نیلم کرشنومورتی کی کہانی: فلم کا وہ ٹکٹ جس نے ایک خاندان کو تباہ کر دیا

،تصویر کا ذریعہMANSI THAPLIYAL
- مصنف, اپرنا الوری
- عہدہ, بی بی سی نیوز دلی
- وقت اشاعت
نیلم کرشنومورتی کے بچوں کو فلمیں دیکھنا پسند تھا، لیکن ایک دن سنیما کا ایک شو اس خاندان کی تباہی پر ختم ہوا اور اس کے بعد سے اب تک نیلم انصاف کے لیے لڑائی لڑ رہی ہیں۔
13 جون 1997 کی صبح نیلم کرشنامورتی نے دہلی سنیما ہال اپہار میں فون کر کے اس وقت کی مشہور بالی وڈ 'بارڈر' کے دو ٹکٹ بک کروائے۔ یہ فلم بھارت اور پاکستان کے مابین 1971 کی جنگ کے بارے میں بنائی گئی تھی۔ گرمیوں کی چھٹیاں تھیں اور ان کی 17 سالہ بیٹی اُننتی اور 13 سالہ بیٹا اُجوال یہ فلم دیکھنا چاہتے تھے اننتی کو فلموں کا اس حد تک شوق تھا کہ وہ فلم کے پہلے دن کا پہلا شو دیکھنا چاہتی تھی۔ اس لیے نیلم نے ان دونوں کے لیے ٹکٹ بک کروائے۔
پورے خاندان نے مل کر دوپہر کا کھانا کھایا۔ نیلم کو اس دن اپنے شوہر شیکھر کے ہاتھ کا پکایا ہوا مرغی کا سالن آج بھی یاد ہے۔ فلم میں جاتے وقت اننتی نے ماں کے گال پر ایک بوسہ دیا اور یہ وہ آخری وقت تھا جب نیلم نے اپنے بچوں کو مرنے سے پہلے آخری بار دیکھا تھا۔

،تصویر کا ذریعہMANSI THAPLIYAL
شام 4.55 بجے ، سنیما کی پارکنگ میں اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ دھواں سیڑھیوں سے سنیما ہال میں داخل ہو گیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ سنیما ہال کے نیچے بیٹھے لوگ جلدی سے باہر نکل آئے جبکہ اوپر کی منزل پر بیٹھے لوگ کھڑکیوں کے شیشے توڑ کر باہر کودے لیکن بہت سے لوگ اندر پھنس گئے۔ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں ٹریفک میں پھنس گئیں۔
کئی گھنٹوں بعد کرشنا مورتی کو اپنے بچوں کی خبر ملی وہ ہسپتال میں سٹریچرز سے بھرے کمرے میں داخل ہوئیں وہاں انہوں نے اننتی کی لاش کو پہچانا جبکہ ان کا بیٹا اُجوال چند فٹ کے فاصلے پر ایک اور سٹریچر پر تھا۔
وہ کہتی ہیں 'اس دن اور اس پل ان کی دنیا اجڑ گئی اور ان کا سب کچھ ختم ہو گیا'۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس آگ میں 59 افراد ہلاک ہوئے ، ان میں سے 23 بچے تھے، سب سے کم عمر ایک ماہ کا بچہ تھا جبکہ سو سے زیادہ زخمی ہوئے۔ یہ بھارت کے سب سے خوفناک آتشزدگیوں میں سے ایک ہے۔
جلدی ہی نیلم کو معلوم ہوا کہ ان کے بچوں کو بچایا جا سکتا تھا۔ اس احساس نے نیلم کو انصاف کی ایک طویل لڑائی پر مجبور کر دیا۔ کرشنا مورتھی کے ڈرائنگ روم میں اجول اور اننتی کی تصویریں اور سالگرہ کے کارڈ لگے ہوئے تھے۔ نیلم نے اپنی کافی ٹیبل سے ایک بھاری سی البم اٹھائی اور اسے پلٹ کر دیکھنے لگیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انہوں نے حسرت سے ایک تصویر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا 'یہ اجول کی گیارہویں سالگرہ کی تصویر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کے بچے ایک دوسرے کے بہت قریب تھے اور ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے کرشنا کا کہنا تھا کہ ان کے بچے بہت پر خلوص تھے۔‘
1997 میں اننتی کا سکول ختم ہو رہا تھا اور وہ کالج کے لیے بہت بیتاب تھی۔
اس کے بعد سے کرشنا نئے گھر میں شِفٹ ہو گئیں۔ لیکن انہوں نے اپنے بچوں کا کمرہ بلکل ویسا ہی تیار کیا ہے جیسا پہلے تھا۔ کسی کو بھی بچوں کے کمرے میں جانے کی اجازت نہیں ہے اس کمرے میں بچوں کی ہر چیز ویسے ہی رکھی گئی ہے جیسے وہ چھوڑ کر گئے تھے۔
کرشنا ہر روز ان کے کے کمرے میں جاتی ہیں ان کا کہنا ہے کہ وہ جب بھی پریشان ہوتی ہیں اپنے بچوں کے کمرے میں جا کر بیٹھ جاتی ہیں۔
نیلم نے اس فلم کے دونوں ٹکٹ بھی آج تک اپنے پاس رکھے ہیں جو اس دن کی دکھ بھری یاد ہے۔

،تصویر کا ذریعہMANSI THAPLIYAL
یہ ٹکٹ کنارے سے تھوڑے پھٹ چکے ہیں لیکن ان پر فلم کا وقت صاف دیکھا جا سکتا ہے جس پر جمعہ تین بجکر پندرہ منٹ لکھا ہوا ہے۔
کرشنا کہتی ہیں میں انہیں 'موت کا ٹکٹ کہتی ہوں' بطور ماں میں خود کو قصوروار ٹھراتی ہوں کیونکہ میں نے ہی یہ ٹکٹ بک کروائے تھے۔‘
کرشنا کے پاس اننتی کا وہ بیگ بھی ہے جو اننتی نے حادثے کے دن لے رکھا تھا۔یہ تمام چیزیں صحیح سلامت تھیں کیونکہ اجول اور اننتی جلے نہیں تھے۔
کچھ ہی دن بعد نیلم نے سوچنا شروع کیا کہ آخر سنیما حال میں کیا ہوا ہوگا۔
'میں سوچتی رہی کہ آخر کیوں صرف بالکونی کے ہی لوگ ہلاک ہوئے'۔
اننتی ، اُجوال اور دیگر تمام متاثرہ افراد مرکزی ہال کے اوپر بالکونی میں بیٹھے تھے۔
’جب میں نے اخبار پڑھے تو مجھے احساس ہوا کہ آگ بہت دیر پہلے شروع ہوچکی تھی لیکن فلم چلتی رہی اور انہیں آگاہ نہیں کیا گیا دروازے بند تھے اور گیٹ کیپر بھاگ گیا تھا تب مجھے احساس ہوا کہ یہ تمام لوگ بچ سکتے تھے۔

،تصویر کا ذریعہMANSI THAPLIYAL
آتشزدگی کی تحقیق سے پتہ چلا کہ واقعتاً ایسا ہی ہوا ہے۔
سنیما مالکان نے گذشتہ برسوں میں بالکونی میں 52 اضافی نشستیں شامل کیں تھیں جس سے آنے جانے کا راستہ تنگ ہو گیا تھا۔
اس کے علاوہ یہاں کوئی ایمرجنسی لائٹس یا فٹ لائٹس بھی نہیں تھیں۔ بالکونی سے بچ جانے والے افراد نے عدالت کو بتایا کہ وہ اندھیرے میں باہر نکلنے کے راستے میں ٹھوکر کھا رہے تھے۔ کچھ لوگوں نے وہاں موجود بند دروازے کو تھوڑا بہت کھولنے کی کوشش کی جس سے اندر دھواں بھر گیا اندر موجود افراد کاربن مونو آکسائیڈ کے سبب گُھٹ کر مر گئے۔
یہ نیلم کی 22 سالہ طویل قانونی لڑائی کا لب لباب ہے۔
انکوائری میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آتشزدگی کا سبب بسمنٹ میں لگا ٹرانسفارمر تھا جو صحیح طریقے سے نصب نہیں ہوا تھا ، جس سے آگ کا خطرہ بڑھ گیا تھا۔ اسی دن ایک اور آگ لگی تھی، جس پر جلدی قابو کر لیا گیا تھا ، لیکن ناقص مرمت کی وجہ سے دوسری بار جو آگ لگی وہ بہت خطرناک تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
نیلم کو جتنی زیادہ باتیں معلوم ہوتیں ہیں ان کا غصہ اتنا ہی بڑھتا جاتا ہے اور پھر انہوں نے فیصلہ کیا کہ انہیں اپنے بچوں کے لیے لڑنا ہی پڑے گا۔
'میں نے شیکھر سے کہا کہ میں اس حادثے کے لیے ذمہ دار لوگوں کو سزا دلوا کر انھیں جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھیجنا چاہتی ہوں'۔
عوامی تحفظ کے سلسلے میں ہندوستان کا مایوس کن ریکارڈ ہے اور اس طرح کے سانحے خطرناک حد تک عام ہیں۔ لیکن متاثرین کے گھر والے ذمہ داروں سے جواب طلب کرنے کے لیے آگے نہیں آتے۔
نیلم اور شیکھر نے اس حادثے سے متاثرہ خاندانوں کو جمع کرنے کا فیصلہ کیا۔ کچھ کا کہنا تھا کہ وہ زندگی میں آگے بڑھ چکے ہیں اور اپنے دوسرے بچے پر توجہ دینا چاہتے ہیں۔ لیکن نیلم اور شیکھر کے پاس یہ آپشن نہیں تھا۔
نیلم اور شیکھر کا کہنا تھا کہ جب آپ کے بچے زندہ ہوتے ہیں تو آپ سب کچھ اپنے بچوں کے لیے کرتے ہیں تو جب وہ نہیں ہیں تو ان کے لیے کچھ کرنا کیوں چھوڑ دیں'۔
ریاست نے سنیما حال اپہار میں لوگو ں کی موت کا ذمہ دار 16 افراد کو ٹھہرایا ۔ ان میں سنیما کا عملہ اور حفاظتی انسپکٹر شامل تھے جنہوں نے پوری عمارت میں واضح خلاف ورزیوں کو نظرانداز کیا۔ ان کے علاوہ اہم ملزمان میں سنیما کے مالک دو بھائی سشیل اور گوپال انسل تھے ۔

،تصویر کا ذریعہMANSI THAPLIYAL
نیلم اور شیکھر نے دیگر متاثرین کے اہل خانہ کے ساتھ مل کر ایک ایسوسی ایشن بنائی۔ نیلم نے سنیما ہالوں کے حفاظتی اصولوں سے لے کر فوجداری قانون تک ہر چیز کے بارے میں خود کو آگاہ کرنا شروع کیا۔
لمبی لڑائی کے بعد 2007 میں آخر کار عدالت نے تمام سولہ افراد کو قصور وار ٹھہرایا اس دوران ان میں سے چار پہلے ہی انتقال کر چکے تھے اور سزا بھی سات ماہ سے لے کر سات سال تک کی سنائی گئی تھی۔ انسل بھائیوں کو دو سال کی سزا سنائی گئی تھی۔
نیلم کا کہنا تھا کہ وہ حیران تھیں کہ 59 لوگوں کی موت کے ذمہ دار لوگوں کو صرف دو سال قید کی سزا سنائی گئی۔
ان کا کہنا ہے کہ ان کے بچے ہی انھیں آگے چلنے کی طاقت دیتے ہیں
انکا کہنا تھا کہ سنیما کے مالکان کی حیثیت سے ، انہوں نے جو فیصلے کیے تھے وہ مہلک ثابت ہوئے، اس بنیاد پر وہ ان پر سنگین جرم کا الزام عائد کرنے کی لڑائی لڑ رہی تھی۔
لیکن جب انہوں نے اس سزا کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تو یہ سزا آدھی رہ گئی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لہذا انھوں نے سپریم کورٹ میں اپیل کی، جس نے 2015 میں اپنا فیصلہ سنایا تھا۔ اور اس بار انسل بھائیوں کی سزآ کو ختم کر کے ان پر چار چار ملین ڈالر کا جرمانہ عائد کر دیا گیا۔
اس دن کو یاد کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں، میں نے تمام دستاویزات عدالت میں ہی پھینک دیں۔ اس روز میں بلک بلک کر روئی اور ایسا پہلی مرتبہ تھا جب میں سر عام اس طرح روئی تھی۔
وہ کہتی ہیں کہ اس دن وہ اور شیکھر بچوں کے کمرے نہیں جا سکے۔ انہوں نے ساری رات ڈرائنگ روم میں گزاری اور سوچتے رہے کہ انہوں نے کہاں غلطی کی یا انہیں کیا کچھ کرنا چاہیے تھا۔
وہ کہتی ہیں کہ یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس سے عدلیہ پر ان کا اعتماد ہلا دیا تھا۔ لیکن آخرکار وہ ایک اور اپیل کے لیے سپریم کورٹ میں واپس گئیں۔
اس بار عدالت نے گوپال انسل کو ایک سال جیل میں رہنے کا حکم دیا۔ اس وقت 77 سال کے سشیل انسل کو عمر زیادہ ہونے کے سبب رہا کیا گیا تھا۔
اب نیلم کے پاس ایک اور چیلنج باقی ہے۔ اس نے دوبارہ سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے، اور جواب دہندگان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کی اصل سزا کے پورے دو سال جیل میں گذارے۔ کیونکہ ان میں سے کسی نے بھی دو سال جیل میں نہیں گذارے ہیں۔ وہ نہیں جانتی کہ عدالت اپنی سماعت کب شروع کرے گی۔

،تصویر کا ذریعہMANSI THAPLIYAL
ان سالوں میں ، نیلم کو یہ کیس زبانی یاد ہو گیا ۔ ہر آرڈر، اپیل ، فیصلے اور دستاویزات جو اس کے گھر کے دفتر میں بھرے پڑے ہیں۔
وہ کہتی ہیں کہ وہ گن چکی ہیں کہ شیکھر نے اور انہوں نے کتنی سماعتوں میں شرکت کی ہے۔ وہ اب بھی ہر دوسرے دن عدالتوں میں گھنٹوں گزارتی ہیں۔
آخر وہ اتنی لمبی لڑائی کس طرح لڑ پائیں اس بارے میں نیلم کہتی ہیں کہ انہوں نے اپنے بچوں کو انصاف دلوانے کا جو وعدہ کیا تھا وہی ان کی طاقت ہے حالانکہ کئی بار لگا ہے کہ جیسے وہ اپنے بچوں سے کیا ہوا وعدہ نہیں نبھا پائیں۔
نیلم کہتی ہیں کہ اگر مجھے دوبارہ یہ طویل لڑائی لڑنے کا موقع ملا تو 'میں بندوق اٹھا کر ان لوگوں کو گولی مار دونگی جو میرے بچوں کی موت کے ذمہ دار ہیں کیونکہ میں اس جہنم سے دوبارہ نہیں گذرنا چاہتی۔‘
خستہ حال اپہار سینما اب بھی وہیں کھڑا ہے۔ یہ 22 سال پہلے کے سانحے کے نشانات ہے۔ جب تک جج نیلم کے حتمی چیلنج پر فیصلہ نہیں دیتے تب تک اس کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔
نیلم اس عمارت کی جانب پیٹھ موڑ کر کھڑی تھیں۔ ان کا کہنا تھا میں یہاں آنے پر اس عمارت کو دیکھنے کی کوشش بھی نہیں کرتی۔ یہاں میرا بینک ہے اور میں نے تقریباً 12 سال سے اس کا دورہ نہیں کیا۔
اوپہار کے اس پار ایک چھوٹا سا پارک ہے جس میں گول گرینائٹ فاؤنٹین ہے جو آگ کے متاثرین کی یادگار ہے۔
نیلم اپنے بچوں کی سالگرہ اور آگ کی سالگرہ کے موقع پر سال میں تین بار پارک کا دورہ کرتی ہیں۔ وہ سیدھے میموریل پر جاتی ہے ، اس جگہ کو چھوتی ہے جہاں اننتی اور اوجوول کے نام لکھے ہوئے ہیں ۔
ان کا کہنا ہے میں ان کے لیے دعا کرتی ہوں لیکن محسوس ہوتا ہے کہ ان کی روح کو ابھی سکون میں نہیں ملا ہے'۔























