آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پنجاب کی سیاسی چپقلش، عروسہ عالم پھر خبروں میں
پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ کیپٹین امریندر سنگھ کے پاکستانی صحافی عروسہ عالم کے ساتھ تعلقات پر انڈیا میں ہونے والا تنازعہ مقابل دعوؤوں کے درمیان پھر سے گرم ہو گیا ہے۔
امریندر سنگھ نے حال ہی میں ریاست کے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفی دینے کے بعد ایک نئی پارٹی بنانے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے ردعمل میں پنجاب کے نائب وزیر اعلیٰ سکھجندر سنگھ رندھاوا نے گزشتہ ہفتے کہا کہ حکومت کیپٹن امریندر کی دوست عروسہ عالم کے آئی ایس آئی کے ساتھ تعلقات کی تحقیقات کرے گی۔
جمعرات کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ پولیس کے ڈائریکٹر جنرل سے 'بی بی جی (عروسہ) کے [آئی ایس آئی کے ساتھ] تعلقات' کی تحقیق کرنے کے لیے کہیں گے۔ رندھاوا نے مزید کہا کہ وہ ڈی جی پی سے امریندرسنگھ کی وزارت اعلیٰ کے زمانے میں پاکستان سے آنے والے ڈرونز کی رپورٹس کی تحقیقات کرنے کو بھی کہیں گے۔
سکھجندر سنگھ رندھاوا نے بعد میں این ڈی ٹی وی نیوز چینل کو بتایا کہ 'کپتان کہہ رہے ہیں کہ پنجاب کو آئی ایس آئی سے خطرہ ہے۔ اس لیے ہم عروسہ عالم کے آئی ایس آئی سے تعلق کی بھی تحقیقات کریں گے۔'
ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے امریندر سنگھ نے عروسہ عالم کی تقریباً ایک درجن تصاویر فیس بک پر پوسٹ کیں جن میں وہ کانگریسی رہنما سونیا گاندھی، سابق مرکزی وزراء سشما سوراج، اشونی کمار اور یشونت سنہا، اداکار شتروگھن سنہا اور دلیپ کمار، لیفٹیننٹ جنرل جگجیت سنگھ اروڑہ سمیت دوسرے اور انڈین معززین کے ساتھ نظر آ رہی ہیں۔ ان تصاویر کے ساتھ انھوں نے طنزاً لکھا کہ 'میرے خیال سے یہ سبھی آئی ایس آئی سے رابطے میں ہیں۔'
مزید پڑھیے:
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے مزید لکھا کہ 'ایسا کہنے والوں کو بولنے سے پہلے سوچنا چاہیے۔ بدقسمتی سے انڈیا اور پاکستان کے درمیان اس وقت ویزا پر پابندی ہے ورنہ میں انھیں دوبارہ دعوت دیتا۔ اتفاق سے میں مارچ میں 80 اور مسز عالم اگلے سال 69 سال کی ہونے جا رہی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ تنگ نظری عام ہو چکی ہے۔'
کیپٹن امریندر سنگھ چار دہائیوں سے زیادہ عرصے سے کانگریس پارٹی کے رکن تھے اور دو بار پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہ چکے ہیں۔ گزشتہ چند ماہ سے نوجوت سنگھ سدھو سے ان کے جھگڑے جاری تھے۔ کانگریس نے ان کی حمایت کرنے کے بجائے چرنجیت سنگھ چنی کو وزیر اعلیٰ منتخب کیا اور سنگھ کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونا پڑا۔
ان دونوں گروپس کے درمیان دشمنی دوبارہ اس وقت سرعام ہوگئی جب امریندر سنگھ نے اگلے سال ہونے والے ریاستی انتخابات سے قبل ایک نئی پارٹی بنانے اور بی جے پی کے ساتھ اتحاد کرنے کا اعلان کیا۔
بتایا جاتا ہے کہ عروسہ عالم، جو کہ 2004 میں امریندر سنگھ کے دورہ پاکستان کے دوران ان سے ملی تھیں، ان سے کافی قریب ہیں اور انھوں نے ان کی حلف برداری کی تقریب میں بھی شریک تھیں۔ وہ 2018 میں بھی بحث کا موضوع تھیں جب امریندر سنگھ نے عمران خان کی تقریب حلف برداری میں شرکت اور پاکستانی آرمی چیف کو گلے لگانے کے لیے نوجوت سنگھ سدھو کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
2007 میں اسی طرح کے تنازعات کے بعد عروسہ عالم نے کہا تھا کہ امریندر سنگھ ان کے اچھے دوست ہیں اور انڈین میڈیا ان کے رشتے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے۔
عروسہ عالم نے مزید کہا تھا کہ ان کے رشتےکے بارے میں اس طرح کی خبروں سے پاکستان میں ان کی شہرت پر برے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ان کا سماجی کردار ہے اور ایسی خبروں سے ان کی سماجی زندگی پر اثر پڑے گا۔
ان کا یہ ردعمل اس وقت آیا تھا جب پنجاب اسمبلی میں بعض ممبران نے عروسہ عالم اور امریندر سنگھ کے رشتے پر آواز اٹھائی تھی اور مبینہ طور پر عروسہ کو آئی ایس آئی کا ایجنیٹ بتایا تھا اور امریندر سنگھ کے ساتھ ان کی دوستی کو ملک کے لیے خطرناک کہا گیا تھا۔
عروسہ عالم کون ہیں؟
عروسہ عالم ایک پاکستانی صحافی ہیں جنہوں نے اپنی کیریئر کا آغاز اسی کی دہائی میں کیا۔ عروسہ عالم اسلام آباد سے شائع ہونے والے انگلش نیوز پیپر پاکستان آوبزرو اور ’دی مسلم‘ کے ساتھ منسلک رہیں جہاں وہ زیادہ تر دفاعی امور سے متعلق کی کوریج کرتی تھیں۔
وہ ساؤتھ ایشیا فری میڈیا ایسوسی ایشن (سیفما) کی صدر بھی رہی ہیں۔ عروسہ عالم کے عالم کے دو بیٹے ہیں جن میں ایک گلوکار فخر عالم ہیں جبکہ ان کے ایک وکالت شعبے سے منسلک ہیں۔
عروسہ عالم کی اقلیم اختر کی بیٹی ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ پاکستانی فوجی سربراہ جنرل یحیٰ خان سےاچھے تعلقات کی وجہ انھیں جنرل رانی بھی کہا جاتا تھا۔
خیال کیا جاتا ہے کہ عروسہ عالم کی کیپٹن امریندر سنگھ سے ملاقات 2004 میں ہوئی تھی جب وہ پاکستان کے دورے پر آئے تھے۔ جب کیپٹن امریندر سنگھ 2017 میں دوسری بار پنجاب کے وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تو عروسہ عالم ان وی آئی پی مہمانوں میں شامل تھیں جو ان کی حلف برداری کی تقریب میں شریک ہوئِے۔
انھوں نے کیپٹن امریندر کی سوانچ عمری ’دی پیپلز مہاراجہ‘ کے تقریب رونمائی میں شریک ہوئیں۔
دی پیپلز مہاراجہ میں عروسہ عالم کے بارے میں ایک باب ہے۔ عروسہ عالم نے کہا کہ ان کا کیپٹن امریندر سے ’خوبصورت‘ رشتہ ہے جو ہمیشہ قائم رہے گا۔‘