ایرانی رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی ویب سائٹ پر گولف کھیلتے ٹرمپ اور قاسم سلیمانی کی موت کے بدلے کا عزم

،تصویر کا ذریعہTwitter
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے گذشتہ سال اپنے اعلی فوجی کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لئے ظاہری طور پر آن لائن ڈونلڈ ٹرمپ پر حملے کی دھمکی دی ہے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کی سرکاری ویب سائٹ پر ایک تصویر میں سابق امریکی صدر کو جنگی طیارے یا بڑے ڈرون کے سائے میں گولف کھیلتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
ویب سائٹ پر موجود اس تصویر کے عنوان میں لکھا ہے ’انتقام یقینی ہے۔‘
ٹوئٹر نے ایک چھوٹا سا اکاؤنٹ معطل کردیا ہے جس نے سب سے پہلے اس تصویر کو ٹویٹ کیا۔
ایک خاتون ترجمان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ @khamenei_site اکاؤنٹ جعلی ہے، جس نے ٹوئٹر کی پالیسی کی خلاف ورزی کی ہے۔
تاہم اس ٹویٹ کو آیت اللہ خامنہ ای کے تین لاکھ فالوورز والے فارسی ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ری ٹویٹ کیا گیا جس کے بعد یہ ٹویٹ اس اکاؤنٹ سے بھی غائب ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
فارسی میں لکھی گئی اس ٹویٹ میں لفظ ’انتقام‘ کو سرخ رنگ میں لکھا گیا تھا جبکہ باقی پوسٹ میں لکھا تھا: ’سلیمانی کا قاتل اور جس نے اس کا حکم دیا اس کو خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔‘
آیت اللہ خامنہ ای کی سرکاری ویب سائٹ پر یہ تصویر نمایاں طور پر پوسٹ کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ موجود متن میں اس تبصرے کا حوالہ دیا گیا ہے جو انھوں نے 16 دسمبر کو دیا تھا، جس میں انھوں نے کسی بھی وقت ’انتقام کا عہد‘ کیا تھا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
یاد رہے کہ ٹوئٹر نے اس ماہ کے شروع میں آیت اللہ کی جانب سے ایک ٹویٹ پر پابندی عائد کی تھی جس میں برطانیہ اور امریکہ میں تیار کی گئی کورونا وائرس کی ویکسین کو ’ناقابل اعتماد‘ قرار دیا گیا تھا۔
ٹوئٹر پر ردعمل دیتے ہوئے ایک صارف نے لکھا: ’یہ غیر مہذب نفیساتی مریض کس طرح ایک سابق امریکی صدر کو کھلے عام قتل کی دھمکی دے سکتا ہے اور انھیں ٹوئٹر سے نکالا نہیں جاتا۔‘
ایک اور صارف نے لکھا: ’ٹرمپ پر تو پابندی ہے لیکن یہ بالکل ٹھیک ہے۔ کیا یہ کوئی مذاق ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
واضح رہے کہ ایک برس قبل ایران کے اعلیٰ کمانڈر قاسم سلیمانی بغداد میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔
سابق امریکی صدر ٹرمپ نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے وقت کہا تھا کہ ’وہ لاکھوں لوگوں کی اموات کے لئے براہ راست اور بالواسطہ ذمہ دار تھے۔‘
قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد انتقامی کارروائی میں ایران نے عراق میں کم از کم دو امریکی فضائی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا تھا۔ اس وقت آیت اللہ خامنہ ای نے کہا تھا کہ ’سخت انتقام مجرموں کا منتظر ہے۔‘


























