کووڈ 19: انڈیا میں ہلاکتوں کی تعداد چار لاکھ سے تجاوز کر گئی

،تصویر کا ذریعہEPA
انڈیا میں کورونا وائرس کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد چار لاکھ سے زیادہ ہوگئی ہے۔ ایک طرف حکومت ویکسینیشن کے عمل میں تیزی لا رہی ہے جبکہ دوسری جانب ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ بہت سی اموات رپورٹ نہیں کی جا رہیں۔
کورونا وائرس کی وجہ سے سب سے زیادہ ہلاکتوں کی فہرست میں انڈیا تیسرے نمبر پر ہے۔ امریکہ اور برازیل اس فہرست میں بالترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں۔ تاہم سب سے زیادہ کووڈ۔19 وائرس کے کیسز کی بات کی جائے تو اس میں انڈیا تین کروڑ کیسز کی تشخیص ہونے کے بعد دوسرے نمبر پر جبکہ امریکہ پہلے نمبر پر ہے۔
صحت کے ماہرین انڈیا میں ایک تیسری لہر کے بارے میں تنبیہ کر رہے ہیں۔ جمعے کے روز وفاقی حکومت نے کیرالا، آروناچل پردیش، تریپورا، اوڈیسا، چھتیس گڑھ اور مانی پُر میں ماہرین کی ایک ٹیم بھیجی جو کہ وہاں کی صورتحال کا جائزہ لے گی اور ویکسینیشن پروگرام کی نگرانی کرے گی۔ ان چھ ریاستوں میں کیسز کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
جنوری میں ویکسینیشن پروگرام شروع ہونے کے بعد انڈیا کی کل آبادی کے صرف پانچ فیصد حصے کو ابھی تک ویکسین لگ چکی ہے۔
بھارتی حکومت اس سال کے آخر تک تمام لوگوں کو ویکسین لگانے کی خواہش مند ہے لیکن یہ پروگرام سست روی کا شکار ہے اور اس کی وجہ ویکسین کی خوراکوں میں کمی اور لوگوں میں ہچکچاہٹ ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس وقت ملک میں جو ویکسین استعمال ہورہی ہیں وہ کووی شیلڈ اور کوویکسن ہیں جو کہ انڈیا میں ہی تیار کی جاتی ہیں۔ روس کی تیار کردہ سپٹنک فائیو ویکسین استعمال کرنے کی بھی اجازت دے دی گئی ہے جو کہ محدود تعداد میں لگائی جارہی ہے۔
حکومت، کورونا کی دوسری جان لیوا لہر کے بعد اب ویکسین کی سپلائی میں اضافے کی کوششیں کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ اس لہر کی وجہ سے ملک میں صحت کے پہلے سے ہی کمزور نظام پر زبردست دباؤ پڑا ہے۔
انڈین حکام نوواویکس ویکسین کی مقامی طور پر تیار کی گئی قسم استعمال کرنے کی تیاری کر رہے ہیں جو کہ سیرم انسٹیٹیوٹ آف انڈیا کی جانب سے تیار کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ حکومت نے ایک اور ویکسین کی تین سو ملین خوراکوں کا آرڈر بھی انڈین کمپنی بائیولاجیکل ای کو دیا ہے۔
یاد رہے کہ کچھ دن قبل انڈین ہیلتھ منسٹری نے دوائیں بنانے والی انڈین کمپنی سپللا کو موڈرنا ویکسین درآمد کرنے کی بھی اجازت دی تھی، جو کہ کووڈ کے خلاف پچانوے فیصد تک موثر ثابت ہوئی ہے۔

























