تہلکہ کے سابق مدیر ترون تیجپال ساڑھے سات برس بعد ریپ کے الزامات سے بری

    • مصنف, شکیل اختر
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی
  • وقت اشاعت

جمعے کو انڈیا کی ریاست گوا کی ایک عدالت نے تہلکہ جریدے کے سابق مدیر ترون تیجپال کو ریپ کے الزامات سے بری کر دیا ہے۔

تیجپال پر ان کے جریدے کی ایک خاتون صحافی نے، جن کا انڈین قوانین کے تحت نام نہیں ظاہر کیا جا سکتا ہے، الزام عائد کیا تھا کہ انھوں نے گوا میں سنہ 2013 میں ایک ادبی میلے کے دوران ایک ہوٹل کی لفٹ میں ان کے ساتھ ریپ کیا تھا۔

صحت جرم سے انکار کے بعد ٹرائل کا آغاز

ان الزامات کے بعد ترون تیج پال کو 18 نومبر 2013 کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ سات ماہ جیل میں قید رہنے کے بعد جب انھوں نے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تو انھیں ضمانت پر رہائی مل گئی تھی۔

اس مقدمے کا ٹرائل ہوا مگر اس دوران ان پر یہ الزامات ثابت نہ ہو سکے۔

یہ بھی پڑھیے

’بکھری زندگی کی بحالی کے لیے وقت درکار ہے‘

بریت کے فیصلے کے بعد جمعے کو ایک بیان میں تیجپال نے اپنے خاندان کے لیے رازداری کی درخواست کی ہے۔ ان کے مطابق اب ہم اپنی پہلے والی زندگی میں واپس آنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ترون تیجپال کی جانب سے ان کی بیٹی کارا تیجپال نے ایک بیان پڑھتے ہوئے کہا کہ ’گذشتہ ساڑھے سات برس ہماری فیملی کے لیے ایک تباہ کن اور صبر آزما مرحلہ رہا ہے۔

اس جھوٹے الزام کے سبب میری ذاتی، پیشہ وارانہ اورعوامی زندگی کا ہر پہلو بُری طرح متاثر ہوا۔ میں غیر جانبدار، گہری اور ایماندارانہ سماعت کے لیے عدالت کی شکرگزار ہوں۔‘

باعزت بریت مگر تیجپال پر کیا الزامات عائد کیے گئے تھے؟

نومبر 2013 کے اوائل میں تہلکہ میگزین کے زیر اہتمام گوا میں ایک لٹریری فیسٹیول کا اہتمام کیا گیا تھا۔ تہلکہ کی ایک نوعمر صحافی نے الزام عائد کیا تھا کہ اس پروگرام کے دوران 7 نومبر کو تیج پال نے ہوٹل کی لفٹ میں ان کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی تھی۔

اس الزام اور گرفتاری کے بعد ترون تیج پال تہلکہ میگزین کے مدیراعلیٰ کے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔ وہ اس جریدے کے بانی تھے۔

گوا پولیس نے اس مقدمے کی تفتیش کے بعد معروف صحافی کے خلاف جو فرد جرم دائر کی تھی وہ تین ہزار صفحات پر مشتمل تھی۔ پولیس نے ان کے خلاف خاتون پر جبر کرنے، زبردستی روکنے، برہنہ کرنے کے ارادے سے طاقت کا استعمال کرنے اور اپنے عہدے اور اختیار کے ناجائز استعمال کرتے ہوئے خاتون سے ریپ کرنے جیسے الزامات عائد کیے تھے۔

تیجپال نے عدالت میں صحت جرم سے انکار کیا تو ان کا ٹرائل شروع ہو گیا۔ ان کے خلاف استغاثہ نے 156 گواہان کی فہرست فراہم کی تاہم ان میں سے صرف 70 پر ہی جرح ہو سکی۔

واضح رہے کہ یہ ٹرائل ان کیمرہ تھا یعنی ایک ایسا ٹرائل جس کی میڈیا کوریج کی اجازت نہیں تھی۔

گوا کی ایڈیشنل سیشن جج چھما جوشی نے اس معاملے کی سماعت کے بعد ترون تیجپال کو ان تمام الزامات سے با عزت بری کر دیا ہے۔ خیال رہے کہ اس مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد گذشتہ ہفتے ترون کے وکیل راجیو گومز کورونا سے ہلاک ہو گئے تھے۔ بریت کے بعد تیجپال نے اپنے وکیل کی خدمات کو سراہتے ہوئے انھیں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

تہلکہ نے کب تہلکہ مچانا شروع کیا؟

تیج پال نے تہلکہ کا آغاز سنہ 2000 میں کیا تھا۔ اس سے قبل وہ ملک کے کئی نامور اخبارات اور میگزین میں کام کر چکے تھے۔ اپنے منفرد نام کی طرح تہلکہ نے اپنی تہلکہ خیز خبروں کی بدولت انڈیا کی صحافت میں اپنے لیے بہت کم وقت میں ایک مقام بنایا۔

یہ جریدہ بہت کم وقت میں اپنی تفتیشی خبروں اور خفیہ ویڈیوز ریکارڈنگ کی بنیاد پر جن میں اہم انکشافات ہوتے تھے تیزی سے مقبول ہوا تھا۔ بدعنوانی کے سکینڈل جب تہلکہ پر شائع ہونے شروع ہوئے تو عوام میں اس میگزین کی مقبولیت میں دن بدن اضافہ دیکھنے میں آیا۔

تہلکہ نے ہتھیاروں کی ڈیل کی خبر دی جس میں فوج کے افسران سمیت اس وقت کے بی جے پی سے تعلق رکھنے والے صدر کے خلاف بھی رشوت لینے سے متعلق ویڈیوز شائع کیں۔ ایسی تہلکہ خیز خبروں کی وجہ سے ترن تیج پال دنیا بھر میں مقبول ہو گئے۔

انھوں نے اپنے اوپر ریپ کے مقدمات کو حکمران جماعت بے جے پی کی ان سے ذاتی خلش سے جوڑا ہے۔ خیال رہے کہ ان پر ریپ کے الزامات عائد ہونے کے بعد بے جے پی کے نوجوانوں کے ونگ نے ان کے خلاف مظاہرے بھی کیے تھے، جن میں پولیس سے ان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا جاتا تھا۔

ترون تیج پال نے انگریزی میں تین ناول بھی لکھے ہیں۔

ارون دھتی رائے اور نوبل انعام یافتہ برطانوی مصنف وی ایس نائپال ان کے قریبی دوستوں میں تھے۔ انھیں بہترین صحافیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ لیکن ریپ کے الزام میں ان کی گرفتاری کے بعد یہ جریدہ دوبارہ اپنا مقام بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکا اور اس کے بعد مسلسل زوال پذیر رہا۔