انڈیا میں ڈاکٹروں کا خود پر حملے روکنے کے لیے سخت کارروائی کا مطالبہ

Dr Senapati at home
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر سیناپتی کو ایک مریض کے رشتہ داروں نے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا تھا
    • مصنف, دیویا آریا
    • عہدہ, بی بی سی نیوز دلی
  • وقت اشاعت

ڈاکٹر سیوج کمار سیناپتی کو وہ وقت اچھی طرح یاد ہے جب انھوں نے سوچا کہ’آج میں زندہ نہیں رہ پاؤں گا۔‘

ڈاکٹر سیناپتی آسام کے ضلع ہوجائی میں انسدادِ کورونا مرکز میں کام کرتے ہیں۔ انھیں وہاں اپنی نوکری کے دوسرے روز اس وقت ایک مریض کے رشتہ داروں کے غضب کا سامنا کرنا پڑا جب مریض وفات پا گیا۔

وہ بتاتے ہیں کہ جب مریض کو ہسپتال لایا گیا اور انھیں اسے چیک کرنے کے لیے کہا گیا تو مریض کا جسم بالکل بے جان ہو چکا تھا۔ انھوں نے مریض کو چیک کرنے کے بعد اس کے رشتہ داروں کو بتایا کہ مریض کی موت ہو چکی ہے۔

اپنے عزیز کی موت کی خبر سن کر مریض کے رشتہ دار طیش میں آ گئے اور انھوں نے ہسپتال کے عملے ساتھ بدتمیزی کرنے کے علاوہ ہسپتال میں توڑ پھوڑ شروع کر دی۔ انھوں نے کمرے میں کرسیاں اٹھا کر پھینکنا شروع کر دیں اور کھڑکیاں توڑنے لگے۔

ڈاکٹر سیناپتی نے جان بچانے کے لیے وہاں سے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن مریض کے رشتہ داروں کے ساتھ اور لوگ بھی شامل ہو گئے اور انھوں نے ڈاکٹر سیناپتی کو ڈھونڈ کر ان پر تشدد شروع کر دیا۔ اس واقعے کی ایک ہولناک ویڈیو سامنے آئی تھی۔

اس ویڈیو میں نظر آ رہا ہے کہ مشتعل ہجوم ڈاکٹر سیناپتی کو بدترین تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے۔ ڈاکٹر کی شرٹ پھٹ چکی ہے، وہ خون میں لت پت ہیں اور درد سے کراہنے پر مجبور ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں نے سوچا میں آج زندہ نہیں رہ پاؤں گا۔‘

کووڈ کی وبا نے جب سے انڈیا کو اپنی گرفت میں لیا ہے کئی ڈاکٹر مریضوں کے رشتہ داروں کے ہاتھوں پِٹ چکے ہیں۔ عام طور پر مریضوں کے رشتہ داروں کی شکایت ہوتی ہے کہ ان کے مریض کا خیال نہیں رکھا گیا، ان کا صحیح علاج نہیں کیا گیا اور انھیں وقت پر بستر نہیں ملا۔

ڈاکٹر اس کے خلاف احتجاج کرتے رہے ہیں اور انھوں نے ہڑتال بھی کی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ ایسے سخت قوانین بنائے جائیں جس سے طبی عملے کو تحفظ کا احساس ہو۔

مگر ہسپتال ایسی صورتحال کے لیے تیار ہی نہیں ہیں۔

جب ڈاکٹر سیناپتی کو ہسپتال میں پیٹا جا رہا تھا تو ہسپتال میں سے کوئی بھی ان کی مدد کو نہیں آیا۔ ہسپتال کے بقیہ عملے کو یا تو مار پڑ رہی تھی یا وہ اپنی جان بچانے کے لیے کہیں چھپ گئے تھے۔ وہاں صرف ایک گارڈ تھا جو اس ہجوم کے سامنے بے بس تھا۔

وہ کہتے ہیں: ’میرے کپڑے پھٹ چکے تھے، میری گولڈ چین کو چھین لیا گیا، میری عینک اور موبائل فون کو توڑ دیا گیا تھا۔ لیکن بیس منٹ بعد میں وہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔‘

وہ سیدھے تھانے گئے اور حملے کی شکایت درج کروائی۔ ڈاکٹر سیناپتی پر حملے کی ویڈیو کو جب سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا تو اس سے ایک طوفان برپا ہو گیا۔ ریاستی حکومت نے حملہ آوروں کے خلاف کارروائی کا وعدہ کیا۔

اس حملے میں تین کم عمر لڑکوں سمیت تین درجن افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

ڈاکٹروں کا احتجاج

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنڈاکٹر اپنے تحفظ کے لیے قانون سازی کا مطالبہ کر رہے ہیں

کووڈ کی وبا کے دوران ڈاکٹروں پر حملوں کی خبریں نمایاں ہو کر سامنے آئی ہیں لیکن ڈاکٹروں پر حملوں کا سلسلہ پرانا ہے۔ ڈاکٹروں پر مریضوں کے رشتہ داروں کے حملے پر کارروائی عام طور پر آگے نہیں بڑھتی اور اگر مقدمہ درج ہو بھی جائے تو ملزمان جلد ہی ضمانت پر جیل سے باہر آ جاتے ہیں اور پھر معاملہ عدالت کے باہر ہی طے پا جاتا ہے۔

رواں برس کے اوائل میں دلی کے ایک مشہور ہسپتال، اپالو میں جب کووڈ کے ایک مریض کے رشتہ داروں نے ہسپتال میں توڑ پھوڑ کی اور عملے کے ساتھ بدتمیزی کی تب بھی ہسپتال نے اس مقدمے کو چلانے میں دلچسپی ظاہر نہیں کی۔ درحقیقت نجی ہسپتال ایسے مقدموں میں فریق بننے سے گریز کرتے ہیں جس سے ہسپتال کا عملہ مریضوں کے رشتہ داروں کے رحم و کرم پر ہوتا ہے۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایک مسئلہ یہ ہے کہ ہسپتال کے عملے کو تحفظ دینے سے متعلق کوئی قانون موجود ہی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیے

انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر جیش لیلیٰ کا کہنا ہے کہ ’ہمیں معلوم ہوا ہے کہ جو قوانین موجود ہیں وہ موثر نہیں ہیں اور ڈاکٹروں کے تحفظ کے لیے ایک ایسے سخت قانون کی ضرورت ہے جس میں لوگوں کو پتا ہو کہ وہ اگر ڈاکٹر کو ماریں پیٹیں گے تو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔‘

انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن (آئی ایم اے) کے ممبران کی تعداد تین لاکھ 30 ہزار ہے۔ یہ طبی عملے کے تحفظ کے لیے سخت قوانین بنانے کے لیے مہم چلا رہی ہے۔

کیا سخت قانون سے مسئلہ حل ہو جائے گا؟

طبی عملے کے خلاف تشدد کے واقعات پہلے سے سوچے سمجھے نہیں ہوتے بلکہ وہ اپنے عزیز کی موت سے جذباتی ہو کر ایسا کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

شریا شریواستوا ڈاکٹروں پر حملوں کے واقعات پر تحقیق کر رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ صرف سخت قوانین بنانے سے ڈاکٹروں کے خلاف تشدد کے واقعات رُک نہیں جائیں گے۔

شریا ودہی سنٹر فار لیگل پالیسی کی ریسرچ ٹیم کا حصہ ہیں اور انھوں نے جنوری 2018 سے ستمبر 2019 کے دوران ڈاکٹروں پر ہونے والے 56 حملوں کے بارے میں اخبارات میں شائع ہونے والے تمام مواد کا مطالعہ کیا ہے کہ یہ حملے کیسے شروع ہوئے اور کیسے ختم ہوئے۔

وہ کہتی ہیں کہ حکومت نے کووڈ کے مریضوں کا علاج کرنے والے طبی عملے پر حملہ کرنے والوں کے لیے سات سال جیل کی سزا متعارف کرائی ہے ’لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑا۔‘

Doctors and healthcare staff wearing Personal Protective Equipment suits (PPE) attend to Covid-19 patient inside a Covid-19 care center in Delhi.

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنطبی عملے کا کہنا ہے کہ کووڈ کی وبا کی وجہ سے وہ شدید دباؤ میں ہیں

’اگر رضامند نہیں تو مریض کو کہیں اور لے جائیں‘

ڈاکٹر وکاس ریڈی حیدر آباد کے گاندھی ہسپتال میں کام کرتے ہیں۔ وہ ایک ایسے حملے کا شکار ہو چکے ہیں جب مریض کے رشتہ داروں نے کرسیوں کے ساتھ ان پر حملہ کر دیا۔ انھوں نے اس واقعے کی پولیس میں رپورٹ درج کرائی لیکن ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔

ڈاکٹر ریڈی کہتے ہیں: ’کام پر واپس جانا بہت مشکل تھا۔ میں انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں ایک انتہائی بیمار مریض کا علاج کر رہا تھا جب مجھ پر حملہ ہوا۔‘

وہ کہتے ہیں: ’میں بہت عرصے سے سوچ رہا ہوں کہ میرے ساتھ یہ واقعہ کیوں پیش آیا۔‘

ڈاکٹر ریڈی یہ جاننے کی کوشش کر رہے تھے کہ مریض کی حالت کے بارے میں ان کے رشتہ داروں کو آگاہ کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے۔

وہ کہتے ہیں: ’میں یہ سمجھا ہوں کہ ہم ڈاکٹروں کو مریض کے خاندان کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا چاہیے اور انھیں تفصیل سے یہ بتانا چاہیے کہ ہم ان کے مریض کے لیے کیا کچھ کر سکتے ہیں اور کیا کچھ نہیں کر سکتے۔ اگر وہ رضامند ہوں تو ہمیں مریض کا علاج کرنا چاہیے۔ اگر نہیں تو وہ اپنے مریض کو کسی اور ہسپتال لے جائیں۔‘

’ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا۔ میں دن میں 20 سے 30 مریضوں کو دیکھتا ہوں۔‘

Dr Reddy, in the front, at a protest.
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر ریڈی اور ان کے ساتھیوں نے ان پر ہونے والے حملے کے خلاف احتجاج کیا تھا

انڈیا میں آبادی کے تناسب سے ڈاکٹروں کی تعداد دنیا میں کم ہے۔

ورلڈ بینک کے اندازوں کے مطابق انڈیا میں 2018 میں ایک لاکھ آبادی کے لیے صرف 90 ڈاکٹر تھے۔ اس کے مقابلے میں چین میں ایک لاکھ کی آبادی کے لیے 200 ڈاکٹر جبکہ امریکہ میں 260 اور روس میں 400 ڈاکٹر ہیں۔

کووڈ کی وبا نے انڈیا کے کم طبی وسائل پر مزید بوجھ ڈال دیا ہے۔

شریا کی ریسرچ میں سامنے آیا ہے کہ ڈاکٹروں پر حملے اس وقت ہوتے ہیں جب مریض ایمرجنسی وارڈز، انتہائی نگہداشت کے یونٹ (آئی سی یو) یا مریض کو کسی دوسرے ہسپتال سے منتقل کیا جا رہا ہوتا ہے۔

اور وبا کے دوران ان حملوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔

ڈاکٹر جیش لیلی کہتی ہیں: ’کووڈ وارڈ میں ہونا ایسے ہی ہے جیسے آپ جنگ میں ہوں۔‘

اعتماد کا فقدان

انڈیا میں صحت کے نظام کا دو تہائی حصہ نجی شعبے کے پاس ہے اور علاج کافی مہنگا ہے۔

شریا کہتی ہیں کہ مہنگے علاج کے باوجود کووڈ کے مریض مر رہے ہیں جس سے صحت کے نظام پر اعتماد میں کمی آتی جا رہی ہے۔ اور پھر ذرائع ابلاغ میں ہسپتالوں میں مبینہ غفلت کے واقعات کو بہت توجہ ملتی ہے جس سے لوگوں میں شکوک پیدا ہو رہے ہیں۔

ڈاکٹر وکاس ریڈی کہتے ہیں ڈاکٹر مریضوں کو بچانے کی پوری کوشش ہی کر سکتے ہیں۔

’ہم مریض یا اس کے خاندان سے بہت اچھا ہونے کا تقاضا نہیں کرتے، ہم صرف یہ چاہتے ہیں کہ وہ ہماری ایسے پیشہ ورانہ شخص کے طور پر قدر کریں کہ ہم نے لوگوں کو زندگیوں کو بچانے والے شعبے کو چنا ہے۔‘