گوبر اٹھانے اور دودھ پہنچانے والی سونل شرما جج کے امتحان میں کامیاب

،تصویر کا ذریعہMOhar Singh Meena
- مصنف, موہر سنگھ مینا
- عہدہ, جے پور سے بی بی سی نیوز کے لیے
- وقت اشاعت
’میں نے اپنے والد کو لوگوں سے ڈانٹ کھاتے سنا ہے۔ گلیوں میں کچرا اٹھاتے دیکھا ہے۔ ہم بھائی بہنوں کو اچھی تعلیم دلانے کے لیے انھیں ہر جگہ ذلیل ہوتے دیکھا ہے۔ سکول میں یہ بتانے میں شرم محسوس ہوتی تھی کہ میرے والد دودھ بیچتے ہیں، لیکن آج مجھے فخر ہو رہا ہے کہ میں اس خاندان کی بیٹی ہوں۔‘
یہ محض الفاظ نہیں ہیں بلکہ ایک بیٹی کی درد سے فخر محسوس کرنے تک کی داستان ہے۔
26 سالہ سونل شرما کا تعلق انڈین ریاست راجستھان کے شہر اودے پور سے ہے۔ چوتھی جماعت سے لے کر ابھی تک ان کے دن کا آغاز گائے بھینسوں کا گوبر اٹھانے کے ساتھ ہوتا ہے۔ لیکن بہت جلد وہ لوگوں کو انصاف دلانے کے سفر کا آغاز کرنے جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سونل شرما کا راجستھان کی جوڈیشیل سروسز کے مقابلے کے امتحان میں 2018 میں انتخاب ہوا ہے۔ مقابلے کے امتحان کے نتائج تو گذشتہ برس ہی آ گئے تھے، لیکن وہ ایک نمبر سے چوک گئی تھیں اور ان کا نام ویٹنگ لسٹ میں آ گیا تھا۔
اب اسی ویٹنگ لسٹ سے ان کا نام کامیاب امیدواروں کی فہرست میں پہنچ گیا ہے۔ 29 دسمبر 2020 کو ان کی دستاویزات کی تصدیق ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہMOhar singh Meena
ہمت نہیں ہاری
راجستھان کی جوڈیشیل سروسز کے مقابلے کے امتحان میں 2017 میں سونل نے پہلی بار حصہ لیا تھا۔ اس بار وہ محض تین نمبر سے پیچھے رہ گئی تھیں۔ لیکن انھوں نے حوصلہ نہیں ہارا۔
2018 میں انھوں نے دوبارہ کوشش کی۔ اس بار بھی وہ حتمی فہرست میں شامل نہیں ہو سکیں اور محض ایک نمبر سے باہر ہو گئیں۔ لیکن ان کا نام ویٹنگ لسٹ میں آ گیا۔ اس کا ملال انھیں کئی ماہ تک رہا۔
لیکن کہتے ہیں کہ جب حوصلے بلند اور ارادے نیک ہوں تو منزلوں تک پہنچنا ناممکن نہیں ہوتا۔ کچھ ایسا ہی سونل کے ساتھ بھی ہوا۔
گذشتہ ماہ نومبر 2020 میں یعنی ٹھیک ایک برس بعد انھیں پتا چلا کہ ان کا نام ویٹنگ لسٹ سے حتمی فہرست میں شامل ہو گیا ہے۔
سونل نے دستاویزات کی بنیادی تصدیق کروا لی ہے۔ پولیس تصدیق، میڈیکل جانچ اور ایک برس کی تربیت کے بعد وہ بحیثیت جج اپنی خدمات پیش کریں گی۔

،تصویر کا ذریعہMOhar singh Meena
جب والد کو ڈانٹ کھاتے دیکھتی تھی
انھوں نے بتایا ’ان دنوں میں چوتھی جماعت میں تھی۔ سبھی بچوں کی طرح مجھے بھی اپنے والد کے ساتھ گھومنے جانے کا شوق تھا۔ وہ گھر گھر دودھ پہنچانے جاتے تھے، میں بھی ان کے ساتھ جایا کرتی تھی۔‘
انھوں نے کہا ’اکثر لوگ پاپا کو کسی نہ کسی بات پر ڈانٹ دیا کرتے تھے، انھیں ذلیل کرتے تھے، لیکن وہ پھر بھی مسکرا کر جواب دیتے تھے۔‘
انھوں نے بتایا کہ ایک روز اپنے والد کے ساتھ دودھ بیچنے کے بعد گھر لوٹ کر انھوں نے اپنی والدہ سے کہا ’میں اب پاپا کے ساتھ نہیں جاوٴں گی کیوں کہ مجھے شرم آتی ہے۔‘
سونل نے بتایا کہ شرم کی وجہ یہ تھی کہ ان کے سامنے بغیر کسی قصور کے ان کے والد کو لوگوں سے برا بھلا سننا پڑتا تھا۔
لیکن آج ان کی تمام کاوشیں رنگ لائی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے والد کا مشکلوں میں بھی مسکرانے کا جذبہ انھیں بھی حوصلہ دیتا رہا۔
ہمیشہ تعلیم میں اول رہیں
سونل نے سکول اور کالج کی تعلیم اودے پور میں حاصل کی۔ وکالت کی تعلیم حاصل کرنے کے دوران سائیکل پر گھروں تک انھوں نے دودھ بھی پہنچایا اور کالج بھی گئیں۔
وہ دسویں اور بارہویں جماعتوں میں ٹاپر رہیں اور بی اے ایل ایل بی میں گولڈ میڈل حاصل کیا۔

،تصویر کا ذریعہMOhar Singh Meena
ایل ایل ایم میں بھی وہ یونیورسٹی ٹاپر رہیں۔
عام طور پر والدین کا خواب ہوتا ہے کہ ان کے بچے ان سے بہتر مقام حاصل کریں۔ یہی خواہش سونل کے والد خیالی لال شرما کی بھی ہے۔
ان کے پاس پانچ بچوں کی پرورش کے لیے جانور پالنے کا ہی راستہ تھا۔ اسی کے سہارے انھوں نے اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلائی۔
سونل کی کالج کی فیس کے لیے کئی بار ان کے والد کے پاس پیسے نہیں ہوتے تھے۔ وہ بتاتی ہیں کہ ’پاپا نے دو بار تو میری ہی سہیلی کے والد سے پیسے ادھار لے کر میری کالج فیس بھری۔‘
خیالی شرما نے بتایا کہ وہ 1980 میں سات پیسے کے حساب سے مہارانا پرتاپ ایگریکلچرل یونیورسٹی میں گوبر بیچا کرتے تھے۔ وہاں گوبر کو شمسی توانائی کے سینٹر میں استعمال کیا جاتا تھا۔‘
سونل کی والدہ گوبر کے کنڈے بنا کر ان کا ہاتھ بٹایا کرتی تھیں۔
سونل کے والد کہتے ہیں ’جو تکالیف اور پریشانیاں میں نے اٹھائی ہیں، وہ میرے بچوں کو نہ اٹھانی پڑیں۔‘

،تصویر کا ذریعہMOhar singh Meena
سورج نکلنے سے پہلے جاگنا
صبح اٹھتے ہی بیشتر لوگ چائے پینا پسند کرتے ہیں۔ اس چائے کے لیے دودھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ سونل اور ان کے والد لوگوں کے گھر یہ دودھ پہنچانے کے لیے سورج نکلنے سے پہلے ہی گھر سے نکل جایا کرتے تھے۔
سونل نے بتایا ’ہمیشہ کی طرح آج بھی ہمیں صبح چار بجے اٹھنا ہوتا ہے۔ پاپا گائے اوربھینس کا دودھ نکالتے ہیں اور ہم دودھ کو گھروں تک پہنچاتے ہیں۔‘
انھوں نے کہا کہ گوبر اٹھانے، جانوروں کے اردگرد صفائی رکھنے اور انھیں چارا کھلانے جیسے کام گھر والوں نے آپس میں بانٹے ہوئے ہیں۔
صبح آٹھ بجے تک ان تمام کاموں سے فارغ ہونے کے بعد وہ پڑھائی کرتی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہMOhar Singh Meena
شام ہوتے ہی اپنے والد کے ساتھ وہ دوبارہ جانوروں کو چارہ کھلانے، گوبر اٹھانے اور دودھ نکالنے جیسے کاموں میں مصروف ہو جاتی ہیں۔
انھوں نے بتایا کہ یہی ان کی روز مرّہ کی زندگی ہے۔
سونل نے بتایا کہ ماضی میں تو یہ ممکن نہیں تھا لیکن اب وہ اپنے والد کی مدد کے لیے چند افراد کو نوکری پر ضرور لانا چاہیں گی۔
جج بننے کی راہ پر آگے بڑھتی بیٹی کے والد خیالی لال شرما ان سے کہتے ہیں ’بیٹی کبھی دباوٴ میں آکر کوئی فیصلہ نا کرنا۔ سب کے ساتھ انصاف کرنا، چاہے سامنے کوئی بھی ہو۔‘





















