آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
تہلکہ کے سابق مدیر ترون تیجپال ریپ الزامات سے بری: مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بننے والی خاتون سے متعلق جج کے ریمارکس پر شدید تنقید
- مصنف, گیتا پانڈے
- عہدہ, بی بی سی نیوز، دہلی
- وقت اشاعت
کیا ریپ سے متاثرہ خاتون کو کوئی خاص رویہ اپنانا چاہیے؟
یہ وہ سوال ہے جو انڈیا میں بہت سے لوگ اس وقت سے پوچھ رہے ہیں جب ایک جج نے ایک شخص پر لگائے گئے ریپ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بننے والی خاتون کے رویے اور طرز عمل پر سوالات اٹھائے۔
جج کشما جوشی نے انڈیا کے ایک مشہور ریپ کیس کے تفصیلی فیصلے میں لکھا ہے کہ مبینہ ریپ کے تھوڑی دیر بعد ہی لی جانے والی تصاویر میں متاثرہ خاتون ’مسکرا رہی تھیں، خوش نظر آ رہی تھیں اور انتہائی نارمل موڈ میں تھیں۔‘
527 صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں جج نے لکھا: ’وہ کسی طرح بھی پریشان، گھبرائی ہوئی یا صدمے کا شکار نہیں لگ رہی تھیں۔‘
اس نوعیت کی دیگر تفصیلات اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر عدالت نے تہلکہ میگزین کے سابق مدیر ترون تیجپال کے خلاف لگائے گئے ریپ کے الزامات کو خارج کر دیا تھا۔ انڈیا کی وہ ریاست جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا اس نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کر دی ہے۔
نومبر 2013 کے اوائل میں تہلکہ میگزین کے زیر اہتمام گوا میں ایک ادبی میلے کا اہتمام کیا تھا۔ تہلکہ میگزین کی ایک نوعمر خاتون صحافی نے الزام عائد کیا تھا کہ اس میلے کے دوران ان ہی کے میگزین کے مدیر ترون تیجپال نے ہوٹل کی لفٹ میں زبردستی کرنے کی کوشش کی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان الزامات کے بعد ترون تیج پال کو 18 نومبر 2013 کو گرفتار کر لیا گیا تھا اور سات ماہ جیل میں قید رہنے کے بعد جب انھوں نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تو انھیں ضمانت پر رہائی مل گئی تھی۔
گوا پولیس نے اس مقدمے کی تفتیش کے بعد معروف صحافی کے خلاف جو فرد جرم دائر کی تھی وہ تین ہزار صفحات پر مشتمل تھی۔ پولیس نے ان کے خلاف خاتون پر جبر کرنے، زبردستی روکنے، برہنہ کرنے کے ارادے سے طاقت کا استعمال کرنے اور اپنے عہدے اور اختیار کے ناجائز استعمال کرتے ہوئے خاتون سے ریپ کرنے جیسے الزامات عائد کیے تھے۔
’اخلاقیات پر مقدمہ چلایا گیا‘
انڈیا میں شعبہ صحافت کی ایسی ممتاز شخصیت کے خلاف ان الزامات نے پوری دنیا میں شہرت پائی اور ذرائع ابلاغ میں شہ سرخیاں بنیں۔
تیجپال نے تہلکہ میگزین کا آغاز سنہ 2000 میں کیا تھا۔ اس سے قبل وہ ملک کے کئی نامور اخبارات اور میگزین میں کام کر چکے تھے۔ اپنے منفرد نام کی طرح تہلکہ نے اپنی تہلکہ خیز خبروں کی بدولت انڈیا کی صحافت میں اپنے لیے بہت کم وقت میں ایک مقام بنایا۔
یہ جریدہ بہت کم وقت میں اپنی تفتیشی خبروں اور خفیہ ویڈیوز کی ریکارڈنگ کی بنیاد پر، جن میں اہم انکشافات ہوتے تھے، تیزی سے مقبول ہوا تھا۔ بدعنوانی کے سکینڈل جب تہلکہ پر شائع ہونے شروع ہوئے تو عوام میں اس میگزین کی مقبولیت میں دن بدن اضافہ دیکھنے میں آیا۔
ترون تیجپال نے انگریزی میں تین ناول بھی لکھے ہیں۔ وہ ارون دھتی رائے اور نوبل انعام یافتہ برطانوی مصنف وی ایس نائپال ان کے قریبی دوستوں میں تھے۔
انھیں انڈیا کے بہترین صحافیوں میں شمار کیا جاتا ہے لیکن ریپ کے الزام میں ان کی گرفتاری کے بعد یہ جریدہ دوبارہ اپنا مقام بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکا اور اس کے بعد مسلسل زوال پذیر رہا۔
ترون تیجپال پر مبینہ ریپ کا الزام عائد کرنے والی خاتون نہ صرف ان کے ساتھ کام کرتی تھیں بلکہ وہ ترون کی بیٹی کی بہترین دوست بھی تھیں۔ عدالت میں اپنے بیان میں اس خاتون نے کہا تھا کہ ترون ان کے والد کی طرح تھے اور وہ ان پر بھروسہ کرتی تھیں۔
ترون تیجپال کی رہائی نے بہت سے لوگوں کا حیران کیا ہے۔ اس کیس کے بارے میں اُن کے بیان کئی مرتبہ بدلتے رہے ہیں۔
انھوں نے پہلے یہ کہا کہ یہ فعل ان دونوں کی باہمی رضا مندی سے ہوا اور بعد میں یہ بھی کہا کہ انھوں نے اس صورتحال کو غلط انداز میں پرکھا جو بعد میں اس بدقسمت واقعے کی وجہ بنا۔
ایک موقع پر انھوں نے کہا واضح ہچکچاہٹ کے باوجود انھوں نے خاتون ساتھ جنسی رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی تاہم بعد میں ترون تیجپال نے کہا کہ انھیں یہ بیان دینے پر مجبور کیا گیا تھا۔
عدالتی کاغذات میں انھوں نے اسے ’شراب کے نشے میں ہنسی مذاق‘ میں پیش آنے والا واقعہ بھی قرار دیا۔
تیجپال کو بری کرنے کے بعد جج نے اپنی توجہ مبینہ ریپ کا الزام عائد کرنے والی خاتون کی جانب مبذول کی۔
جج نے سوال کیا کہ انھوں (ریپ کا نشانہ بننے والی خاتون) نے مبینہ ریپ کے بارے میں اپنی روم میٹ کو بتانے کے بجائے اپنے ساتھ کام کرنے تین مرد کولیگز کو ہی اس بارے میں کیوں آگاہ کیا؟ خاتون اپنے دوستوں کی موجودگی میں روئیں کیوں نہیں اور انھوں نے کسی بھی طرح کے ’ناروا سلوک‘ کا مظاہرہ نہیں کیا؟
جج نے لکھا کہ ’یہ ناقابل یقین ہے کہ انھوں نے خود کو بچانے کے لیے جدوجہد کی لیکن انھیں کوئی چوٹ نہیں آئی۔‘
اس فیصلے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔ دلی کی ایک وکیل اپرنا بھٹ کہتی ہیں کہ تیج پال کا دفاع ’اپنا کیس اچھے طریقے سے پیش کرنے کا حقدار تھا‘ اور یہ جج کا کام تھا کہ وہ اس پر کنٹرول رکھتے۔
لیکن وہ کہتی ہیں کہ ’یہاں جج نے عورت پر الزم تراشی کی ہے۔ پورے فیصلے میں ہی متاثرہ فریق پر حملہ کیا گیا ہے۔‘
اپرنا بھٹ کہتی ہیں ’اس نوجوان عورت کے بارے میں مضحکہ خیز باتیں تیار کی گئیں کہ ان کا جسمانی رویہ ٹھیک نہیں تھا، وہ دوسروں کے ساتھ گپ شب کر رہی تھی، وہ اس سے پہلے بھی جنسی سرگرمیوں میں ملوث رہیں اور اسی طرح کی اور باتیں۔۔۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ اس پورے فیصلے میں ’مستقل طور پر ایک سلسلہ جاری تھا جس میں نوجوان عورت کو جنسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کی حیثیت سے دکھایا گیا۔‘
ایک اور وکیل پائل چاولہ نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ’خاتون کے کردار کا قتل نہیں بلکہ ان کے کردار کا قتل عام ہے۔‘
پائل چاولہ کہتی ہیں کہ ’ایسا لگتا ہے کہ شراب خانے میں پارٹی کرتی عورت اور ہاتھ میں مشروب اٹھائے ان کے ڈانس نے جج کو ناراض کیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس مقدمے میں ریپ کے بارے میں نہیں بلکہ نوجوان عورت کی اخلاقیات پر مقدمہ چلایا گیا ہے۔‘
’ہماری خواتین کا ردعمل ایسا نہیں ہوتا‘
ایسا پہلی بار نہیں ہوا جب کسی انڈین جج پر عورت کے خلاف متعصبانہ رویے پر مبنی فیصلہ دینے کا الزام عائد کیا گیا ہوا۔
گذشتہ برس کرناٹک میں ایک جج پر اس وقت شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا جب انھوں نے مبینہ طور پر ریپ کا شکار بننے والی خاتون کے رویے کو ’غیر سنجیدہ‘ قرار دیا تھا۔
جج نے اپنے بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس فعل کے ارتکاب کے بعد متاثرہ خاتون تھک گئیں اور سو گئیں جو کہ ایک انڈین خاتون کے لیے کافی غیر معمولی بات ہے۔ جج نے یہ بھی کہا تھا کہ ایسے واقعات کے بعد ہماری خواتین کا رویہ ایسا نہیں ہوتا۔
اس موقع پر اپرنا بھٹ نے انڈیا کے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے تین ججوں کو ایک خط میں پوچھا تھا کہ ’کیا ریپ کے شکار افراد کے لیے قانون میں کوئی ایسا پروٹوکول موجود ہے جو انھیں ریپ کے بعد اختیار کرنا چاہیے اور جس کے بارے میں ابھی تک انھیں معلوم نہیں۔‘
ایک معروف آرٹسٹ @PENPENCILDRAW نے اس فیصلے کے بعد ایک خاکہ تیار کیا تھا جس کا عنوان تھا ’ریپ سے متاثرہ افراد کے لیے ایک انڈین جج کی گائیڈ۔‘ یہ خاکہ وائرل ہو گیا تھا۔
اس طرح کے ایک اور کیس میں بھی گینگ ریپ کی متاثرہ خاتون کے شراب اور سگریٹ پینے اور اس کے کمرے سے کنڈوم ملنے پر سوال اٹھائے گئے تھے۔
انڈیا کی سپریم کورٹ کئی بار یہ کہہ چکی ہے کہ ایسے مقدمات میں خواتین کی جنسی تاریخ یا اس کا کردار غیر متعلقہ ہے اور بہت سے ایسے دوسرے مقدمات میں جج بار بار یہ وضاحت دے چکے ہیں کہ جج کا کام یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ریپ ہوا یا نہیں؟
وکیل پائل چاولہ کہتی ہیں کہ اس کے باوجود ججز کا متاثرہ افراد کے کردار پر بات کرنا پریشانی کا باعث ہے۔
’متاثرہ فرد کی نجی زندگی کی تفصیلات میں جانا اس طے شدہ طرز عمل کے خلاف ہے۔‘
اس نئے کیس میں فیصلہ پڑھ کر ایسا لگتا ہے کہ ہر طرف ان ہدایات پر عمل نہیں ہو رہا ہے۔ عدالت کے اس تفصیلی فیصلے میں جج جوشی نے ایک جگہ متاثرہ لڑکی کی والدہ کے طرز عمل پر بھی سوال اٹھایا ہے۔
جج نے لکھا ہے کہ ’انھوں نے اپنی صدمے کی شکار بیٹی کی مدد کرنے کے لیے اس کے پاس نہ جانے کا منصوبہ بھی تبدیل نہیں کیا۔‘