائع ہونے والے چینی ذرائع ابلاغ نے سی پی سی کی تیسری قرار داد کے بارے میں کچھ تبصرے اور قیاس آرائیاں کی ہیں۔

سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے چینی اکیڈی آف سوشل سائنسز کے تجزیہ کار فان پینگ کے حوالے سے لکھا ہے کہ گزشتہ دو قرار دادیں چند مخصوص معاملات اور پارٹی کو درپیش سوالات کے بارے میں تھیں لیکن تیسری قرار داد پارٹی کے وسیع تجربے کے بعد پارٹی کے مستقبل کے تصور کے بارے میں ہو گی۔

ہانگ کانگ سے شائع ہونے والی نیوز ویب سائٹ نے کہا ہے کہ پہلی دونوں قرار دادیں پارٹی کے اہم تاریخی دوراہوں پر سامنے آئی تھیں جن سے ماؤ زے تنگ اور ڈینگ ژیاؤ پنگ کی پارٹی میں کلیدی حیثیتوں کی توثیق کی تھی۔

ہانگ کانگ سے ہی شائع ہونے والے نجی اخبار 'ساؤتھ چائنہ مارنگ پوسٹ' نے چین کی نانجنگ یونیورسٹی کے سیاسیات کے شعبے سے منسلک تجزیہ کار جو سو سے بات کی جنہوں نے 1981 کی دستاویز کے مرتب ہونے کا مشاہدہ کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ چین کے ثقافتی انقلاب کے بارے میں پارٹی کی رائے تبدیل نہیں ہو گی لیکن اس میں شاید نرمی آ جائے۔ انھوں نے کہا کہ تیسری قرار کی زبان سنہ 1981 کی قرار داد کے مقابلے میں نرم ہو سکتی ہے اور اس میں قومی قیادت کی ضرورت سے زیادہ مداح سرائی بھی نہیں کی جائے گی۔

ساوتھ چائنہ مارنگ پوسٹ کو ویانا کی یونیورسٹی میں چین کی سیاست اور قانون کے شعبے سے وابستہ پروفیسر لنگ لی نے بتایا کے تیسری قرار میں ہو سکتا ہے کہ اگلے برس ہونے والی کانگریس کے اجلاس سے قبل صدر شی جی پنگ کے نام کو پارٹی کے چیئرمین کے عہدے کے لیے آ گے بڑھایا جائے۔ لی نے مزید کہا کہ یہ قراد داد شی کو سی پی سی کے جنرل سیکریٹری کے عہدے پر فائز کر دے۔