الہ آباد ہائی کورٹ: ہائی کوٹ کے جج کا گائے کو قومی جانور قرار دینے کی تجویز کے بعد اب دیوی دیوتاؤں کے لیے قومی اعزاز کا مشورہ

عدالت، انڈیا

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, نیاز فاروقی
    • عہدہ, بی بی سی، نئی دہلی
  • وقت اشاعت

انڈین آئین سیکولر اصولوں پر مبنی ہے اور یہ مختلف مذہبی عقائد میں فرق نہیں کرتا یہی وجہ ہے کہ وہاں کی قانون اور آئینی حلقوں میں ایک جج شیکھر کمار یادو کے عدالتی فیصلوں اور بیانات پر تنقید کی جا رہی ہے کیونکہ ان کے ’ہندو نظریات‘ ان کی جانب سے دیے گئے عدالتی فیصلوں پر حاوی دکھائی دیتے ہیں۔

حال ہی میں انڈیا کی الہ آباد ہائی کورٹ کے جج شیکھر کمار یادو نے کہا ہے کہ رام اور دیگر ہندو دیوتاؤں کو قانون کے ذریعے قومی اعزازات سے نوازا جائے۔

جسٹس یادو نے یہ بات ہندو دیوتاؤں ’رام‘ اور ’کرشن‘ کے خلاف فحش تبصرے کرنے کے الزام میں ایک شخص آکاش جاٹو عرف سوریا پرکاش نامی ایک شخص کی درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران دیا۔

آکاش کو ضمانت دیتے ہوئے جسٹس یادو نے کہا کہ ’بھگوان رام، بھگوان کرشن، رامائن، گیتا اور اس کے مصنف مہارشی والمیکی اور مہارشی وید ویاس قومی ورثے کا حصہ ہیں اور انھیں انڈین پارلیمان میں قانون سازی کرکے قومی اعزاز دینے کی ضرورت ہے۔‘

عدالت نے اپنے فیصلے میں مزید کہا کہ ’ملزم/مدعی کی طرف سے انڈیا کی عظیم شخصیتوں بھگوان شری رام اور شری کرشن کے بارے میں کیے گئے فحش تبصرے اس ملک کی اکثریت کے عقیدے کی توہین ہیں اور یہ معاشرے میں امن اور ہم آہنگی کو خراب کرتے ہیں اور بے گناہ لوگوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔‘

عدالت نے مزید کہا کہ ’ملک کے تمام سکولوں میں بچوں کو (ان موضوعات پر) لازمی تعلیم دینے کی ضرورت ہے کیونکہ صرف تعلیم کے ذریعے ہی ایک شخص مہذب ہوتا ہے اور اپنی زندگی کی اقدار اور اپنی ثقافت سے آگاہ ہوتا ہے۔‘

ہندو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

گائے کو قومی جانور قرار دینے کا مطالبہ

جسٹس یادو نے اس سے قبل بھی ایسے بیانات دیے ہیں جو متنازع رہے ہیں۔

مثلاً انھوں نے گائے ذبیحہ کے ایک کیس کی سماعت کے دوران یہ کہا تھا کہ ’گائے انڈیا کی ثقافت کا حصہ ہے اور اسے قومی جانور قرار دیا جانا چاہیے۔‘

واضح رہے کہ انڈیا کا قومی جانور شیر ہے۔

انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’گائے کی حفاظت کا کام صرف ایک مذہبی فرقے کا نہیں بلکہ گائے انڈیا کی ثقافت ہے اور ثقافت کو بچانے کا کام ملک میں رہنے والے ہر شہری کا ہے چاہے وہ کسی بھی مذہب سے ہو۔‘

انڈیا، گائے

،تصویر کا ذریعہANI

جسٹس یادو نے ستمبر میں گائے ذبیحہ کے ایک ملزم کی ضمانت مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’سائنسدانوں کا خیال ہے کہ گائے واحد جانور ہے جو سانس میں آکسیجن لیتا ہے اور خارج کرتا ہے۔‘

’جج کو ایسا نہیں کرنا چاہیے‘

الہ آباد ہائی کورٹ کے سابق چیف جسٹس گووند ماتھور نے عدالت اور قانون سے متعلقہ معاملات پر رپورٹ کرنے والی ایک ویب سائٹ ’بار اینڈ بینچ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’عدالت اپنے نظریات مسلط کرنے کا پلیٹ فارم نہیں، جج کو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ’ہر شہری کو اپنے عقیدے کا انتخاب کرنے اور اس پر عمل کرنے کا حق ہے لیکن عدالت کو ضمانت کے احکامات میں غیر متعلقہ بیانات سے بچنا چاہیے۔‘

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سینیئر ایڈووکیٹ سنجے ہیگڈے نے بتاتا کہ جسٹس یادو کا بیان ایک ضمانت کے حکم کے تناظر میں ہے لیکن ’ضمانت کے قانون میں نہ رام ہے، نہ کرشن، نہ محمد ہے، نہ یسوع۔ یہ اس طرح کے تبصرے کرنے کا موقع نہیں تھا۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ انڈین قانون یا ملک میں جرم سے متعلق قوانین مذہب کی بنیاد ہر مبنی نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سنجے ہیگڈے نے یہ بھی کہا یہ غیر معمولی نہیں کہ اکثریت انڈین جج قانونی سوالات پر فیصلہ دیتے وقت صرف قانونی بنیاد پر قائم رہیں لیکن کئی بار ججز کے وہ خیالات جو ان کی زندگی اور سوچ کی بنیاد ہیں، ان کے فیصلوں میں نظر آتے ہیں۔‘

انھوں نے کہا کہ یہ ممکن ہے کہ کچھ عدالتیں مسئلوں کو مذہبی زاویے سے دیکھتی ہوں لیکن انھیں توقع ہے کہ اگر یہ معاملہ اپیل کنندہ عدالتوں میں آیا تو اس کی درست طریقے سے سماعت کی جائے گی۔

انڈین آئین کی مذہبی غیر جانبداری پر زور دیتے ہوئے سنجے ہیگڈے نے کہا کی کہ دراصل اس کے مصنف بی آر امبیڈکر نے خود ’رڈل آف راما اینڈ کرشنا‘ لکھی، جو ہندو مذہب کی پرزور تنقید تھی۔

الہ آباد ہائی کورٹ نے اس درخواست ضمانت پر اپنا حکم معمول کے برعکس ہندی زبان میں جاری کیا۔

ہندو

،تصویر کا ذریعہGetty Images

فیصلوں کے دوران ججوں کے ذاتی عقائد پر مبنی تبصرے

قانون اور عدالتی معاملات پر رپورٹننگ کرنے والی ویب سائٹ ’لائیو لا‘ کے مینجنگ ایڈیٹر نے اس بات پر روشنی ڈالتے ہوئے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’سرکاری زبانوں کے ایکٹ کے مطابق اگر ہندی یا کوئی دوسری سرکاری زبان ہائی کورٹ کے فیصلے کے لیے استعمال کی جاتی ہے تو اس کا انگریزی ترجمہ بھی ہونا چاہیے۔‘

واضح رہے کہ اس سے پہلے راجستھان ہائی کورٹ کے جج جسٹس مہیش چندر شرما نے بھی گائے کی خوبیوں کی تعریف کرتے ہوئے کچھ ایسا ہی تبصرہ کیا تھا۔

انھوں نے کہا تھا کہ گائے کا دودھ یادداشت کو بڑھاتا ہے اور گائے کا پیشاب دل کی بیماریوں کا علاج کر سکتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ مادہ مور نر مور کے آنسوؤں سے حاملہ ہوتی ہے۔

جسٹس شرما بھی گائے کو انڈیا کا قومی جانور قرار دینا چاہتے تھے اور انھوں نے ریاستی حکومت کو بی جے پی کے زیرقیادت مرکزی حکومت کے ساتھ اس مسئلے پر تعاون کرنے کی ہدایت دی تھی۔