انڈیا کا زیر انتظام کشمیر: سرینگر میں منگل کی رات لوگوں نے ’دھماکے‘ کی آواز سنی اور جھٹکے محسوس کیے جس کے بعد سوشل میڈیا پر ایک بحث چھڑ گئی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@RahilRehman9
کسی علاقے میں اگر زلزلہ آیا ہو تو اکثر اوقات بات بہت واضح ہو جاتی ہے اور ادارے بتا دیتے ہیں کہ ہاں زلزلہ آیا تھا اور یہ کہ ریکٹر سکیل پر اس کی شدت کیا تھی۔ لیکن کشمیر کے معاملے میں شاید بات اتنی سیدھی نہیں ہوتی۔
ہوا یوں کہ منگل کی رات انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے دارالحکومت سرینگر میں کچھ ایسا ہوا کہ لوگ تذبذب میں پڑ گئے۔ مقامی افراد کے مطابق بظاہر ایک بہت ’زور کا دھماکہ‘ ہوا اور ساتھ ہی عمارتیں، زمین ہلنے لگی۔
انڈیا کی زلزلوں سے متعلق سرکاری ویب سائٹ کے مطابق یہ زلزلہ تھا جس کی شدت ریکٹر سکیل پر 3 عشاریہ 6 تھی۔
اس واقعے کے بعد کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی کوئی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔
اس واقعے کے کچھ دیر بعد سرینگر کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ شاہد چوہدری نے اپنی ٹویٹ میں اسے زلزلہ ہی بتایا۔ انھوں نے earthquake# کے ساتھ اپنی ٹویٹ میں لکھا، ’یہ بہت ہی خوف ناک تھا۔ امید ہے سب محفوظ ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیے


،تصویر کا ذریعہTwitter/@listenshahid
اس دوران کچھ مقامی نیوز ویب سائٹس نے زلزلوں کے ماہر بکرم سنگھ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعی ایک زلزلہ تھا۔ رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ اس زلزلے کی شدت ریکٹر سکیل پر تین اعشاریہ چھ تھی تاہم اس کے مرکز کا ابھی پتہ نہیں چلا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واقعے کے فوراً بعد ٹوئٹر پر کشمیریوں نے اپنے تجربات بیان کرنا شروع کیے اور یہ شکایت کہ انھیں متعلقہ حکام کی جانب سے اس بارے میں معلومات نہیں دی گئیں۔ لوگوں میں اس صورتحال سے متعلق بے یقینی اس لیے بھی تھی کیوں کہ کئی شہریوں کا کہنا تھا کہ انھوں نے جھٹکے محسوس کرنے سے پہلے ’ایک زور دار دھماکہ‘ سنا تھا۔
ٹوئٹر صارف شازیہ بخشی نے لکھا ’یہ زلزلہ نہیں تھا! یہ کیا تھا؟ سب کچھ بری طرح ہل رہا تھا، لیکن ایسے جیسے بہت بڑا دھماکہ ہو۔ امید ہے کہ سب محفوظ ہیں۔ سب کے لیے دعائیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Shazia
سہیل بھٹ نے لکھا ’مجھے سمجھ نہیں آ رہی، یہ زلزلہ تھا یا دھماکہ۔ میں نے اس طرح کا زلزلہ کبھی محسوس نہیں کیا۔ صرف تین سیکنڈ کا تھا مگر شدید، آپ کو کیا لگتا ہے؟‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@SohailBHAT15
صحافی طارق میر نے لکھا ’مجھے نہیں لگتا کہ یہ زلزلہ تھا کیونکہ میں نے پہلے واضح طور پر ایک دھماکے کی آواز سنی، اور اس کے بعد اس کی شدت سے سب لرز اٹھا۔ بہت عجیب بات ہو گی اگر زلزلے سے پہلے ایک دھماکہ ہوا ہو۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@tariqmir
ٹوئٹر صارف شہریار خانم نے لکھا ’آج کشمیر میں ہمیں نیند کیسے آئے گی؟ ہمیشہ کی طرح ہمیں کچھ نہیں معلوم۔ پھر سے جھٹکے محسوس ہوئے، لیکن زلزلے جیسے نہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@shehryar_khanum
انڈین صحافی حبہ بیگ نے اپنی ٹویٹ میں لکھا ’کب تک لوگوں کو اندھیرے میں رکھیں گے۔ اگر لوگ غلط بھی سوچ رہے ہیں، خوف کے شکار ہیں، تو تصور کریں کہ ان کی ذہنی حالت کیا ہوگی۔ ہم ساری عمر بھی سوچتے رہیں تب بھی یہ سمجھ نہیں پائیں گے کہ کشمیریوں کی زندگی کتنی مشکل ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@HibaBeg
مگر پھر کشمیریوں نے وہی کیا جو وہ ہمیشہ کرتے ہیں، مشکل میں بھی ہنسی مذاق۔
کچھ کو وِنگ کمانڈر ابھینندن یاد آ گئے۔
گریٹر کشمیر کے نام سے ایک مزاحیہ اکاؤنٹ نے لکھا، ’وِنگ کمانڈر ابھینندن سے جب پوچھا گیا کہ کیا ان کے طیارے سے دوبارہ گرنے کی وجہ سے کل رات سرینگر میں زلزلے جیسی صورت حال پیدا ہوئی تھی، تو انھوں نے کہا، ’میں آپ کو یہ نہیں بتا سکتا۔‘
انڈیا اور چین کے درمیان جاری سرحدی کشیدگی کے تناظر میں بعض افراد کو چین کا خیال آیا۔
نعمان محمد قادری نے لکھا ’یہ جھٹکا کیا تھا۔۔ زلزلہ یا پھر چین کی کشمیر میں آمد؟‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@numaan_qadri
اور کچھ نے اس کا ذمہ دار خلائی مخلوق کی خلائی گاڑی، ریتک روشن اور جادو کو ٹھہرایا۔
’جادو‘ نامی خلائی مخلوق کا کردار ریتک روشن کی فلم ’کوئی مل گیا‘ میں تھا۔
ٹوئٹر صارف راحیل رحمٰن نے لکھا، "تازہ ترین: جادو کو گھنٹا گھر کے پاس دیکھا گیا!‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@RahilRehman9
کئی صارفین کے ذہن میں بھی وہی بات آئی جو ٹوئٹر صارف شوکت لون کے ذہن میں آئی، ’کشمیر میں زلزلہ بھی معمہ بن جاتا ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@koshur1988





























