دہلی پولیس والے کی تصویر کے پیچھے کی پوری کہانی، ’اگر خاکی پہنی ہے تو ڈیوٹی ہی ہمارے لیے سب کچھ ہے‘

کلدیپ سنگھ

،تصویر کا ذریعہANI

،تصویر کا کیپشنکلدیپ سنگھ بزرگ خاتون کو گود میں اٹھبا کر ویکسینیشن کے لیے لے جاتے ہوئے
وقت اشاعت

'وردی پہنے ہوئے شخص کو دیکھ کر لوگ خود اپنے اپنے اندازے لگا لیتے ہیں لیکن وردی کے اندر بھی تو ایک انسان ہی ہوتا ہے۔ جو کسی دوسرے بیٹے کی طرح ہی سوچتا ہے۔ آنٹی کو دیکھ کر یہی سوچا کہ انھیں پیدل کیسے جانے دوں اگر ان کی جگہ میری ماں یا دادی ہوتیں تو کیا میں انھیں ایسے جانے دیتا۔‘

کورونا کے اس دور میں بزرگوں کو گھر سے بے گھر کرنے کی بہت سی کہانیاں منظر عام پر آئیں۔

ایسی صورتحال میں دہلی پولیس کے کانسٹیبل کلدیپ سنگھ کے یہ الفاظ امید کی ایک کرن کی مانند ہیں کہ دنیا میں اب بھی اچھائی باقی ہے۔

ہو سکتا کہ سوشل میڈیا پر آپ نے وہ تصویر دیکھی ہو جس میں دہلی پولیس کا ایک نوجوان بزرگ خاتون کو گود میں اٹھا کر ویکسینیشن سینٹر لے جایا جارہا ہے۔ اس شخص کا نام کلدیپ سنگھ ہے۔

کلدیپ سنگھ دراصل راجستھان کے ہنومان گڑھ کے رہنے والے ہیں اور دہلی پولیس میں ایک کانسٹیبل ہیں۔

ان کی پوسٹنگ شمالی دہلی کے کشمیری گیٹ پولیس سٹیشن میں ہے۔ وہ جو بیٹ دیکھتے ہیں اس کے تحت بزرگ شہری بھی آتے ہیں۔ ہم نے اس وائرل تصویر کی کہانی جاننے کے لیے کلدیپ سنگھ سے بات کی۔

کلدیپ سنگھ

،تصویر کا ذریعہANI

،تصویر کا کیپشنکلدیپ سنگھ شیلا ڈیسوزا کے ساتھ

اپنے علاقے کے بزرگوں سے ملاقاتیں کرتے رہنا، انکا حال چال پوچھنا اور ضرورت پڑنے پر انکی مدد کرنا کلدیپ سنگھ کی ڈیوٹی میں شامل ہے۔

خاص طور پر ان لوگوں سے رابطے میں رہنا جو بوڑھے ہیں اور تنہا رہتے ہیں۔

جس بزرگ خاتون کو گود میں اٹھا کر کلدیپ ویکسین لینے کے لیے لے گئے تھے وہ 82 سالہ ریٹائرڈ ٹیچر شیلا ڈیسوزا ہیں جو اپنے گھر میں ایک خادمہ کے ساتھ رہتی ہیں۔ کلدیپ اکثر ان سے ملنے جاتے تھے۔ کبھی دوائیں دینے کے لیے تو کبھی انکا حال چال جاننے کے لیے۔

کلدیپ سنگھ

،تصویر کا ذریعہANI

،تصویر کا کیپشنکلدیپ کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھیں

کچھ دن پہلے جب کلدیپ شیلا ڈیسوزا کے گھر گئے تو ان کے ہاتھ میں بہت درد تھا۔

'ڈر تھا کہ آنٹی کو کہیں کورونا نہ ہو جائے'

کلدیپ کا کہنا تھا کہ ’اس دن میں نے کووڈ کا دوسرا انجیکشن لیا تھا تو میرے ہاتھ میں درد تھا۔ لیکن میں نے سوچا کہ میں انھیں دیکھ آتا ہوں اور حال چال پوچھ آتا ہوں۔ جب میں ان کے گھر گیا تو میں ایک طرف بیٹھ گیا اور اپنا ہاتھ سہلانے لگا تو انھوں نے پوچھا کیا ہوا ہے۔ میں نے کہا کہ ویکسین لی تو کچھ تکلیف ہو رہی تھی اس پر آنٹی نے کہا کہ میں بھی ویکسین لگوانا چاہتی ہوں لیکن یہ کیسے ہوگا؟

کلدیپ کا کہنا ہے کہ میں نے ان سے کہا تھا کہ اگر آپ ویکسین لگوانا چاہتی ہیں تو ضرور لگ سکتی ہے۔

اس کے بعد کلدیپ نے اپنے عہدیداروں سے بات کی جس کے بعد ہسپتال میں ویکسین کے لیے بات کی گئی۔

دلی

،تصویر کا ذریعہANI

،تصویر کا کیپشنکلدیپ کا کہنا تھا کہ لوگ پولیس کو سختی کرنے پر مجبور کرتے ہیں

کلدیپ بتاتے ہیں ’جب میں ٹیکہ لگوانے کے لیے انھیں لینے گیا تو جیسے ہی وہ بستر سے اٹھیں مجھے احساس ہوا کہ ان کے لیے چلنا بھی مشکل ہے۔ میرے ذہن میں میری ماں اور دادی آئیں۔ میں نے ان سے کہا کہ آنٹی رہنے دو۔ تب میں نے انھیں اپنی گود میں اٹھایا اور سیڑھیوں سے نیچے آگیا۔‘

کلدیپ کا کہنا ہے کہ انھیں صرف اس بات کی فکر تھی کہ کہیں انکی وجہ سےآنٹی کو کورونا نہ ہو جائے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ ویسے تو ہم ہر طرح کی احتیاط کرتے ہیں۔ لیکن ہم ڈیوٹی بھی تو کرتے ہیں اس لیے میں آنٹی کے لیے پریشان تھا اس لیے میں نے انھیں پی پی ای کٹ پہنا دیا تاکہ وہ محفوظ رہیں۔‘

دو سال بعد باہر کی دنیا دیکھی

کلدیپ کا کہنا ہے کہ جب وہ انھیں واپس اپنی گود میں چھوڑنے آئے تو وہ بہت خوش تھیں۔

کلدیپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے زیادہ کچھ نہیں کہا صرف اتنا ہی کہا کہ ’آپ جس طرح سے مجھے اٹھا کر لے گئے مجھے محفوظ محسوس ہو رہا تھا۔‘ ویکسین کے بہانے میں نے تقریباً دو سال کے بعد آپ کی وجہ سے باہر کی دنیا کو دیکھا ہے۔‘

کلدیپ دہلی شہر میں تنہا رہتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ شاید یہی وجہ ہے کہ اب انکی ڈیوٹی سے وابستہ لوگ بھی انھیں اپنے کنبے کی طرح لگتے ہیں۔

کلدیپ کا کہنا ہے کہ جب سے میڈیا میں ان کی تصویر شائع ہوئی ہے تب سے ان کا فون بجے جا رہا ہے۔

وہ کہتے ہیں ’مجھے خود یہ علم نہیں تھا کہ انسانیت کے ایک چھوٹے سے کام سے مجھے اتنا نام ملے گا۔ صبح سے ہی میرے گھر فون آ رہے ہیں۔ گاؤں میں ایسا کوئی نہیں ہے جس کے پاس اینڈروئیڈ فون نہ ہو اور اس نے یہ تصویر نہ دیکھی ہو۔ گاؤں کے لوگ یہ دیکھ دیکھ کر فون کر رہے ہیں۔ گھر والے تو خوشی سے بات بھی نہیں کر پا رہے۔‘

دہلی پولیس: دو چہرے، دو رخ

ایک طرف ایک بزرگ کو گود میں اٹھائے کلدیپ کی تصویر ہے اور دوسری طرف ایسی بہت سی تصاویر ہیں جن میں دہلی پولیس کا مختلف رنگ نظر آتا ہے۔ اس پر آپ کیا کہیں گے؟

اس سوال کے جواب میں کلدیپ کا کہنا تھا لوگ احتیاط کریں گھر پر رہیں تو ایسا کیوں ہوگا۔ یہ سب عوام کی صحت اور حفاظت کے لیے ہے۔ روزانہ یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ محفوظ رہیں گھر پر رہیں لیکن کچھ لوگ ایسے ہیں جو نہیں سنتے، اسی وجہ سے پولیس کو سختی سے کام لینا پڑتا ہے۔

کلدیپ کا کہنا ہے ’پولیس کے بارے میں ہر ایک کی اپنی اپنی رائے ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود جب پولیس عوامی مفاد کے لیے کام کرتی ہے تو بھی لوگ بُرا بولتے ہیں۔ اس وقت تکلیف ہوتی ہے۔ لیکن اگر خاکی پہنی ہے تو ڈیوٹی ہی ہمارے لیے سب کچھ ہے۔‘