آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
کیا پاکستان کے اراکین پارلیمنٹ ’مودی‘ کے نعرے لگا رہے تھے؟
- مصنف, شروتی مینن
- عہدہ, بی بی سی رئیلٹی چیک نیو دہلی
- وقت اشاعت
بعض انڈین چینلز نے یہ خبر نشر کی کہ پڑوسی ملک پاکستان میں پارلیمنٹ کی کارروائی کے دوران جب فرانس میں حالیہ عرصے میں ایک استاد کے قتل کے معاملے پر گرما گرم بحث کے دوران انڈین وزیر اعظم نریندرا مودی کے نام کے نعرے بھی بلند ہوئے۔
لیکن کیا پاکستانی اراکین پارلیمنٹ نے انڈین وزیر اعظم کے نام کے نعرے لگائے۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستان کی پارلیمنٹ میں ہوا کیا؟
پیر کو پاکستان میں حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے دیگر رہنماؤں کے ساتھ مل کر یہ قرار داد پیش کی جس میں انھوں نے فرانس میں پیغمبر اسلام کے خاکوں کی اشاعت کی مذمت میں ووٹ کے لیے تقاریر کیں۔
خیال رہے کہ خاکے شائع ہونے کے بعد پیرس میں اس ماہ کے آغاز میں ایک استاد کو قتل کر دیا گیا تھا۔
اس واقعے کے بعد فرانس کے صدر ایمینوئیل میکخواں کے بیان پر اسلامی دنیا میں بھی کچھ حلقوں میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ فرانس کے صدر کے اس بیان کی پاکستانی وزیر اعظم نے بھی مذمت کی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس متنازعہ بیان پر پاکستان کی حکومت اور حزب اختلاف نے اپنی اپنی قرار داد پاس کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
اس بحث کے دوران ایک موقع پر جب پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پارلیمنٹ سے اپنے خطاب کا آغاز ہی کیا تو حزب اختلاف کے ارکان نے نعرے لگائے ووٹنگ ووٹنگ۔۔ وہ اپنی پیش کردہ قرارداد پر ووٹنگ کے متمنی تھے اور حکومت کی طرف سے پیش کردہ قرار داد پر ووٹنگ کے حق میں نہیں تھے۔
اس دو منٹ کے مختصر دورانیے میں پیش آنے والے واقعات کو انڈین میڈیا، ڈیجیٹل سائٹس اور سوشل میڈیا پر سیاق و سباق سے ہٹ کر نشر کیا گیا۔
ٹائمز ناؤ، انڈیا ٹی وی، اکنامک ٹائمز اور سوشل میڈیا پر صارفین نے گمراہ کن دعوے کیے کہ پاکستان کی حزب اختلاف کی جماعتیں ووٹنگ نہیں بلکہ پاکستانی وزیر اعظم کو شرمندہ کرنے کے لیے مودی کے نعرے بازی کر رہی تھیں۔
اکنامک ٹائمز نے اب اپنی رپورٹ ہٹا دی ہے اور ٹائمز ناؤ نے اپنی ٹویٹ ہی ڈیلیٹ کر دی ہے تاہم اس اخبار کا آرٹیکل ابھی بھی انٹرنیٹ پر موجود ہے جس میں پاکستان کی پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث کا کلپ بھی شئیر کیا گیا ہے۔
کیا پاکستانی پارلیمنٹ میں مودی کا نام لیا گیا؟
اس سوال کا جواب ہاں میں ہے مگر یہ نام کسی اور وقت اور مختلف پس منظر میں لیا گیا۔
انڈین وزیر اعظم کا نام اس وقت لیا گیا جب پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے الزام عائد کیا کہ اپوزیشن انڈین بیانیے کو آگے بڑھا رہی ہے۔
گرما گرم بحث کے دوران شاہ محمود قریشی نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن افواج پاکستان میں پھوٹ ڈالنا چاہتی ہے جو کہ ان کا پاکستان مخالف بیانیہ ہے۔
حکومت کے حمایتیوں کو اردو میں یہ کہتے ہوئے صاف سنا جا سکتا ہے کہ وہ اردو میں نعرے لگا رہے کہ مودی کا جو یار ہے، غدار ہے، غدار ہے۔
انڈین میڈیا نے اس واقعے کو اس کے اصل سیاق و سباق سے مکمل طور پر ہٹ کر پیش کیا۔ انڈیا میں پاکستان میں ہونے والے بہت سے اور واقعات کو بھی غلط طور پر پیش کیا جاتا ہے۔
حالیہ دنوں میں انڈیا میڈیا پر یہ خبر بھی نشر ہوئی کہ پاکستان کے شہر کراچی میں خانہ جنگی شروع ہو گئی ہے جو کہ حقائق سے منافی تھی۔