افغانستان میں طالبان کی پیش قدمی: طالبان اور افغان فورسز کے درمیان جھڑپوں میں پھنسے زخمیوں کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں کی مشکلات میں اضافہ

،تصویر کا ذریعہMSF
افغان فورسز اور طالبان کے درمیان افغانستان کے اہم شہروں (قندھار اور لشکر گاہ) پر کنٹرول کی لڑائی میں بچوں اور عورتوں کی ایک بڑی تعداد بھی ہلاک اور زخمی ہوئی ہے۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہسپتال بھر چکے ہیں اور انھیں زخمیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے نمٹنے میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔
غیر سرکاری طبی تنظیم میڈیسن سان فرنٹیئرز (ایم ایس ایف) کے ساتھ گذشتہ سات سال سے کام کرنے والے ڈاکٹر مسعود خان کہتے ہیں کہ ’میں نے اپنی زندگی میں کبھی ایسی کشیدہ صورتحال نہیں دیکھی۔‘
’لڑائی کی وجہ سے بہت سے لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو ہسپتال بھی نہیں پہنچ سکتے۔ مجموعی طور پر ہم معمول سے زیادہ مریض دیکھ رہے ہیں۔‘
گذشتہ ماہ سے امریکی افواج کے ملک سے انخلا کے بعد طالبان عسکریت پسند پورے افغانستان میں کامیابی حاصل کر رہے ہیں اور متعدد اضلاع کا کنٹرول سنبھال رہے ہیں۔
وہ اب شہروں کو نشانہ بنا رہے ہیں اور پچھلے ایک ہفتے سے ایران کے ساتھ مغربی سرحد کے قریب واقع صوبے ہرات اور جنوب میں واقع لشکر گاہ اور قندھار کے ارد گرد شدید لڑائی جاری ہے۔
لشکر گاہ کی قسمت کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا ہے اور اطلاعات ہیں کہ طالبان جنگجوؤں نے گھروں، دکانوں اور بازاروں میں پوزیشنیں سنبھال رکھی ہیں اور شہر کے لوگ چاروں طرف سے بری طرح پھنسے ہوئے ہیں۔
ڈاکٹر خان کہتے ہیں کہ وہ شہر کے 300 بستروں والے ’بوسٹ‘ ہسپتال میں مسلسل آنے والے شدید زخمی مریضوں کے علاج کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ادویات اور دیگر طبی ضروریات و آلات کی سپلائی کم ہو رہی ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
’ہسپتال میں بھی محفوظ محسوس نہیں کرتے‘
گذشتہ تین مہینوں سے ڈاکٹر خان کا ہسپتال روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً جنگ میں زخمی ہونے والے پانچ مریضوں کا علاج کر رہا ہے۔ لیکن تشدد میں حالیہ اضافے کا مطلب زیادہ شہری ہلاکتیں بھی ہیں۔ 29 اور 31 جولائی کے درمیان صرف تین دنوں میں ہسپتال نے لڑائی میں زخمی ہونے والے 70 افراد کا علاج کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مئی اور جولائی کے درمیان ہسپتال آنے والے 482 مریضوں میں سے تقریباً 90 فیصد شیلنگ اور گولیوں کی وجہ سے زخمی ہوئے تھے۔ ایم ایس ایف کا کہنا ہے کہ ابھی بہت سے زخمی ہسپتال تک نہیں پہنچے ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ ’یہ تنازع سب کو متاثر کر رہا ہے۔ یہاں تک کہ ہسپتال میں بھی جب ہم فائرنگ کی آوازیں سن رہے ہوتے ہیں تو ہم زیادہ محفوظ محسوس نہیں کرتے۔‘
’چاروں طرف لڑائی ہے۔ ہم اپنے ہسپتال میں بہت سی آوازیں سن رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’طالبان ہر جگہ موجود ہیں‘
افغان فوج نے لشکر گاہ کے تقریباً دو لاکھ رہائشیوں کو شہر چھوڑنے کے لیے کہا ہے۔ اس کی فضائیہ باغیوں کے ٹھکانوں پر بمباری کر رہی ہے اور پولیس ہیڈ کوارٹر کے قریب شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں۔
طالبان پہلے ہی ایک درجن سے زیادہ مقامی ریڈیو اور ٹی وی سٹیشنوں پر قبضہ کر چکے ہیں۔
ایک رہائشی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’طالبان شہر میں ہر جگہ موجود ہیں، آپ انھیں سڑکوں پر موٹر سائیکلوں پر (بیٹھے) دیکھ سکتے ہیں۔ وہ ان لوگوں کو گرفتار کر رہے یا گولیاں مار رہے ہیں جن کے پاس سمارٹ فون ہیں۔‘
’علاقے سے فرار کا کوئی راستہ نہیں ہے‘
ایک رہائشی صالح محمد نے بتایا کہ سینکڑوں خاندان شہر چھوڑ کر جا چکے ہیں، لیکن بہت سے لوگ دونوں طرف سے فائرنگ کے درمیان پھنسے ہوئے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
محمد نے کہا کہ ’علاقے سے فرار کا کوئی راستہ نہیں ہے کیونکہ لڑائی جاری ہے۔ اس بات کی کوئی ضمانت نہیں کہ ہم راستے میں مارے نہیں جائیں گے۔‘
انھوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’حکومت اور طالبان ہمیں تباہ کر رہے ہیں۔‘
یہ بھی پڑھیے
لڑائی کی وجہ سے ڈاکٹر خان گذشتہ دو دنوں سے اپنے گھر نہیں جا سکے ہیں۔ اپنے عملے کی طرح، وہ بھی ہسپتال میں ہی رہ رہے ہیں۔
’ہسپتال تک پہنچنا بہت مشکل ہے۔ ہم ہسپتال میں رہ رہے ہیں۔ ہم دن رات کام کر رہے ہیں اور بنکروں میں سوتے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہMSF
ڈاکٹر خان کہتے ہیں کہ مریضوں کی تعداد اور مرنے والوں میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن طبی اشیا اور عملے میں کمی ہو رہی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم مریضوں کو معیاری نگہداشت فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن ہمیں پوری مقدار میں سپلائی بھی نہیں مل رہی۔ شہر میں سبھی دکانیں بند ہیں۔ شہر مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔‘
مردہ اور زخمی
اطلاعات کے مطابق افغانستان کے دوسرے سب سے بڑے شہر قندھار کے ہسپتال میں بھی زیادہ سے زیادہ مریض آ رے ہیں۔
قندھار کے میر واعظ ہسپتال کے سربراہ ڈاکٹر داؤد فرہاد کہتے ہیں کہ تین ہفتوں میں ہمارے پاس 145 لاشیں آئی ہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ صورتحال اس وقت بہتر ہو رہی ہے کیونکہ حکومتی فورسز تین ہفتے قبل شروع ہونے والے طالبان کے حملے کا مقابلہ کرتے ہوئے اب انھیں پیچھے کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہBBC News
ڈاکٹر فرہاد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے پاس ہر دن جنگ میں زخمی ہونے والے 10 سے 30 تک مریض آ رہے ہیں۔
میر واعظ ہسپتال میں 115 ڈاکٹر اور 600 بستر ہیں، لیکن انھوں نے مزید مریضوں سے نمٹنے کے لیے 30 بستروں کا ایک الگ ایمرجنسی وارڈ قائم کیا ہے۔
’تین ہفتے قبل طالبان شہر کے قریب پہنچے تھے اور یہاں لڑائی میں زخمی ہونے والے افراد آنا شروع ہو گئے تھے۔ اب تک ہمارے پاس 513 کیسز آئے ہیں۔
’زخمیوں میں 80 فیصد کے قریب عام شہری ہیں۔ شدید زخمی ہونے والوں میں 110 بچے اور 75 عورتیں بھی شامل تھیں۔‘
عملے کی کمی
ڈاکٹر فرہاد کہتے ہیں کہ ان کے ہسپتال میں، جہاں سے انٹرنیشنل ریڈ کراس بھی کام کرتا ہے، ادویات کا کافی ذخیرہ ہے اور وہ مریضوں کی اچھی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔
لیکن انھیں خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں زخموں کی شدت کی وجہ سے کچھ زخمی مر بھی سکتے ہیں۔

ڈاکٹر فرہاد کہتے ہیں کہ ’ہم گولی کے زخم، بارودی سرنگوں کی وجہ سے ہونے والے زخم، جلنے کے زخم، بم دھماکوں کی وجہ سے صدمے، اور بموں کے ٹکڑوں کی وجہ سے ہونے والے زخموں کا علاج کر رہے ہیں۔ ایسے مریض بھی ہیں جو اپنی ٹانگیں اور بازو کھو چکے ہیں۔‘
تنازعات کی وجہ سے بہت سے قصبوں اور شہروں میں ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے ہے اور ان میں ڈاکٹر بھی ہیں۔
ڈاکٹر فرہاد نے مزید کہا کہ ’ہمارے زیادہ تر ڈاکٹر ہسپتال میں رہائش پذیر ہیں لیکن نرسوں اور دیگر طبی عملے کے لیے، جو ہسپتال سے باہر رہتے ہیں، ہسپتال آنا مشکل ہو رہا ہے۔ یہاں غیر طبی عملے کی بھی کمی ہے۔‘
ایم ایس ایف کے مطابق مئی کے بعد سے مریضوں کی بیماریوں کی شدت میں بھی خطرناک اضافہ دیکھا گیا ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ ’لوگوں نے ہمیں بتایا ہے کہ طبی دیکھ بھال کی اشد ضرورت کے باوجود، وہ اس وقت تک گھروں پر انتظار کرنے پر مجبور رہے جب تک لڑائی ختم نہ ہوئی یا پھر انھیں کوئی متبادل راستہ نہ مل گیا۔‘



























